Posted by: Bagewafa | فروری 15, 2012

سُورج کا سفر ختْم ہُوا رات نہ آئ- شہریار

سُورج کا سفر ختْم ہُوا رات نہ آئ- شہریار

 

 سُورج کا سفر ختْم  ہُوا  رات نہ آئ

 حسّے میں میرے خْوابوں کی سَوغات نہ آئ

 

مَوسم ہی پے ہم کرتے رہے تبْصرا تا دیر

دِل جِس سے دُکھے اَیسی کوئ بات نہ آئ

 

یُوں ڈوڑ کو ہم وقت کی پکڑے توہُےء تھے

ایک بار مگر چھُوٹی تو پھِر ہاتھ نہ آئ

 

ہمراہ کوئ اَور نہ آیا تو کْیا گِلا

پرچھائی بھی جب میری میرے ساتھ نہ آئ

 

ہر سِمْت نظر آتی ہَیں بیفصل زمِینیں

اِس سال بھی شہر میں برسات نہ آئ

Advertisements

Responses

  1. bahot umda la jawab


زمرے

%d bloggers like this: