Posted by: Bagewafa | جون 29, 2012

آسماں کہتے رہے—اصغر ویلوری

آسماں کہتے رہے—اصغر ویلوری

 

جو بھی تھے بہ گھر وہ سایہ کو مکاں کہتے رہے

کتنے بےبس زمیں کو آسماں کہتے رہے

 

اس سے بڑھکر اپنی نادانی کا کیا ہوگا ثبوت

دشمنے جاں تھا جسے ہمہ جانے جاں کہتے رہے

 

جسکے اَنے سے فزائے بزم سا کت  ہو گئی

لوگ ایسے شخس کو روہے رواں کہتے رہے

 

اپنی منزل کی بھی خود کیسے انہیں پہچان ہو

جو غبارے کاروانکو کارواں کہتے رہے

 

زندگی ہی سے ہمیں ملتا ہے رازِ حیات

اور ہم اصغر اسے رائگاں کہتے رہے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: