Posted by: Bagewafa | اپریل 4, 2012

میری کہانی میں—-تسلیم الاہی زلفی

دیکھ کر تجھ کو سوچتے ہیں ہم

کیا خیانت کریں امانت میں

 –میری کہانی میں—-تسلیم الاہی  زلفی

ذکر اسکا میری کہانی میں

چاند کا اکس جیسے پانی میں

 

وہ تو خاموش ہی رہا اور میں

جانے کیا کہ گیا روانی میں

 

اپنی آنکھیں گنوائ ہے ہمنے

اپنے خوابوں کی پاسبانی میں

 

ایک مدت کا ساتھ چھوٹ گیا

ایک چھوٹی سی بدگمانی میں

 

آج ان سے بھی مل لیے زلفی

کنکری پھینک آے پانِی میں

 

 

 

 

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: