Posted by: Bagewafa | جولائی 15, 2012

نکل آےُ۔۔۔۔۔محمد علی وفا

نکل آےُ۔۔۔۔۔محمد علی وفا

جلتے ہوئے جذبات نکل آئے

جب تیری کوئی بات نکل آئے

تلاش ہو امید کے سورج کی

اور درد کی رات نکل آئے

گردن پھولوں سے لدی ہو
کوئی خنجر بپا ہاتھ نکل آئے

ہم دردی سے پالا ہو جسے
وہ آستین کا سانپ نکل آئے۔

چھوپایُے پھرتے تھے جسے وفا
 آنکھون سے تیری وہ بات نکل آئے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: