Posted by: Bagewafa | اگست 25, 2013

تماشہ ديکھو…..حسرت موہاني

تماشہ ديکھو…..حسرت موہاني

 

پھر بھي ہے تم کو مسيحائي کا دعويٰ ديکھو

مجھ کو ديکھو، ميرے مرنے کي تمنا ديکھو

 

جرمِ  نظارہ پہ کون اتني خوشآمد کرتا

اب وہ روٹھے ہيں لو اب اور تماشہ ديکھو

 

دو ہي دن ميں وہ بات ہے نہ وہ چاہ نہ پيار

ہم نے پہلے ہي يہ تم سے نہ کہا تھا ديکھو

 

ہم نہ کہتے تھے بناوٹ سے ہے سارا غصہ

ہنس کے لوپھر وہ انھوں نے ہميں ديکھا، ديکھو

 

مستيِ حسن سے اپني بھي نہيں تم کو خبر

کيا سنو عرض ميري، حال ميرا کيا ديکھو

 

گھر سے ہر وقت نکل آتے ہو کھولے ہوئے بال

شام ديکھو نہ ميري جان سويرا ديکھو

 

خانہِ  جاں ميں نمودار ہے اک پيکر ِ نور

حسرتو! آؤ، رخ ِ يار کا جلوہ ديکھو

 

سامنے سب کے مناسب نہيں ہم پر يہ عتاب

سر سے ڈھل جائے نہ غصے ميں دوپٹہ ديکھو

 

مر مٹے ہم تو کبھي ياد بھي تم نے نہ کيا

اب محبت کا نہ کرنا کبھي دعوٰي ديکھو

 

دوستو! ترکِ محبت کي نصيحت ہے فضول

اور نہ مانو تو دلِ زار کو سمجھا ديکھو

 

سر کہيں، بال کہيں، ہاتھ کہيں، پاؤں کہيں

اس کا سونا بھي ہے کس شان کا سونا ديکھو

 

اب وہ شوخي سے يہ کہتے ہيں، ستمگر جو ہيں ہم

دل کسي اور سے کچھ روز کو بہلا ديکھو

 

ہوسِ ديد مٹي ہے نہ مٹے گي، حسرتؔ

ديکھنے کيلئے چاہو انہيں جتنا ديکھو

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: