Posted by: Bagewafa | فروری 8, 2014

ایک قاتل پرے بھارت کا سردار نہی ہو سکتا ہے۔….عمران پرتاپ گھڑھی

ایک قاتل پرے بھارت کا سردار نہی ہو سکتا ہے۔….عمران پرتاپ گھڑھی


تم کہتے ہو فولاد ہے مجھے جلتا ہوا گھر یاد ہے
جانے کتنی بستی اجاڑ، جو ستا پر آباد ہے
پی۔
ایم پد کی گرِما کا وہ حقدار نہی ہو سکتا ہے
ایک قاتل پرے بھارت کا سردار نہی ہو سکتا ہے۔


ایک شخص مہاتما گاندھی کے مضمون بیچتا پھرتا ہے
نفرت کی ترازو پر رکھ کر قانون بیچتا پھرتا ہے
جو چائے بیچتا پھرتا تھا کل تک ٹرین کے ڈبو میں
پی۔ ایم پدکی خاطر وہ سب کا خون بیچتا پھرتا ہے
جو خون بہا گجرات میں وہ بیکار نہی ہو سکتا ہے
ایک قاتل پرے بھارت کا سردار نہی ہو سکتا ہے۔


گر جیت ہی کا پیمانہ ہے تو کیا پھولن کو مسیحا مانو میں
ڈکوا کو ڈکیت نہ بولوں، ورپن کو مسیحا مانو میں
اس دیش میں رام بھی جن میں تھے اس دیش کرشن بھی جنمے تھے
کیا چاہتے ہو اس دیش میں ، یہ راون کو مسیحا مانوں میں
میرا ضمیر چپ رہنے کو تیار نہی ہو سکتا ہے
ایک قاتل پرے بھارت کا سردار نہی ہو سکتا ہے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: