Posted by: Bagewafa | اکتوبر 1, 2010

رستے جوان ہے۔۔۔محمدعلی وفا

 

رستے جوان ہے۔۔۔محمدعلی وفا 

 

کھندہر سا شہر ہو گیا رستے جوان ہے

ہے پرانی تقتیاںسب اور نیے نام  ہے

 

روتا رہا وہ باغ باں اُجڑی بہار پر

پتّے پتّے پر کُنندہ ایک بیان ہے

 

اُنکی نظر کا فاصلہ دوری نَ لا سکا

برسوں ہوئے اِس جخم کو پھر بھی جوان ہے

 

اب کیسے بُجھائےں اُسے کُچھ مشورہ تو دو

پانی میں لگی آگ اور اُسمین مکان ہے

 

ہونا تھا وہ ہو گیا اور ہم دیکھتے رہے

دینوں ایماں عزّت لوتی اور بھندھ زبان ہے

 

مظلوم ٹرپتا رہا دہلیز پر اُنکی

جان آخر دی جھاں دل کی دُکان ہے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: