Posted by: Bagewafa | فروری 15, 2013

مناسب کاروائی:سعادت حسن منٹو

مناسب کاروائی:سعادت حسن منٹو

جب حملہ ہوا تو محلے میں سے اقلیت کے کچھ آدمی تو قتل ہوگئے، جو باقی تھے جانیں بچا کر بھاگ نکلے۔ ایک آدمی اور اس کی بیوی البتہ اپنے گھر کے تہہ خانے میں چھپ گئے۔

دو دن اور دو راتیں پناہ یافتہ میاں بیوی نے قاتلوں کی متوقع آمد میں گزار دیں، مگر کوئی نہ آیا۔

دو دن اور گزر گئے۔ موت کا ڈر کم ہونے لگا۔ بھوک اور پیاس نے زیادہ ستانا شروع کیا۔

چار دن اور بیت گئے، میاں بیوی کو زندگی اور موت سے کوئی دلچسپی نہ رہی۔ دونوں جائے پناہ سے باہر نکل آئے۔

خاوند نے بڑی نحیف آواز میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا۔ “ہم دونوں اپنا آپ تمھارے حوالے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں مار ڈالو۔”

جن کو متوجہ کیا گیا تھا وہ سوچ میں پڑ گئے۔ “ہمارے دھرم میں تو جی ہتیا پاپ ہے۔”

وہ سب جینی تھے۔ لیکن انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور میاں بیوی کو مناسب کاروائی کیلیے دوسرے محلے کے آدمیوں کے سپرد کردیا۔


Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: