Posted by: Bagewafa | اپریل 30, 2013

حسرت نہ کجیے_محمد علی وفا

حسرت نہ کجیے_محمد علی وفا

اظہارے الطفات کی زحمت نہ کجیے

دیوارکو بھی کان ہے آہٹ نہ کجیے

ٹوٹ یہ جائیگی تو بھلا روئنگے پھوٹ کر
ہدسے گزرکر یار محبت نہ کجیے

امتیہاں ہوگا تیرا اب کوئی مقتل میں
موحسین ہے خنزر بپا حرکت نہ کجیے

میں تو ہں وہی جو پہلے تھا تیرے لیے
بدلا ہوا موسم ہے نفرت نہ کجیے

کانٹے ملے تو شوق سے چون لیے وفا
اجڑے چمن میں پھول کی حسرت نہ کجیے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: