Posted by: Bagewafa | اگست 21, 2013

تعاون : سعادت حسن منٹو

تعاون : سعادت حسن منٹو

چالیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا ایک گروہ لوٹ مار کیلیے ایک مکان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
دفعتاً اس بھیڑ کو چیر کر ایک دبلا پتلا ادھیڑ عمر کا آدمی باہر نکلا۔ پلٹ کر اس نے بلوائیوں کو لیڈرانہ انداز میں مخاطب کیا۔ “بھائیو، اس مکان میں بے اندازہ دولت ہے، بے شمار قیمتی سامان ہے۔ آؤ ہم سب مل کر اس پر قابض ہو جائیں اور مالِ غنیمت آپس میں بانٹ لیں۔”
ہوا میں کئی لاٹھیاں لہرائیں، کئی مکے بھنچے اور بلند و بانگ نعروں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا۔
چالیس پچاس لٹھ بند آدمیوں کا گروہ دبلے پتلے ادھیڑ عمر کے آدمی کی قیادت میں اس مکان کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا جس میں بے اندازہ دولت اور بے شمار قیمتی سامان تھا۔
مکان کے صدر دروازے کے پاس رک کر دبلا پتلا آدمی پھر بلوائیوں سے مخاطب ہوا۔ “بھائیو، اس مکان میں جتنا مال بھی ہے سب تمھارا ہے، لیکن دیکھو چھینا جھپٹی نہیں کرنا ۔۔۔۔ آپس میں نہیں لڑنا ۔۔۔۔ آؤ۔”
ایک چلایا۔ “دروازے میں تالا ہے۔”
دوسرے نے بآواز بلند کہا۔ “توڑ دو۔”
“توڑ دو ۔۔۔۔ توڑ دو۔”
ہوا میں کئی لاٹھیاں لہرائیں، کئی مکے بھنچے اور بلند بانگ نعروں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا۔
دبلے پتلے آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے دروازہ توڑنے والوں کو روکا اور مسکرا کر کہا۔ “بھائیو ٹھہرو ۔۔۔۔۔ میں اسے چابی سے کھولتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے جیب سے چابیوں کا گھچا نکالا اور ایک چابی منتخب کرکے تالے میں ڈالی اور اسے کھول دیا۔ شیشم کا بھاری بھر کم دروازہ ایک چیخ کے ساتھ وا ہوا تو ہجوم دیوانہ وار اندر داخل ہونے کیلیے آگے بڑھا۔ دبلے پتلے آدمی نے ماتھے کا پسینہ اپنی آستین سے پونچھتے ہوئے کہا۔ “بھائیو، آرام آرام سے، جو کچھ اس مکان میں ہے سب تمھارا ہے، پھر اس میں افراتفری کی کیا ضرورت ہے؟”
فوراً ہی ہجوم میں ضبط پیدا ہوگیا۔ ایک ایک کرکے بلوائی مکان کے اندر داخل ہونے لگے، لیکن جونہی چیزوں کی لوٹ شروع ہوئی پھر دھاندلی مچ گئی۔ بڑی بے رحمی سے بلوائی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔
دبلے پتلے آدمی نے جب یہ منظر دیکھا تو بڑی دکھ بھری آواز میں لٹیروں سے کہا۔ “بھائیو، آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔۔ آپس میں لڑنے جھگڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نوچ کھسوٹ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ تعاون سے کام لو۔ اگر کسی کے ہاتھ زیادہ قیمتی چیز آگئی ہے تو حاسد مت بنو، اتنا بڑا مکان ہے۔ اپنے لئے کوئی اور چیز ڈھونڈ لو، مگر ایسا کرتے ہوئے وحشی نہ بنو۔۔۔۔۔۔مار دھاڑ کرو گے تو چیزیں ٹوٹ جائیں گی۔ اس میں نقصان تمھارا ہی ہے۔”
لٹیروں میں ایک بار پھر نظم و ضبط پیدا ہوگیا۔ بھرا ہوا مکان آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا۔
دبلا پتلا آدمی وقتاً فوقتاً ہدایت دیتا رہا۔ “دیکھو بھیا یہ ریڈیو ہے۔۔۔۔آرام سے اٹھاؤ، ایسا نہ ہو ٹوٹ جائے۔ یہ اس کے تار بھی ساتھ لیتے جاؤ۔”
“تہہ کر لو بھائی۔ اسے تہہ کرلو، اخروٹ کی لکڑی کی تپائی ہے۔ ہاتھی دانت کی پچی کاری ہے، بڑی نازک ہے۔۔۔۔۔۔۔ہاں اب ٹھیک ہے۔”
“نہیں نہیں، یہاں مت پیو، بہک جاؤ گے۔ اسے گھر لے جاؤ۔”
“ٹھہرو، ٹھہرو، مجھے مین سوچ بند کرلینے دو، ایسا نہ ہو کرنٹ کا دھکا نہ لگ جائے۔”
اتنے میں ایک کونے سے شور بلند ہوا۔ چار بلوائی ریشمی کپڑے کے ایک تھان پر چھینا جھپٹی کر رہے تھے۔ دبلا پتلا آدمی تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور ملامت بھرے لہجے میں ان سے کہا۔ “تم کتنے بے سمجھ ہو۔ چندی چندی ہوجائے گی ایسے قیمتی کپڑے کی۔ گھر میں سب چیزیں موجود ہیں۔ گز بھی ہوگا۔ تلاش کرو اور ماپ کر کپڑا آپس میں تقسیم کر لو۔”
دفعتاً کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ “عف، عف، عف۔” اور چشم زدن میں ایک بہت بڑا گدی کتا ایک جست کے ساتھ اندر لپکا اور لپکتے ہی اس نے دو تین لٹیروں کو بھنبھوڑ دیا۔ دبلا پتلا آدمی چلایا۔ “ٹائیگر، ٹائیگر۔”
ٹائیگر جس کے خوفناک منہ میں ایک لٹیرے کا نچا ہوا گریبان تھا، دم ہلاتا ہوا دبلے پتلے آدمی کی طرف نگاہیں نیچی کئے قدم اٹھانے لگا۔
کتے کے آتے ہی سب لٹیرے بھاگ گئے تھے۔ صرف ایک باقی رہ گیا تھا جس کے گریبان کا ٹکڑا ٹائیگر کے منہ میں تھا۔ اس نے دبلے پتلے آدمی کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ “کون ہو تم؟”
دبلا پتلا آدمی مسکرایا۔ “اس گھر کا مالک۔۔۔۔۔دیکھو دیکھو تمھارے ہاتھ سے کانچ کا مرتبان گر رہا ہے۔

• — — — — — — — — — — — — •

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: