Posted by: Bagewafa | اکتوبر 3, 2012

جگر مرادآبادی کی توبہ….کاشف ضیائی

جگر مرادآبادی کی توبہ….کاشف ضیائی

بیسویں صدی کے نصف اول میں مقبول ہونے والے ایک بڑے شاعر حضرت جگر مراد آبادی ہیں۔ آپ کو رئیس المتغزلین اور شہنشاہِ غزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے

طولِ غم، حیات سے نہ گھبرا اے جگر
ایسی بھی کوئی شب ہے جس کی سحر نہ ہو

جگر صاحب اپنی خوش فکری اور خوش بیانی کے باعث بہت سوں پر بازی لے گئے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ دستِ قدرت نے شہرت و ناموری کا تاج جگر صاحب کے سر پر سجایا تو مبالغہ نہ ہوگا۔ آپ کی شاعری خوش آہنگ تھی، شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت بھر میں ان کا طوطی بولتا تھا۔ راقم انہی کی شراب نوشی سے متعلق کچھ چشم کشا انکشافات پیش کر رہا ہے۔

جگر کا پیدائشی نام ’’علی سکندر‘‘ تھا۔ مرادآباد میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم پائی۔ ابتدائی تعلیم تو حاصل کر لی لیکن لااُبالی طبیعت کی وجہ سے اور کچھ گھریلو حالات کی خرابی کے باعث میٹرک نہ کر سکے۔ البتہ اپنے ذاتی شوق اور دستور کے موافق گھر میں ہی فارسی پڑھ لی۔
جگرمرادآبادی نے ابتدائے شباب سے ہی شاعری اور شراب نوشی شروع کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جگرصاحب برصغیر پاک و ہند میں اپنی انہی دوباتوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ شاعر ایسے تھے کہ ان کا کلام عشق و محبت کا سچا آئینہ دار شمار ہوتا اور شراب نوش ایسے کہ لوگ مشاعرے کے بعد اُٹھا کر گھر لاتے۔بلانوشی کے سبب وہ ہوش میں نہ ہوتے۔ انہی کا ایک شعر ہے ؎
پینے کو تو بے حساب پی لی
اب ہے روزِ حساب کا دھڑکا

جگرصاحب کے ذاتی کردار میں ایک ہی خامی تھی کہ وہ بلانوش تھے، ورنہ طبیعت میں غیرت و حیا کی کمی نہ تھی۔ محفل میں ہمیشہ نظریں نیچی کرکے بیٹھتے۔ شریکِ محفل مستورات کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوتے۔ صاف دل اور صاف باطن تھے۔ سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مہمان کے آنے سے خوش اور جہاں تک ہو سکتا، اُس کا اکرام کرتے۔
اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی رہی کہ جگر کی خوبصورت غزلیں اُن کی کثرتِ مے نوشی کا نتیجہ ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جگر نے شراب نوشی سے توبہ کے بعد جو غزلیں کہیں، وہ اُن غزلوں سے کہیں زیادہ فائق ہیں جو پہلے کہی گئیں۔ توبہ کے بعد کہی گئی غزلوں میں خاص قسم کا سوزوگداز اور کیف و مستی پائی جاتی ہے۔ جگر صاحب نے خود ایک مرتبہ کہا تھا ’’میں شراب نوشی کے بعد کئی کئی گھنٹے روتا ہوں اور شعر میں نے کہے ہیں شراب نے نہیں۔‘‘

اُردُوزبان کے مشہور ادیب اور مفکر رشید احمد صدیقی مرحوم بیان کرتے ہیں کہ حالتِ خمار میں بھی جگر کے منہ سے کوئی ناشائستہ بات اور قابلِ گرفت جملہ نہ نکلتا۔ وہ شراب کے نشے میں بڑے رکھ رکھائو کے قائل تھے۔ جب نشہ زیادہ گہرا ہوجاتا تو چپ چاپ ایک طرف ہوجاتے اور کسی سے کلام نہ کرتے۔ ایسے حال میں کوئی دین یاعلمہٰ دین کے خلاف کوئی بات کرتا تو حال سے بے حال ہوجاتے اور بدمستی کا پورا زور اُس پر صرف کرتے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جگرصاحب میں حُبِ دین کا جذبہ بہت غالب تھا۔ ان کی دین دوستی کی شہادت علامہ سید سلیمان ندوی نے بھی دی ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ کا تذکرہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

قیامِ پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جگرصاحب نے اپنے ایک دوست کے اصرار پر کاردار فلم کمپنی سے فلمی گانے لکھنے کا معاہدہ کرلیا۔ معاہدہ یہ تھا کہ جگرصاحب دس غزلیں دیں گے اور فی غزل ایک ہزار روپیہ معاوضہ مل جائے گا۔ 10 ہزار روپے اُس زمانہ میں خاصی بڑی رقم تھی۔ فلم کمپنی کے ذمے دار نے بات پکی کرنے کی غرض سے انھیں 5 ہزار روپیہ پیشگی دے دیا۔ جگرصاحب نے رقم وصول کر لی اور گھر آگئے۔

لیکن اُسی رات انھوں نے ایک خواب دیکھا کہ غلاظت کا ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے جس پر ایک شیر بیٹھا ہے۔ پہاڑ کے دامن میں بہت سے لوگ جمع ہیں۔ وہ شیر وقفے وقفے سے اپنے دونوں پنجوں سے غلاظت اچھال رہا ہے۔ لوگ اُس غلاظت سے اپنا دامن بھر رہے ہیں۔ شیر کا جسم اور لوگوں کے کپڑے سب غلاظت سے آلودہ ہیں۔
اسی اثنا میں جگر کی آنکھ کھل گئی۔ سانس ابتر تھی اور ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ صبح ہوئی تو جگرصاحب نے روپیہ فلم کمپنی کو واپس کردیا اور آیندہ فلمی گانے لکھنے سے توبہ کرلی۔

جگر کو عموماً بھارت کا سب سے بڑا شراب نوش شاعر کہا جاتا ہے۔ سستی اور گھٹیا قسم کی شراب انھوں نے اس کثرت سے پی کہ اس کی نظیر ادبیات کی تاریخ میں نہ ملے گی۔ پھر رفتہ رفتہ ان کا دل توبہ کی طرف مائل ہوا۔ طبیعت شراب سے بے زار رہنے لگی اور دل میں یہ بات آئی کہ کسی اللہ والے کے ہاتھ پر شراب خانہ خراب سے توبہ کی جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خواجہ عزیز الحسن مراد آبادی سے مشورہ کیا۔ خواجہ عزیز الحسن مراد آبادی جگر کے گہرے دوست تھے۔ مشاعروں میں بھی جگر کے ساتھ شریک ہوتے۔ بڑے باکمال اور قادرالکلام شاعر تھے۔ عشقِ حقیقی کے قائل تھے اور مجاز کے پردے میں حقیقت بیان کرتے۔ خواجہ صاحب کا تخلص ’’مجذوب‘‘ تھا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ’’کشکولِ مجذوب‘‘ کے نام سے طبع ہو چکا۔

یہ خواجہ صاحب مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید تھے۔ ان سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ انھوں نے ایک مرتبہ مولانا تھانوی کو اپنا یہ شعر سنایا۔

ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی

مولانا نے اس پر خوب داد دی اور انعام سے نوازا۔ انہی خواجہ صاحب نے جگر کو بھی مولانا تھانوی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مشورہ دیا۔ جگرصاحب خود تو مولاناکی خانقاہ (تھانہ بھون) حاضر نہ ہوئے۔ ایک سفید کاغذ پر اپنا یہ فارسی شعر لکھ بھیجا۔
بہ سرِ تو ساقی مستِ من آید سرورِ بے طلبی خوشم
اگرم شراب نمی دھدبہ خمارِتشنہ لبی خوشم

(’’اے میرے مدہوش ساقی! تیرے دل میں یہ بات ہے کہ میں تجھ سے کچھ نہ مانگوں۔ ٹھیک ہے اگر تو مجھے شراب نہیں دیتا تو میں اِسی تشنہ لبی کے خمار میں ہی خوش ہوں۔‘‘)
چنانچہ یہ خط مولانا کی خدمت میں پہنچایا گیا۔ مولانااشرف علی تھانوی کے لیے فارسی اجنبی نہیں تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا نے بچپن میں قرآنِ پاک حفظ کیا۔ اس کے بعد ذاتی شوق سے فارسی پڑھی۔ اس دوران عربی تعلیم شروع ہونے سے پہلے کچھ عرصہ فارغ گزارا۔ فرصت کے اِن دنوں میں مولانا نے ایک فارسی مثنوی ’’زیروبم‘‘ کے عنوان سے تخلیق کی۔ یہ مولانا کا بچپن تھا۔ اُس زمانہ میں فارسی کا معیار بھی بہت اونچا ہوا کرتا تھا۔ (یہ انیسویں صدی کے اواخر کی بات ہے جبکہ مولانا کا انتقال ۱۹۴۳ء میں ہوا۔) مولانا تھانوی خود بھی اشعار کا نہایت عمدہ اور نفیس ذوق رکھتے تھے۔ مثالیں اُن کے ملفوظات میں بکثرت بکھری پڑی ہیں۔ مولانا کے خلفاء و مریدین میں سے بھی اکثر صاحبِ دیوان ہوئے ہیں۔

چنانچہ انھوں نے جگر کے خط کو پڑھا تو ان کی مراد سمجھ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کاغذ کے دوسری جانب مندرجہ ذیل شعر لکھ کر جگر کو واپس بھجوا دیا۔
نہ بہ نثرِ نا تو بے بدل، نہ بہ نظم شاعر خوش غزل
بہ غلامی شہہ عزوجل و بہ عاشقی نبیؐ خوشم

(’’اے جگر تیرا تو یہ حال ہے لیکن میرا یہ حال ہے کہ نہ میرا کسی عظیم ادیب کی تحریر میں دل لگتا ہے اور نہ ہی مجھے کسی بڑے شاعر کی شاعری خوش کرتی ہے۔ بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی غلامی میں ہی خوش رہتا ہوں۔‘‘)
قدرت کو جب کسی ہدایت کا انتظام کرنا منظور ہو تو اس کے لیے وہ اسباب بھی خود مہیا کرتی ہے۔ یہ خط جب جگرصاحب کے پاس پہنچا تو اُن کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور وہ دیر تک روتے رہے۔
اگلے ہفتے وہ خواجہ صاحب کی معیت میں مولانا کی خانقاہ میں حاضر ہوئے۔ مولانا صاحب شاید پہلے ہی سے منتظر تھے۔ توبہ ہوئی اور بیعت بھی۔ اس کے بعد جگر نے مولانا سے چار دعائوں کی درخواست کی۔ ایک یہ کہ وہ شراب چھوڑ دیں۔ دوسرے ڈاڑھی رکھ لیں، تیسرے حج نصیب ہوجائے اور چوتھے یہ کہ ان کی مغفرت ہوجائے۔ مولانا نے جگر کے لیے یہ 4  دعائیں کیں اور حاضرینِ محفل نے آمین کہی۔ بعدازاں مولانا تھانوی نے جگر سے کچھ سنانے کی فرمائش کی۔ جگر نے محفل میں نہایت سوزوگداز سے اپنی یہ غزل سنائی۔

کسی صورت نمودِسوزِ پنہانی نہیں جاتی
بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھینچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے، مانی نہیں جاتی
چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مِٹے جاتے ہیں گر گر کر
حضور شمعِ پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی
وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
محبت میں ایک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہوجاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگر وہ بھی سرتاپا محبت ہی محبت ہیں
مگر اِن کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی

مولانا اشرف علی تھانوی جیسے عالمِ دین اور شیخ وقت کی مانگی ہوئی پہلی تین دعائوں کی قبولیت تو خدائے پاک نے جگر کو ان کی زندگی میں ہی دکھا دی۔ انہوں نے بیعت کے بعد شراب بالکل چھوڑ دی۔ چونکہ کثرتِ مے نوشی کی عادت تھی لہٰذا اسے بالکل ترک کرنے سے وہ بیمار ہوگئے اور قلب میں درد رہنے لگا۔ جگر و معدہ میں سوزش ہوگئی جس کی وجہ چہرے اور گردن کی جلد پھٹنے لگی۔

اس موقع پر ماہر ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بیٹھا۔ اُس نے مشورہ دیا کہ تھوڑی مقدار میں اگر شراب جسم کو ملتی رہے تو جسمانی اعضا اپنا کام ٹھیک طرح سے کرتے رہیں گے ورنہ زندگی کا چراغ گُل ہونے کا اندیشہ ہے۔ جگر نے اُن سے پوچھا کہ اگر شراب پیتا رہوں تو کتنا عرصہ جی سکوں گا؟
ڈاکٹر بولے ’’چند سال مزید اور بس۔‘‘
جگر نے کہا ’’میں چند سال خدا کے غضب کے ساتھ زندہ رہوں… اس سے بہتر ہے کہ ابھی تھوڑی سی تکلیف اُٹھا کر خدا کی رحمت کے سائے میں مرجائوں۔‘‘
لیکن بھلا ہوا اخلاص کا کہ خدائے پاک نے جگر کے الفاظ کی لاج رکھ لی اور دیسی علاج سے صحت عطا فرما دی۔ اس دوران لاہور کے مشہور معالج حکیم حافظ جلیل احمد مرحوم سے بھی علاج ہوتا رہا۔

دوسری دعا یہ تھی کہ ڈاڑھی رکھ لیں۔ یہ بھی پوری ہوئی۔ انھوں نے بیعت کے بعد حلیہ سنت کے مطابق کرلیا اور لباس بھی۔ اس دوران نماز کی بھی عادت ڈال لی۔ تھوڑی دیر مسجد میں بیٹھے رہنے کو بھی اپنا شعار بنا لیا۔ غالباً اسی زمانے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ تانگے میں سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے۔ تانگے والا باربار نہایت ترنم سے یہ شعر پڑھ رہا تھا:
چلو دیکھ کر آئیں تماشا جگر کا
سنا ہے وہ کافر مسلماں ہوگیا

تھوڑی دیر بعد تانگے والے نے پچھلی نشست سے ہچکیوں کی آواز سنی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک مولوی صاحب رو رہے تھے۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہی جگرمرادآبادی ہیں۔
تیسری دعا حج کے متعلق تھی، یہ بھی قبول ہوئی۔ ۱۹۵۳ء میں جگر کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوگئی۔ حج کے ایام میں ایک اتفاقی حادثے کے سبب جگر کو مدینہ منورہ میں زیادہ دنوں تک قیام کا موقع بھی مل گیا۔ حج کے بعد جگر صاحب اکثر بے تکلف احباب میں فرمایا کرتے تھے۔ ’’میں نے 4 دعائیں کروائی تھیں۔ تین تو میری زندگی میں ہی پوری ہوگئیں اور چوتھی دعا (کہ خدا میری مغفرت کرد ے) بھی اِن شاء اﷲ قبول ہوگی۔‘‘ جگرصاحب کا اصل میدان غزل تھا۔ اسی میدان کے شاہ سوار تھے لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جگر نے کچھ نعتیں بھی کہیں۔ شراب نوشی کے بعد جگر نے جو پہلی نعت کہی، اس کا مطلع یہ ہے

اِک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہؐ
ہاں اِک نظرِ رحمت سلطانِ مدینہؐ

 

 

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: