Posted by: Bagewafa | دسمبر 9, 2011

مرثیہ از میر انیس

شہآدت حُسین کی

 

 

کرتی رہیگی پیش شہآدت حُسین کی

آزادئ حیات کا یہ سرمدی اصول

 

چڑہ جاۓ کت کے سر تیرا نیزوں کی نوک پر

لیکن تو فاسقو کی اِطاعط نہ کر قبول

 

مرثیہ از میر انیس

 

جان آ گئی، یعقوب نے یوسف کو جو پایا

قرآں کی طرح رحل دو زانو پہ بٹھایا

منہ ملنے لگے منہ سے، بہت پیار جو آیا

بوسے لیے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا

 

دل ہل گیا، کی جبکہ نظر سینہ و سر پر

چُوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر

 

جوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقّت

اِس کان میں فرمائی اذاں اُس میں اقامت

حیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایت

کیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورت

 

پُر نور ہے گھر، تم کو ملا ہے قمر ایسا

دنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا

 

کیونکر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہ سی ماں

دو شمس و قمر کا ہے یہ اِک نیّرِ تاباں

کی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماں

حق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبرِ ذی شاں

 

اعلٰی ہے جو سب سے وہ مقامِ شہِ دیں ہے

بندہ ہوں مَیں اور یہ بھی غلامِ شہِ دیں ہے

 

عالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سے

سرسبزیِ ایماں ہے اسی ابرِ کرم سے

تا عرش پہنچ جاتا ہے سر، فیضِ قدم سے

عزّت ہے غلاموں کی شہنشاہِ امم سے

 

کچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث، نہ علی کا

سب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا

 

فرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحا

بھائی، کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھا

کی عرض یہ حیدر نے کہ اے سیّدِ والا

سبقت کروں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرا؟

 

فرمایا کہ موقوف ہے یہ رّبِ عُلا پر

میں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر

 

بس اتنے میں نازل ہوئے جبریلِ خوش انجام

کی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علام

پیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندام

یا ختمِ رسل، ہم نے حُسین اس کا رکھا نام

 

یہ حُسن میں سردارِ حسینانِ زمن ہے

مشتق تو ہے "احسان” سے تصغیر "حَسن” ہے

 

****************************

اے خوشا حسن رخِ یوسف کنعان حسن

راحتِ روح حسین ابن علی جان حسن

جسم میں زورِ علی طبع میں احسان حسن

ہمہ تن خلق حسن، حسن حسن شان حسن

تن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاک

کیا بھلی لگتی تھی بچپن میں  شہانی پوشاک

کٹ گئی  تیغ تلے جب صفِ دشمن آئی

یک بیک  فصل  فراقِ سرو گردن آئی

بگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئی

تیغ کیا  آئی  کہ اڑتی ہوئی  ناگن آئی

غل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹہرنے کا نہیں

 زہر جو اس کا چڑھے گا تو اترنے کا نہیں

یک  بیک  طبل بجا،  فوج میں گرجے بادل

کوہ  تھرائے،  زمین  ہل گئی،  گونجا  جنگل

پھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل

مرنے  والوں  کو  نظر آنے  لگی شکل اجل

واں  کے  چاوش بڑھانے لگے دل لشکر کا

فوج  اسلام  میں  نعرہ  ہوا  یا  حیدر  کا

بزم کا رنگ جدا  رزم کا  میداں ہے  جدا

یہ چمن اور ہے  زخموں کا گلستاں ہے  جدا

فہم کامل ہو  تو ہر نامے کا  عنواں ہے جدا

مختصر پڑھ کے ر لادینے کا ساماں ہے جدا

”جب لشکر خدا کا علم سر نگوں ہوا ”    اور  لکھنئو کے متعلق اشعار یہ ہیں: 

     ہر دل ہے عندلیبِ گلستانِ لکھنئو

رضواں بھی ہے ارم میں ثنا خوانِ لکھنئو

گلزار مومناں ہے  زہے شانِ لکھنئو

نعرے علی علی کے ہیں  قربانِ لکھنئو

کیوں سر خرو نہ ہوں کہ چمن سبز وار ہے

دیکھو کہ اس خزاں پہ بھی ایسی بہار ہے

مالی بھی معرکہ  کا اس ماتم میں دنگ ہے

گلشن کو صدقہ کیجییے یہ  مجلس کا رنگ ہے

نوحوں میں ان کے نالہ بلبل کا ڈھنگ ہے

ماتم  کے ولولے  میں بقا  کی  امنگ ہے

دس روز  ماتم شہِ دیں  میں گزرتے ہیں

جیتے رہیں یہ لوگ کہ رونے پہ مرتے ہیں

اگر چہ جہاں میر انیس نے لکھئو کی تعریف کی ہے وہاں بعض مقامات پر ہجو و برائی بھی نظر آتی ہے مثلا ایک جگہ فرماتے ہیں :   

کوفہ سے مل رہے ہیں کسی شہر کے عدد

ڈرتا ہوں اے انیس کہیں لکھنئو نہ ہو

 

 


زمرے

%d bloggers like this: