Posted by: Bagewafa | اگست 25, 2013

کچھ سبیل کرو۔۔۔۔جمال احمد انجم

کچھ سبیل کرو۔۔۔۔جمال احمد انجم

 

دیارِ غیر میں جینے کی کچھ سبیل کرو

ہرا ہے زخم تو بھرنے کی کچھ سبیل کرو

 

نہ منزلوں کا نشاں ہیں نہ راہبر کوئ

کوئ اُپائ کرو یار کچھ سبیل کرو

 

مسیحا خضر و رہنما کے منتظر لو گو

خود اپنے درد کے درماں کی کچھ سبیل کرو

 

وہ دیکھ خوف سے لرزاں ہے تیرگی کا علم

بس ایک چراغ جلانے کی کچھ سبیل کرو

 

وہ دیکھو آگ کے شعلے جلائے بیتھیں ہیں

گھرون کو اپنے بچانے کی کچھ سبیل کرو

 

تمہارے دیس میں انجم برا اندھیرا ہے

چراغِ طور جلانے کی کچھ سبیل کرو

 

 

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: