Posted by: Bagewafa | جون 26, 2012

بول سکتا ہے -گجرات دنگو پر شاعر منور رانا کا درد

بول سکتا ہے -گجرات دنگو پر شاعر منور رانا کا درد

میں دہشتگرد تھا مرنے پہ بیٹا بول سکتا ہے
حکومت کے اشارے پر تو مردہ بول سکتا ہے

حکومت کی توجہ چاہتی ہے یہ جلی بستی
عدالت پوچھنا چاہے تو ملبہ بول سکتا ہے

کئی چہرے ابھی تک منہ زبانی یاد ہیں اسکو
کہیں تم پوچھ مت لینا یہ گونگا بول سکتا ہے

یہاں پر نفرتوں نے کیسے کیسے گل کھلایے ہیں
لٹی عصمت بتا دیگی دوپٹہ بول سکتا ہے

بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں
یہ وہ سچ ہے جسے جھوٹ ھے سے جھوٹھا بول سکتا ہے

سیاست کی کسوٹی پر پرکھیے مت وفاداری
کسی دن انتقامن میرا غصہ بول سکتا

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: