Posted by: Bagewafa | نومبر 27, 2011

خھُوشْبُو ٹھہر گئ۔ —مُحمّدعلی وفا

خھُوشْبُو ٹھہر گئ۔ —مُحمّدعلی وفا

 

تھوڑی سی خِزاں کی یہاں قِسْمت سنور گئ

وہ تو چلے گی مگر یہاں خوشْبُو ٹھہر گئ

 

یادونکے جھرونکوں سے گُم ہو گئ مطا

ابھی ابھی یہانتھِی- اب وہ کِدھر گئ ۔

 

برسونکی اب یے بات-ماضی کی داسْتاں

قافلہ گُزرگیا- دھُول بھی بِکھر گئ

  

اُنچائیوں پر اب کوئ فخْرنہ کرے

ندِیآں وہاں گئ ڈھلانے جِدھر گئ ۔

 

اب اُسکا پتا ہَے نہ کوئ ٹھِکانا 

مجنؤں کی صداتھی آئ گُزر گئ

 

پاءےگا وہ کیا وفھا بہتے غبار میں؟ 

ریت کے درِیامیں جِسکی سحر گئ

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: