Posted by: Bagewafa | نومبر 11, 2011

چور سے ولی تک– مولانا ابوالکلام آزاد

  

چور سے ولی تک– مولانا ابوالکلام آزاد

 

گرمیوں کا موسم ہے۔ آدھی رات گزر چکی ہے۔ مہینہ کی آخری راتیں ہیں۔ بغداد کے آسمان پر ستاروں کی مجلس شبینہ آراستہ ہے ، مگر چاند کے برآمد ہونے میں ابھی دیر ہے۔ دجلہ کے پار، کرخ کی تمام آبادی نیند کی خاموشی اور رات کی تاریکی میں گم ہے۔

 

اچانک تاریکی میں ایک متحرک تاریکی نمایاں ہوئی، سیاہ لبادے میں لپٹا ہوا ایک آدمی خاموشی اور آہستگی کے ساتھ جا رہا ہے۔ وہ ایک گلی سے مڑ کر دوسری گلی میں پہنچا اور ایک مکان کے سائبان کے نیچے کھڑا ہوا۔ اب اس نے سانس لی، گویا یہ مدت کی بند سانس تھی جسے اب آزادی سے ابھر نے کی مہلت ملی ہے۔ پھر اس نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی۔ یقینا تین پہر رات گزر چکی ہے۔ وہ اپنے دل میں کہنے لگا: کیا بدنصیبی ہے کہ جس طرف رخ کیا، ناکامی ہی ہوئی۔ ایک پوری رات اسی طرح ختم ہوجائے گی۔ یہ خوفناک سایہ ابن ساباط ہے جو دس برس کی طویل زندگی قید خانہ میں بسر کر کے اب کسی طرح نکل بھاگا ہے ا ور نکلنے کے ساتھ ہی اپنا قدیم پیشہ از سر نوع شروع کر رہا ہے۔ یہ اس کی نئی مجرمانہ زندگی کی پہلی رات ہے ، اس ليے وقت کے بے نتیجہ ضائع جانے پر اس کا بے صبر دل پيچ و تاب کھا رہا ہے۔ اس نے ہر طرف کی آہٹ لی، زمین سے کان لگا کر دور دور کی صداؤں کا جائزہ لیا اور مطمئن ہو کر آگے بڑھا۔ کچھ دور چل کر اس نے دیکھا کہ ایک احاطہ کی دیوار دور تک چلی گئی ہے اور وسط میں بہت بڑا پھاٹک ہے۔ کرخ کے اس علاقہ میں زیادہ تر امرا کے باغ تھے یا سوداگروں کے گودام تھے ، اس نے خیال کیا کہ یہ احاطہ یا تو کسی امیر کا باغ ہے یا کسی سوداگر کا گودام۔ وہ پھاٹک کے پاس پہنچ کر رک گیا اور سوچنے لگا اندر کیونکر جائے، اس نے آہستگی سے دروازہ پر ہاتھ رکھا لیکن اسے نہایت تعجب ہوا کہ دروازہ اندر سے بند نہیں تھا ، صرف بھڑا ہوا تھا۔ ایک سیکنڈ کے اندر ابن ساباط کے قدم احاطہ کے اندر پہنچ گئے۔

 

اس نے دہلیز سے قدم آگے بڑھایا تو ایک وسیع احاطہ نظر آیا۔ اس کے مختلف گوشوں میں چھوٹے چھوٹے حجرے بنے ہوئے تھے اور وسط میں ایک نسبتاً بڑی عمارت تھی۔ یہ درمیانی عمارت کی طرف بڑھا، عجیب بات ہے کہ اس کا دروازہ بھی اندر سے بند نہ تھا۔ چھوتے ہی کھل گیا۔ گویا وہ کسی کی آمد کا منتظر تھا۔ اندر جا کر دیکھا تو ایک وسیع ایوان تھا۔ لیکن قیمتی اشیا کا نام و نشان نہ تھا۔ صرف ایک کھجور کے پتوں کی پرانی چٹائی بچھی تھی اور ایک طرف چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا۔ البتہ ایک گوشہ میں پشمینہ کے موٹے کپڑے کے تھان اس طرح بے ترتیب پڑے تھے ، گویا کسی نے جلدی میں پھینک ديے ہیں اور ان کے قریب ہی بھيڑ کی کھال کی چند ٹوپياں پڑی تھيں۔ اس نے مکان کے موجودات کا یہ پورا جائزہ کچھ تو اپنی اندھيرے میں دیکھ لینے والی آنکھوں سے لے لیا تھا اور کچھ اپنے ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کر، لیکن اس کا ہاتھ ایک ہی تھا۔ یہ بغداد والوں کی بول چال میں ”ایک ہاتھ کا شیطان” تھا جو اب پھر قید و بند کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہو گیا تھا۔ دس برس کی قید کے بعد آج ابن ساباط کو پہلی مرتبہ موقع ملا تھا کہ اپنے دل پسند کام کی جستجو میں آزادی کے ساتھ نکلے۔ جب اس نے دیکھا اس مکان میں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے اور یہ پہلا قدم بے کار ثابت ہوگا ، اس کے تیز اور بے لگام جذبات سخت مشتعل ہو گئے۔ وہ دل ہی دل میں اس مکان میں رہنے والوں کو گالیاں دینے لگا جو اپنے مکان میں رکھنے کے لیے قیمتی اشیا فراہم نہ کر سکے۔ ایک مفلس کا افلاس خود اس کے ليے اس قدر درد انگیز نہیں ہوتا جس قدر اس چور کے ليے ، جو رات کے پچھلے پہر مال و دولت تلاش کرتا ہوا پہنچتا ہے۔ اس میں شک نہیں پشمینہ کے بہت سے تھان یہاں موجود تھے اور وہ کتنے ہی موٹے اور ادنی قسم کے کیوں نہ ہوں مگر پھر بھی اپنی قیمت رکھتے تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ ابن ساباط تنہا ہی نہیں تھا بلکہ دو ہاتھوں کی جگہ ایک ہاتھ رکھتا تھا۔ وہ ہزار ہمت کرتا مگر اتنا بڑا بوجھ اس کے سنبھالے سنبھل نہیں سکتا تھا۔ وہ تھانوں کی موجودگی پر معترض نہ تھا ، ان کے وزن کی گرانی اور اپنی مجبوری پر متاسف تھا۔ اتنی وزنی چیز چرا کر لے جانا آسان نہ تھا۔

ایک ہزار لعنت کرخ اور اس کے تمام باشندوں پر” وہ اندر ہی اندر بڑبڑانے لگا۔ ”نہیں معلوم یہ کون احمق ہے جس نے یہ ملعون تھان جمع کر رکھے ہیں؟ غالباً کوئی تاجر ہے ، لیکن یہ عجیب طرح کا تاجر ہے جسے بغداد میں تجارت کرنے کیليے اور کوئی چیز نہیں ملی۔ اتنا بڑا مکان بنا کر اس میں گدھوں اور خچروں کی جھول بنانے کا سامان جمع کر دیا ہے۔” اس نے ایک ہی ہاتھ سے ایک تھان کی ٹٹول ٹٹول کر پیمائش کی۔ بھلا یہ ملعون بوجھ کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے۔ ایک تھان اٹھانے کے لیے گن کر دس گدھے ساتھ لانے چاہےيں۔ لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔ رات جا رہی تھی اور اب وقت نہ تھا کہ دوسری جگہ تاکی جاتی۔ اس نے جلدی سے ایک تھان کھولا اور فرش پر بچھا دیا۔ پھر کوشش کی۔ زیادہ سے زیادہ تھان جو اٹھائے جا سکتے ہیں اٹھا لے۔ مشکل یہ تھی کہ مال کم قیمت مگر بہت زیادہ وزنی تھا۔ کم لیتا ہے تو بیکار ہے ، زیادہ لیتا ہے تو لے جا نہیں سکتا۔ عجیب طرح کی کشمکش میں گرفتار تھا۔ بہرحال کسی نہ کسی طرح یہ مرحلہ طے ہوا لیکن اب دوسری مشکل پيش آئی، صوف کا کپڑا بے حد موٹا تھا اسے مروڑ دے کر گرہ لگانا آسان نہ تھا۔ دونوں ہاتھوں سے بھی یہ کام مشکل تھا چہ جائیکہ ایک ہاتھ سے! بلاشبہ اس کے پاس ہاتھ کی طرح پاؤں ایک نہ تھا ، دو تھے، لیکن وہ بھاگنے میں تو مدد دے سکتے تھے ، صوف کی گٹھڑی بنانے میں سود مند نہ تھے۔ اس نے بہت سی تجویزیں سوچيں۔ طرح طرح کے تجربے کیے ، دانتوں سے کام لیا۔ کٹی ہوئی کہنی سے سرا دبایا، لیکن کسی بھی طرح گٹھڑی میں گرہ نہ لگ سکی۔ وقت کی مصیبتوں میں تاریکی کی شدت نے اور زیادہ اضافہ کر دیا تھا۔ اندرونی جذبات کے ہیجان اور بیرونی فعل کی بے سود محنت نے ابن ساباط کو بہت جلد تھکا دیا۔ وقت کی کمی ، عمل کا قدرتی خوف ، مال کی گرانی، محنت کی شدت اور فائدہ کی قلت ، اس کے دماغ میں تمام مختلف تاثرات جمع ہو گئے۔

 

اچانک وہ چونک اٹھا ، اس کی تیز قوت سماعت نے کسی کے قدموں کی نرم آہٹ محسوس کی۔ ایک لمحہ تک خاموشی رہی۔ پھر ایسے محسوس ہوا جیسے کوئی آدمی دروازہ کے پاس کھڑا ہے۔ ابن ساباط گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر قبل اس کے کہ وہ کوئی حرکت کر سکے ، دروازہ کھلا اور روشنی نمایاں ہوئی ، خوف اور دہشت سے اس کا خون منجمد ہو گیا۔ جہاں کھڑا وہیں قدم گڑ گئے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک شخص کھڑا ہے ، اس کے ہاتھ میں شمع دان ہے اور اس نے اس طرح اونچا کر رکھا ہے کہ کمرے کے تمام حصے روشن ہو گئے ہیں۔

 

اس شخص کی وضع قطع سے اس کی شخصیت کا اندازہ کرنا مشکل تھا ، ملگجے رنگ کی ایک لمبی عبا اس کے جسم پر تھی جسے کمر کے پاس ایک موٹی سی رسی لپيٹ کر جسم پر چست کر لیا تھا۔ سر پر سیاہ قلنسو (اونچی دیوار کی ٹوپی) تھی ، اور اس قدر کشادہ تھی کہ اس کے کنارے ابروؤں کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جسم نہایت نحیف تھا۔ اتنا نحیف کہ صوف کی موٹی عبا پہننے پر بھی اندر کی ابھری ہوئی ہڈیاں صاف صاف دکھائی دے رہی تھيں اور قد کی درازی نے ، جس سے کمر کے پاس خفیف سی خمیدگی پیدا ہو گئی تھی ، یہ نحافت اور زیادہ نمایاں کر دی تھی۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کی جسم کی اس غیر معمولی نحافت کا کوئی اثر اس کے چہرہ پر نظر نہیں آتا تھا۔ اتنا کمزور جسم رکھنے پر بھی اس کا چہرہ کچھ عجیب طرح کی تاثیر و گیرائی رکھتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ہڈیوں کے ایک ڈھانچے پر ایک شاندار اور دل آویز چہرہ جوڑ دیا گیا ہے۔ رنگت زرد تھی۔ رخسار بے گوشت تھے۔ جسمانی تنومندی کا نام و نشان نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی چہرہ کی مجموعی ہیبت میں کوئی ایسی شاندار چیز تھی کہ دیکھنے والا محسوس کرتا تھا ، ایک نہایت طاقتور چہرہ اس کے سامنے ہے ، خصوصاً اس کی نگاہیں ایسی روشن ، ایسی مطمئن ، اسی ساکن تھيں کہ معلوم ہوتا تھا دنیا کیا ساری راحت اور سکون انہی دو حلقوں کے اندر سما گیا ہے۔ چند لمحوں تک یہ شخص شمع اونچی کيے ابن ساباط کو دیکھتا رہا ، پھر اس طرح آگے بڑھا گویا اسے جو کچھ سمجھنا تھا ، سمجھ چکا ہے۔ اس کے چہرہ پر ہلکا سا زیر لب تبسم تھا۔ ایسا دل آویز اور شیریں تبسم جس کی موجودگی انسانی روح کے سارے اضطراب اور خوف دور کر سکتی ہے۔ اس نے شمع دان ایک طرف رکھ دیا اور ایک ایسی آواز میں جو شفقت و ہمدردی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ابن ساباط سے کہا:

میرے دوست! تم پر خدا کی سلامتی ہو ، جو کام تم کرنا چاہتے ہو۔ یہ بغیر روشنی اور ایک رفیق کے انجام نہیں پا سکتا۔ دیکھو ، یہ شمع روشن ہے اور میں تمہاری رفاقت کے ليے موجود ہوں ، روشنی میں ہم دونوں اطمینان اور سہولت کے ساتھ یہ کام انجام دے لیں گے۔

 

وہ ایک لمحہ کے لیے رکا جیسے کچھ سوچنے لگا ہے ، پھر اس نے کہا ، میں دیکھتا ہوں ، تم بہت تھک گئے ہو ، تمہاری پيشانی پسینہ سے تر ہو رہی ہے ، یہ گرم موسم ، بند کمرہ ، تاریکی اور تاریکی میں ا یسی سخت محنت۔ افسوس انسان کو اپنے رزق کے ليے کیسی کیسی زحمتیں برداشت کرنا پڑتی ہيں۔ دیکھو ! یہ چٹائی بچھی ہوئی ہے ، یہ چمڑے کا تکیہ ہے۔ ميں اسے دیوار کے سامنے لگا دیتا ہوں۔ اس نے تکیہ دیوار کے ساتھ لگا کر رکھ دیا۔ ”بس ٹھیک ہے۔ ا ب تم اطمینان کے ساتھ ٹیک لگا کر یہاں بيٹھ جاؤ اور اچھی طرح سستا لو ، اتنی دیر میں تمہارا ادھورا کام پورا کیے دیتا ہوں۔

 

اس نے یہ کہا اور ابن ساباط کے کاندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر اسے بیٹھ جانے کا مشورہ دیا، پھر جب اس کی نظر دوبارہ اس کی عرق آلود پیشانی پر پڑی تو اس نے اپنی کمر سے رومال کھولا اور اس کی پيشانی کا پسینہ پونچھ ڈالا۔ جب وہ پسینہ پونچھ رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں باپ کی شفقت او رہاتھوں میں بھائی کی محبت کام کر رہی تھی۔

 

صورت حال کے یہ تمام تغیرات اس تیزی سے ظہور میں آئے کہ ابن ساباط کا دماغ مختل ہو کر رہ گیا۔ وہ کچھ یہ سمجھ سکا کہ معاملہ کیا ہے۔ ایک مدہوش اور بے ارادہ آدمی کی طرح اس نے دیکھا کہ اجنبی نے کام شروع کردیا۔ اس نے پہلے وہ گھٹڑی کھولی جو ابن ساباط نے باندھنی چاہی تھی مگر نہیں بندھ سکی تھی۔ پھر دو تھان کھول کر بچھا ديے اور جس قدر بھی تھان موجود تھے ان سب کو دو حصوں میں منقسم کر دیا۔ ایک حصہ میں زیادہ تھے اور ایک حصہ میں کم۔ پھر دونوں کی الگ الگ دو گٹھڑیاں باندھ لیں ، یہ تمام کام اس نے اس اطمینان اور سکون کے ساتھ کیا کہ اس میں اس کے ليے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا ، اس نے اپنی عبا اتاری اور اسے بھی گٹھڑی کے اندررکھ دیا۔ اب وہ اٹھا اور ابن ساباط کے قریب گیا۔ ”میرے دوست! تمہارے چہرے کی پژمردگی سے معلوم ہوتا ہے کہ تم صرف تھکے ہوئے ہی نہیں بلکہ بھوکے بھی ہو، بہتر ہو گا کہ چلنے سے پہلے دودھ کا ایک پیالہ پی لو۔ اگر تم چند لمحے انتظار کر سکو تو میں د ودھ لے آؤں۔” اس نے کہا، جبکہ اس کے پر شکوہ چہرے پر بدستور مسکراہٹ کی دل آویزی موجود تھی۔ ممکن نہ تھا کہ اس مسکراہٹ سے انسانی قلب کے تمام اضطراب محو نہ ہو جائیں۔ قبل اس کے کہ ابن ساباط جواب دے وہ تیزی کے ساتھ لوٹا اور باہر نکل گیا۔

 

اب ابن ساباط تنہا تھا لیکن تنہا ہونے پر بھی اس کے قدموں میں حرکت نہ ہوئی ، اجنبی کے طرز عمل میں کوئی ایسی بات نہ تھی جس سے اس کے اندر خوف پیدا ہوتا وہ صرف متحیر او رمبہوت تھا ، اجنبی کی ہستی او راس کا طور طریقہ ایسا عجیب و غریب تھا کہ جب تک وہ موجود رہا ، ابن ساباط کو تحیر و تاثر نے سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی نہ دی۔ اب وہ تنہا ہوا تو آہستہ آہستہ اس کا دماغ اپنی اصلی حالت پر واپس آنے لگا۔ یہاں تک کہ دماغ کے تمام خصائل پوری طرح ابھر آئے اور وہ اس روشنی میں معلومات کو دیکھنے لگا جس روشنی میں دیکھنے کا ہمیشہ عادی تھا۔

 

وہ جب اجنبی کا متبسم چہرہ اور دل نواز صدائیں یاد کرتا تو شک اور خوف کی جگہ اس کے اند ایک ایسا ناقابل فہم جذبہ پیدا ہو جاتا جو آج تک اسے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا ، لیکن پھر بھی وہ سوچتا کہ اس تمام معاملہ کا مطلب کیا ہے اور یہ شخص کون ہے؟ تو اس کی عقل حیران رہ جاتی او رکوئی بات سمجھ میں نہ آتی۔ اس نے اپنے دل میں کہا یہ تو قطعی ہے کہ یہ شخص اس مکان کا مالک نہیں ہو سکتا۔ مکان کے مالک کبھی چوروں کا استقبال نہیں کیا کرتے۔ ”۔۔۔۔۔۔ مگر پھر یہ شخص ہے کون۔۔۔۔۔۔؟

 

اچانک ایک نیا خیال اس کے اندر پیدا ہوا۔ وہ ہنسا۔ ”استغفر اللہ ! میں بھی کیا احمق ہوں۔ یہ بھی کوئی سوچنے اور حیران ہونے کی بات تھی۔ معاملہ بالکل صاف ہے۔ تعجب ہے مجھے پہلے خیال کیوں نہیں ہوا؟ یقینا یہ بھی کوئی میرا ہی ہم پيشہ آدمی ہے اور اسی نواح میں رہتا ہے۔ اتفاقات نے آج ہم دونوں چوروں کو ایک ہی مکان میں جمع کر دیا ہے۔ چونکہ یہ اسی نواح کا آدمی ہے اس ليے یہ اس مکان کے تمام حالات سے واقف ہو گا ، اسے معلوم ہو گا کہ آج مکان رہنے والوں سے خالی ہے اور بہ اطمینان کام کرنے کا ہے۔ اس ليے وہ روشنی کا سامان ساتھ لیکر آیا ، لیکن جب دیکھا کہ میں پہلے سے پہنچا ہوا ہوں تو آمادہ ہو گیا کہ میرا ساتھ دے کر ایک حصہ کا حق دار بن جائے ۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی سوچ رہا تھا کہ دروازہ کھلا اور اجنبی ایک لکڑی کا بڑا پیالہ ہاتھ میں لیے نمودار ہوا۔

یہ لو! ميں تمہارے ليے دودھ لے آیا ہوں ، اسے پی لو یہ بھوک او رپياس دونوں کے لیے مفید ہوگا۔ ” اس نے کہا اور پیالہ ابن ساباط کو پکڑا دیا۔ ابن ساباط واقعی بھوکا پیاسا تھا ، اس نے بلا تامل پيالہ منہ سے لگا لیا اور ایک ہی مرتبہ ختم کر دیا۔ اب اسے معاملہ کی فکر ہوئی۔ اتنی دیر کے وقفہ نے اس کی طبیعت بحال کر دی تھی۔

دیکھو اگرچہ میں تم سے پہلے پہنچ چکا تھا او رہاتھ لگا چکا تھا اور اس ليے ہم لوگوں کے قاعدہ کے موجب تمہارا کوئی حق نہیں ، لیکن تمہاری ہوشیاری اور مستعدی دیکھ لینے کے بعد مجھے کوئی تامل نہیں کہ تمہیں بھی اس مال میں شریک کر لوں، اگر تم پسند کرو گے تو میں ہمیشہ کے ليے تم سے معاملہ کر لوں گا۔ لیکن دیکھو ! یہ میں کہے دیتا ہوں کہ آج جو کچھ یہاں سے لے جائیں گے اس میں تم برابر کا حصہ نہیں پاسکتے کیونکہ دراصل آج کا کام میرا ہی کام تھا۔” اس نے صاف آواز میں کہا ، اس کی آواز میں تاثر نہیں تھا ، تحکم تھا۔ اجنبی مسکرا دیا، اس نے ابن ساباط پر ایک ایسی نظر ڈالی جو اگرچہ شفقت و مہر سے خالی نہ تھی لیکن اس کے علاوہ بھی اس میں کوئی چیز تھی جسے ابن ساباط نہ سمجھ سکا۔ اس نے خیال کیا شاید یہ شخص اس طرح تقسیم پر قانع نہیں ہے ، اچانک اس کی آنکھوں میں اس کی خوفناک درندگی چمک اٹھی ، وہ غصہ سے مضطرب ہو کر کھڑا ہو گیا۔

بے وقوف! چپ کیوں ہے ، یہ نہ سمجھنا کہ دودھ کا پیالہ پلا کر اور چکنی چپڑی باتیں کر کے تم مجھے احمق بنا لو گے۔ تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟ مجھے کوئی ا حمق نہیں بنا سکتا ، میں ساری دنیا کو احمق بنا چکا۔ بولو اس پر راضی ہو یا نہیں ؟ اگر نہیں ہو تو ۔۔۔۔۔۔

 

لیکن ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ اجنبی کے لب متحر ک ہوئے ، اب بھی اس کے لبوں سے مسکراہٹ نہیں ہٹی تھی۔

میرے عزیز دوست! کیوں بلاوجہ اپنی طبیعت آرزدہ کرتے ہو ؟ آؤ یہ کام جلد نبٹا لیں جو ہمارے سامنے ہے۔ میں نے دو گٹھڑیاں باندھ لی ہیں۔ ایک چھوٹی ہے ایک بڑی ، تمہارا ایک ہاتھ ہے اس ليے تم زیادہ بوجھ نہیں سنبھال سکتے لیکن میں دونوں ہاتھوں سے سنبھال لوں گا۔ چھوٹی گٹھری تم اٹھا لو ، بڑی میں اٹھا لیتا ہوں۔ باقی رہا میرا حصہ جس کے خیال سے تمہیں اتنی آزردگی ہوئی ہے ، میں بھی نہیں چاہتا کہ اس وقت اس کا فیصلہ کروں۔ تم نے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔ تم ہمیشہ کے ليے مجھ سے فیصلہ لے سکتے ہو، مجھے بھی ایسا ہی معاملہ پسند ہے۔ میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے معاملہ کر لو۔

ہاں اگر یہ بات ہے تو پھر سب ٹھیک ہے۔ تمہیں ابھی معلوم نہیں میں کون ہوں؟

 

پورے ملک میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی سردار نہیں ۔۔۔۔۔۔مل سکتا۔اس نے بڑی گٹھڑی اٹھانے میں اجنبی کو مدد دیتے ہوئے کہا۔

 

یہ گٹھڑی اس قدر بھاری تھی کہ ابن ساباط اپنی حیرانی نہ چھپا سکا۔ وہ اگرچہ نئے نئے رفیق کی زیادہ جرات افزائی کرنا پسند نہیں کرتا تھا پھر بھی اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا۔دوست! تم دیکھنے میں تو بڑے دبلے پتلے ہو لیکن بوجھ اٹھانے میں بڑے مضبوط نکلے۔ساتھ ہی اس نے اپنے دل میں کہا: ”یہ جتنا مضبوط ہے اتنا عقل مند نہیں ہے ، ورنہ اپنے حصے سے دست بردار نہ ہوجاتا، اگر آج یہ احمق نہ مل جاتا تو مجھے سارا مال چھوڑ کر صرف ایک دو تھان پر قناعت کرلینا پڑتی۔

 

اب ابن ساباط نے اپنے گٹھڑی اٹھائی جو بہت ہلکی تھی اور دونوں باہر نکلے۔ اجنبی کی پيٹھ جس میں پہلے سے خم موجود تھا اب گٹھڑی کے بوجھ سے بالکل ہی جھک گئی تھی۔ رات کی تاریکی میں اتنا بھاری بوجھ اٹھا کر چلنا نہایت دشوار تھا۔ لیکن ابن ساباط کو قدرتی طور پر جلدی تھی ، وہ بار بار حاکمانہ انداز سے اصرار کرتا کہ تیز چلو اور چونکہ خود اس کا اپنا بوجھ بہت ہلکا تھا اس ليے وہ خود تیز چلنے میں کس طرح کی دشواری محسوس نہیں کرتا تھا۔ اجنبی تعمیل حکم کی پوری کوشش کرتا لیکن بھاری بوجھ اٹھا کر دوڑنا انسانی طاقت سے باہر تھا۔ اس ليے پوری کوشش کرنے پر بھی زیادہ تیز نہیں چل سکتا تھا۔ کئی مرتبہ ٹھوکریں لگيں بارہا بوجھ گرتے گرتے رہ گیا۔ ایک مرتبہ اتنی سخت چوٹ کھائی کہ قریب تھا کہ گر جائے۔ پھر بھی اس نے رکنے کا ، سستانے کا نام نہ لیا۔ گرتا پڑتا اپنے ساتھی کے ساتھ بڑھتا ہی گیا لیکن ابن ساباط اس پر بھی خوش نہ تھا، اس نے پہلے تو ایک دو مرتبہ اسے تیز چلنے کا حکم دیا۔ پھر بے تامل گالیوں پر اتر آیا۔ ہر لمحہ کے بعد اسے ایک سخت گالی دیتا اور کہتا۔ تیز چلو ! اتنے میں ایک پل آگیا۔ یہاں چڑھائی تھی ، جسم کمزور او رتھکا ہوا۔ بوجھ بے حد بھاری ، اجنبی سنبھل نہ سکا اوربے اختیار گر پڑا۔ ابھی وہ اٹھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اوپر سے ایک سخت لات پڑی۔ یہ ابن ساباط کی لات تھی۔ اس نے غضب ناک ہو کرکہا : ”اگر اتنا بوجھ سنبھال نہیں سکتا تھا تو لاد کر لایا کیوں؟” اجنبی ہانپتا ہوا اٹھا ، اس کے چہرے پر درد و نقاہت کی جگہ شرمندگی کے آثار پائے جاتے تھے۔ اس نے فوراً گٹھڑی اٹھا کر پيٹھ پر رکھی اور پھر روانہ ہوا۔

 

اب یہ دونوں شہر کے کنارے ایک حصہ میں پہنچ گئے جو بہت ہی کم آباد تھا۔ یہاں ایک ناتمام عمارت کا پرانا او رشکستہ احاطہ تھا۔ ابن ساباط اس احاطہ کی جانب پہنچ کر رک گیا اوراجنبی نے باہر سے دونوں گٹھڑیاں اندر پھینک دیں اس کے بعد اجنبی بھی کود کر اندر ہو گیا۔۔۔۔۔۔ عمارت کے نیچے ایک پرانا سرداب(تہہ خانہ) تھا جس میں ابن ساباط نے قید خانے سے نکل پناہ لی تھی لیکن اس وقت وہ سرداب ميں نہیں اترا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس اجنبی پر ابھی اس درجہ کا اعتماد کرے کہ اسے اپنا اصل مقام محفوظ دکھلا دے۔

 

جس جگہ یہ دونوں کھڑے تھے دراصل وہ ایک ناتمام ایوان تھا۔ یا تو اس پر پوری چھت ہی نہ پڑی تھی یا پڑی تھی تو امتداد وقت سے شکستہ ہو کر گر پڑی تھی۔ ایک طرف بہت سے پتھروں کا ڈھیر تھا۔ ابن ساباط انہی پتھروں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ دونوں گٹھڑیاں سامنے دھری تھيں۔ ایک گوشہ میں اجنبی کھڑا ہانپ رہا تھا۔ کچھ دیر تک خاموشی رہی۔

 

یکایک اجنبی بڑھا اور ابن ساباط کے سامنے آکر کھڑا ہو گيا ، اب رات ختم ہونے کو تھی ، پچھلے پہر کا چاند درخشاں تھا ، کھلی چھت سے اس کی شعاعیں ایوان کے اندر پہنچ رہی تھيں۔ ابن ساباط دیوار کے سائے میں تھا لیکن اجنبی جو اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا تھا ، ٹھیک چاند کے مقابل تھا۔ اس ليے اس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ابن ساباط کو تاریکی میں ا یک درخشاں، ایک نورانی تبسم نے ایک ایسے عالم کی جھلک دکھا دی جو اب تک اس کی نگاہوں سے پوشیدہ تھی ، اس کی ساری زندگی گناہ اور سیہ کاری میں بسر ہوئی تھی ، اس نے انسانوں کی نسبت جو کچھ دیکھا سنا تھا وہ یہی تھا کہ انسان خود غرضی کا پتلا اور نفس پرستی کی مخلوق ہے۔ وہ نفرت سے منہ پھیر لیتا ہے۔ بے رحمی سے ٹھکرا دیتا ہے۔ سخت سے سخت سزائیں دیتا ہے ، لیکن ۔۔۔۔۔۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ محبت بھی کرتا ہے او راس میں فیاضی ، بخشش اور قربانی کی روح ہو سکتی ہے۔ بچپن میں اس نے بھی خدا کا نام سنا تھا اور خدا پرستی کرتے دیکھا تھا ، لیکن جب زندگی کی کشائش کا میدان سامنے کھلا تو اس کا عالم ہی دوسرا تھا، اس نے قدم اٹھایا اور حالات کی رفتار جس طرف لے گئی ، بڑھے گیا۔

 

نہ تو خود اسے کبھی مہلت ملی کہ خدا پرستی کی طرف متوجہ ہوتا او رنہ انسانوں نے کبھی اس کی ضرورت محسوس کی کہ اسے خدا سے آشنا کرتے۔ جوں جوں اس کی شقاوت بڑھتی گئی سوسائٹی نے اپنی سزا بھی بڑھادی۔ سوسائٹی کے پاس اس کی شقاوت کے ليے بے رحمی تھی۔ اس ليے یہ بھی دنیا کی ساری چیزوں میںسے بے رحمی کا خوگر ہو گیا۔

 

لیکن اب اچانک اس کے سامنے سے پردہ ہٹ گیا۔ آسمان کے سورج کی طرح محبت کا بھی ایک سورج ہوتا ہے۔ یہ چمکتا ہے تو روح اور دل کی ساری تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں۔ اب یکایک اس سورج کی پہلی کرن ابن ساباط کے دل کے تاریک گوشہ پر پڑی اور وہ ایک گہری تاریکی سے نکل کر روشنی میں آگیا۔ اجنبی کی شخصیت اپنی پہلی ہی نظر میں اس کے دل تک پہنچ چکی تھی۔ لیکن و جہالت و گمراہی سے اس کا مقابلہ کرتا رہا اور حقیقت کے فہم کے لیے تیار نہیں ہوا لیکن جونہی اجنبی کے آخری الفاظ نے وہ پردہ ہٹا دیا جو اس نے اپنی آنکھوں پر ڈال لیا تھا ، حقیقت اپنی پوری شان تاثیر کے ساتھ بے نقاب ہو گئی اور اب اس کی طاقت سے باہر تھا کہ اس کے تیز زخم سے سینہ بچا لے جاتا۔ اس نے اپنی جہالت سے پہلے خیال کیا تھا ، اجنبی بھی میری ہی طرح کا ایک چور ہے اور اپنا حصہ لینے کے لیے میری رفاقت و اعانت کر رہا ہے۔ اس کا ذہن یہ تصور ہی نہیں کر سکتا تھا کہ بغیر غرض اور فائدہ کے ایک انسان دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کر سکتا ہے لیکن جب اجنبی نے چلتے وقت بتلایا کہ وہ چور نہیں بلکہ اسی مکان کا مالک ہے جس کا مال و متاع غارت کرنے کے ليے وہ گیا تھا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے یکایک ایک بجلی آسمان سے گر پڑی ہے ۔

وہ چور نہیں تھا مکان کا مالک تھا لیکن اس نے چور کو پکڑنے اور سزا دینے کی جگہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یہ اس نے کیا سلوک کیا” کا جواب اس کی روح کے لیے ناسور اور اس کے دل کے لیے ایک دہکتا ہوا انگارا تھا ، وہ جس قدر سوچتا ، روح کا زخم گہرا ہوتا جاتا او ردل کی تپش بڑھتی جاتی۔ اس تمام عرصہ میں اجنبی کے ساتھ جو کچھ گزرا تھا اس کا ایک ایک واقعہ ، ایک ایک حرف یاد کرتا اور ہر بات کی یاد کے ساتھ ایک تازہ زخم کی چبھن محسوس کرتا۔ پراسرار انداز نگاہ کی دل آویزی سامنے ہے۔ میرے دوست اور رفیق! اجنبی نے اپنی اسی دلنواز اور شیریں آواز میں جودو گھنٹہ پہلے ابن ساباط کو بے خود کر چکی تھی ، کہنا شروع کیا:

میں نے اپنی خدمت پوری کر لی ہے۔ اب میں تم سے رخصت ہوتا ہوں۔ اس کام کے کرنے میں مجھ سے جو کمزوری اور سستی ظاہر ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے بار بار تمہیں پریشان خاطر ہونا پڑا ، اس کے ليے میں بہت شرمندہ ہوں اور تم سے معافی چاہتا ہوں ، مجھے امید ہے کہ تم معاف کردو گے۔

 

اس دنیا میں ہماری کوئی بات بھی خدا کے کاموں سے اس قدر ملتی جلتی نہیں ہے جس قدر یہ بات کہ ہم ایک دوسرے کو معاف کر دیں اور بخش دیں۔ لیکن اس سے قبل کہ میں تم سے الگ ہوں تمہیں بتلا دینا چاہتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو تم نے خیا ل کیا۔ میں اسی مکان میں رہتا ہوں جہاں آج تم سے ملاقات ہوئی تھی اور تم نے میری رفاقت قبول کر لی تھی۔ میری عادت ہے کہ رات کو تھوڑی دیر کے لیے اس کمرے میں جایا کرتا ہوں جہاں تم بیٹھے تھے۔ آج آیا تو دیکھا ، تم اندھیرے میں بیٹھے ہو اور تکلیف اٹھا رہے ہو ، تم میرے گھر میں عزیز مہمان تھے۔ افسوس میں آج اس سے زیادہ تمہاری تواضع اور خدمت نہ کرسکا۔ تم نے میرا مکان دیکھ لیا ہے آئندہ جب کبھی تمہیں ضرورت ہو تو بلا تکلف اپنے رفیق کے پاس آسکتے ہو۔ خدا کی سلامتی اور برکت ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔

 

یہ کہا اور آہستگی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر مصافحہ کیا اور تیزی کے ساتھ نکل کر روانہ ہو گیا۔ اجنبی خود تو روانہ ہو گیا لیکن ابن ساباط کو ایک دوسرے ہی عالم میں پہنچا دیا ، اب وہ مبہوت اور مدہوش تھا ، اس کی آنکھيں کھلی تھيں ، وہ اسی طرف تک رہی تھيں جس طرف سے اجنبی روانہ ہوا تھا لیکن معلوم نہیں اس کو کچھ سجھائی بھی دیتا تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔؟

 

دوپہر ڈھل چکی تھی۔ بغداد کی مسجد سے جوق در جوق نمازی نکل رہے تھے ، دوپہر کی گرمی نے امیروں کو تہ خانے میں اور غریبوں کو دیواروں کے سائے میں بٹھا دیا تھا۔

 

اب دونوں نکل رہے ہیں۔ ایک تفریح کے ليے دوسرا مزدوری کے ليے ، لیکن ابن ساباط اس وقت تک وہیں بیٹھا ہے جہاں صبح بیٹھا تھا۔ رات والی دونوں گٹھڑیاں سامنے پڑی ہیں اور اس کی نظریں ان پر گڑی ہوئی ہیں۔ گویا ان کی شکنوں کے اندر اپنے رات والے رفیق کو ڈھونڈ رہا ہے۔ بارہ گھنٹے گزر گئے لیکن جسم اور زندگی کی کوئی ضرورت اسے محسوس نہیں ہوئی۔ وہ بھوک جس کی خاطر اس نے اپنا ایک ہاتھ کٹوا دیا تھا اب اسے نہیں ستاتی۔ وہ خوف جس کی وجہ سے سورج کی روشنی اس کے ليے دنیا کی سب سے زیادہ نفرت انگیز چیز ہو گئی تھی اب اسے محسوس نہیں ہوتا۔ اس کے دماغ کی ساری قوت صرف ایک نقطہ میں سمٹ آئی ہے اور وہ رات والے عجیب و غریب اجنبی کی صورت ہے ، وہ خود تو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی مگر اسے کسی اور ہی عالم میں پہنچا گئی۔ ایک مرتبہ حافظہ میں یہ سرگزشت ختم ہوجاتی تو پھر نئے سرے سے یاد کرنا شروع کردیتا اورآخر تک پہنچ کر پھر ابتدا کی طرف لوٹتا۔ میں چور تھا۔ میں اس کا مال و متاع غارت کرنا چاہتا تھا، میں نے اسے بھی چور سمجھا۔ اسے گالیاں د یں۔ بے رحمی سے ٹھوکر لگائی مگر اس نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہر مرتبہ اس آخری سوال کا جواب سوچتا اور یہی سوال دہرانے لگتا۔

 

سورج ڈوب رہا تھا ، بغداد کی مسجدوں کے میناروں پر مغرب کی اذان کی صدائیں بلند ہو رہی تھيں۔ ابن ساباط بھی اپنے غیر آباد گوشہ سے اٹھا ، چادر جسم پر ڈالی اور بغیر کسی جھجھک کے باہر نکل گیا۔ اب اس کے دل میں خوف نہیں تھا ، کیونکہ خوف کی جگہ ایک دوسرے ہی جذبہ نے لے لی تھی۔ وہ کرخ کے اسی حصہ میں پہنچا ، جہاں رات گیا تھا۔ رات والے مکان کو پہچاننے میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی، مکان کے پاس ہی ایک لکڑ ہارے کا جھونپڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس کے پاس گیا اور پوچھا ، یہ جو سامنے بڑا سا احاطہ ہے اس میں کون تاجر رہتا ہے۔

 

تاجر؟ بوڑھے لکڑ ہارے نے تعجب سے کہا: ”معلوم ہوتا ہے کہ تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو ، یہاں تاجر کہاں سے آیا۔ یہاں تو شیخ جنید بغدادی ؒ رہتے ہیں۔

 

ابن ساباط اس نام کی شہرت سے بے خبر نہ تھا۔ لیکن صورت آشنا نہ تھا۔ ابن ساباط مکان کی طرف چلا، رات کی طرح اس وقت بھی دروازہ کھلا تھا۔ یہ بے تامل اندر چلا گیا۔ سامنے وہی رات والا ایوان تھا ، یہ آہستہ آہستہ بڑھا اور دروازے کے اندر نگاہ ڈالی ، وہی رات والی چٹائی بچھی تھی ، رات والا تکیہ ایک طرف دھرا تھا ، تکیہ سے سہارا لگائے اجنبی بیٹھا تھا ، تیس چالیس آدمی سامنے تھے ، واقعی اجنبی تاجر نہیں تھا ، شیخ جنید بغدادی تھے۔

 

اتنے میں عشا کی اذان ہوئی ، لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ، جب سب لوگ جا چکے تو شیخ بھی اٹھے۔ جونہی انہوں نے دروازہ کے باہر قدم رکھا ایک شخص بے تابانہ بڑھا اور قدموں پر گر گیا۔ یہ ابن ساباط تھا ، اس کے دل میں سمندر کا تلاطم بند تھا ، آنکھوں میں جو کبھی تر نہیں ہوئی تھيں دجلہ کی سوتیں بھر گئی تھيں۔ آنسوؤں کا سیلاب آجائے تو پھر کون سی کثافت ہے جو باقی رہ سکتی ہے۔ شیخ نے شفقت سے اس کا سر اٹھایا، یہ کھڑا ہو گیا مگر زبان نہ کھل سکی اور اب اس کی ضرورت بھی کیا تھی ! جب نگاہوں کی زبان کھل جاتی ہے تو منہ کی زبان ضرورت نہیں رہتی۔ اس واقعہ پر کچھ عرصہ گزر چکا ہے۔ شیخ احمد ابن ساباط کا شمار سید الطائفہ کے حلقہ ارادت کے ان فقرا میں ہے جو سب میں پيش پيش ہیں۔ شیخؒ کہا کرتے تھے ، ابن ساباط نے وہ راہ لمحوں میں طے کر لی جو دوسرے برسوں میں نہیں کر سکتے۔ بن ساباط کو چالیس سال تک دنیا کی دہشت انگیز سزائیں نہ بدل سکیں ، مگر محبت اور قربانی کے ایک لمحہ نے چور سے اہل اللہ بنا دیا۔

 

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

 

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

بشکریہ : ماہانا سوئے حرم


زمرے

%d bloggers like this: