Posted by: Bagewafa | دسمبر 3, 2011

ارشاداتِ امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری رحمتہ الل

ارشاداتِ امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری رحمتہ الل

* خدا کی عبادت،رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور انگریز سے بغاوت میرا ایمان ہے اور رہے گا۔خدا معبود ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم محبوب ہیں اور انگریز مغضوب۔

* انگریز کی فطرت کا خمیر سانپ کے زہر سے اٹھایا گیا اوراسے اپنی غذا کے لیے انسانی خون کی جو چاٹ پڑی ہوئی ہے بڑی مشکل سے چھوٹے گی۔

* ’’میں ان سوروں کا ریوڑ چرانے پر بھی تیار ہوں جو برٹش امپر یلزم کی کھیتی کو ویران کرنا چاہیں ۔میں کچھ نہیں چاہتا ۔میں ایک فقیر ہوں ۔اپنے نانا کی سنت پر کٹ مرنا چاہتا ہوں۔۔۔اور اگر کچھ چاہتا ہوں۔۔۔تو اس ملک سے انگریز کا انخلاء۔۔۔ دو ہی خواہشیں ہیں میری زندگی میں یہ ملک آزاد ہو جائے یا پھر میں تختہ دار پر لٹکا دیا جاؤں ۔

* برطانیہ کے سگانِ دم بریدہ! غور سے سن لو تمہارے آقا کو یہاں سے بستر گول کرناپڑے گا۔ میں پھر کہتا ہوں جو وطن کی آزادی کا علمبردار نہیں وہ پلید و ناپاک جانور سے بد تر ہے ۔

*دنیا میں چار چیزیں محبت کے قابل ہیں:مال،جان ،آبرو اور ایمان ۔۔۔

لیکن اگر جان پر کوئی مصیبت آئے تو مال قربان کرنا چاہیے اور اگر آبرو پر کوئی آفت آئے تو مال و جان دونوں کو اور اگر ایمان پر کوئی ابتلا ء آئے تو مال ، جان ،آبرو سب کو قربان کرنا چاہیے۔ اگر سب کے قربان کرنے سے ایمان محفوظ رہتا ہے تو یہ سودا سستا ہے۔

* جو چیز آپ کو اپنے اصل معبود ،اللہ تک پہنچنے سے روکتی ہے وہ ’’بت ‘‘ہے۔

* انبیاء نہ آ تے تو کائنات ایک ایسی کتاب کی مصداق ہوتی جس کے ابتدائی اور آخری صفحات کھو گئے ہوں۔یہ بات انبیاء کی معرفت سے انسانوں کو ملی ہے کہ انسان اور اس کے رب کے درمیان کیا رشتہ ہے ۔

* ختمِ نبوت کی حفاظت میراجزو ایمان ہے جو شخص بھی ا س رداکو چوری کرے گا جی نہیں۔۔۔ چوری کا حوصلہ کریگا میں اس کے گریبان کی دھجیاں اڑادوں گا ۔اور جواس مقدس امانت کی طرف انگلی اٹھا ئے گا میں اس کا ہاتھ قطع کردوں گا۔ میں میاں( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سوا کسی کا نہیں نہ اپنا نہ پرایا ۔میں انہیں کا ہوں وہی میرے ہیں جس کے حسن و جمال کوخود ربِ کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ہو میں ان کے حسن وجمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے اُن پر جو ان کانام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں کی خیر ہ چشمی کا تماشا دیکھتے ہیں ۔‘‘

* جب تک احرار زندہ ہیں جھوٹی نبوت نہیں چلنے دیں گے۔جب بھی کوئی کذّاب سر اٹھائے گا صدیقِ اکبر کی سنت جاری کی جائے گی۔یاد رکھو! میں تو زندہ نہیں رہوں گا مگر تم دیکھو گے کہ شہدائے ختمِ نبوت کا خونِ بے گناہی رنگ لا کر ہی رہے گا۔

* ’’اے قادیانیو! اگر نیا نبی بنائے بغیر تمہارا گزارہ نہیں ہو سکتا اور اس کے بغیر تم جی نہیں سکتے تو ہمارے مسٹر جناح کو ہی نبی مان لو۔ ارے مرد تو ہے ۔ جس بات پر ڈٹا کوہ کی طرح ڈٹ گیا۔قہقہوں کے بادل اٹھے۔ اشکوں کی گھٹا چھائی ۔ خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ لاشوں کے انبار لگ گئے۔ مگر کوئی چیز مسٹر جناح کے عزم کو نہ ہلا سکی ۔ اس نے تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر رکھ دیا ۔‘‘

* اس وقت آئینی و غیر آئینی دنیا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا ہندوستان میں ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت سے جدا کر کے برِ صغیر کو دو حصوں میں جدا کر دیا جائے۔ قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا ۔ مجھے پاکستان بن جانے کا اتنا ہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح کو مشرق سے سورج طلوع ہو گا ۔ لیکن یہ وہ پاکستان نہیں ہوگا جو دس کروڑ مسلمانانِ ہند کے ذہنوں میں موجود ہے اور جس کے لیے آپ بڑے خلوص سے کوشاں ہیں۔ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

* قدحِ صحابہ کرنے والو! خدا سے ڈرو ۔ میں علی رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں او ر صدیق رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ و عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح کرتا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا ۔ تم کون ہو!ہائے وہ لوگ جنہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں جگہ ملی ہو۔تم انہیں گالی دیتے ہو۔ظالمو حشر کے دن آقا کو کیا جواب دو گے!

* خواہ ساری دنیا مجھے چھوڑ جائے میں مجلس احرار کا علم بلند رکھو نگا حتیٰ کہ جب میں مرجاؤں تو میری قبر پر بھی سرخ پھریرا لہرا تا رہے گا۔

بشکریہ اردو نامہ

 

 

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: