Posted by: Bagewafa | فروری 21, 2014

محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر تحریر : ع۔ ح۔ شفیع لیثی


محی الدین احمد ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت: تاریخ کی بے رحم کسوٹی پر
تحریر : ع۔ ح۔ شفیع لیثی

محی الدین احمدابوالکلام آزاد بر صغیر کی تاریخ کا وہ نفیس کردار ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ غیرمنقسم ہندوستان کی عظیم اور مقتدر شخصیتوں میں سے ایک تھے اور یقینا علم وفراست کے امام تھے۔ آپ کوسماج، معاشرہ، زبان کلام بیان مذہب بین المذاہبی تقابلات اور سیاست کے پیچ و خم پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے قرآن کی تفسیر لکھی، مذہب کو جانچا،آباء کی دیرینہ رسومات کو ترک کیا،سیاست کے دشت میں آبلہ پائی کی،اصول و نظریات کو نیا اور معتبر لب و لہجہ دیا ، سیاسی بصیرت کے مفاہیم کو نئی روشنی دی اور خود ساختہ قائدین ملت کے اجتماعی سیاسی شعورکو بونا کردیا۔یقینا یہ متحدہ بھارت کا عظیم سرمایہ تھا جسے نفس پرست سیاست داں سمجھ نہ سکے اور آج نصف صدی سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود بھی ان کے ویژن،حالات کی نبض شناشی اور ان کی عظیم سیاسی بصیرت پر ہم جیسے طالب علم انھیں خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ ابوالکلام آزاد ہرلحاظ سے جامع شخصیت کے مالک تھے ان پر انگریزی لفظ Polymath پورا اترتا ہے جس میدان میں قدم رکھا اپنی شخصیت علم اور ثابت قدمی کی وجہ سے کامیابی کی منزلیں چھولیں اپنوں نے دھتکاراگالیاں دیں لیکن انھوں نے ہمیشہ مہذب لہجے میں کلام کیا اور ادب ولحاظ کی حدود کی پاسداری کی ان پر علامہ اقبال کا یہ شعرپورا اترتا ہے #
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا
مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ ملت اسلامیہ ہند کا روشن چراغ ہیں جس کی روشنی بصیرت و بصارت کو جلا دیتی ہے۔
ابو الکلام آزاد علم دوست ،حریت پسند اور قوم پرست مسلمان رہنما تھے۔ زندگی کا سفر 1888میں شروع ہوا۔ عملی زندگی کا آغاز1904سے شروع ہوا ۔ 1923، 1930 اور 1939میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کے قائم مقام صدر مقرر کیے گئے۔ 1940 میں کانگریس کے(دوبارہ۔ابن کلیم)صدر منتخب ہوئے اورمسلسل 1946 تک ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہے۔ صحافت میں ہفتہ وارالہلال( 1912)اور ہفتہ وارالبلاغ(1915) جاری کیا جو اردو صحافت کی تاریخ میں نئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ خطیب تھے تو بے مثل۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف کراچی کی ایک عدالت میں جو بیان دیا، وہ قول فیصل کے نام سے لوح تاریخ پہ ثبت ہے۔ قلم اٹھایا تو اردو نثر کے شاہکار غبار خاطر اور تذکرہ ان کی تراوش فکر کی بلندیوں کے معمولی نمونے بنے۔ صحافت کی دنیا کی سیر کرنے پہ آیا تو بڑے بڑے صحافی اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے نظر آئے، علم قاموسی اور بیان کی فصاحت ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئی ۔ دینی علوم کی غواصی کی تو تفسیر قرآن میں ایسے موتی دریافت کیے جن کی آپ اہل علم کے لیے کحل جواہر قرار پائی۔ سیرت النبی پربولنے اور لکھنے پر آیا تو بڑے بڑے سیرت نگارحیرت میں پڑگئے ۔ مولانا آزاد بیس برس کی عمر میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے۔ قید و بند کا سلسلہ رانچی بہار سے شروع ہوااور قلعہ احمد نگر میں 1945میں ختم ہوا۔ کل 68برس اور سات ماہ۔ اس میں 9برس اور 8ماہ انگریز کی قید کاٹی۔ گویا عمر عزیز کا ہر ساتواں روز جیل میں کٹا۔
اب جسے مولانا ابو الکلام آزاد کی سیاسی بصیرت میں شک ہو وہ غیر جانب داری کے ساتھ ملک کی تاریخ کامطالعہ کرلے کہ اس وقت ملک کے حالات کیا تھے ؟کس دباوٴ کا سامنا تھا؟مسلمانوں کی کیفیت کیا تھی؟ یقینا مولا نا آزاد کے بارے میں اس کی رائے بدل جائے گی۔ ”انڈیا ونس فریڈم“پرایک نظر ڈالیے تعجب ہوتا ہے ۔ اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ علامہ آزاد کی سیاسی بصیرت کے تذکرہ کے بغیرملک کی جنگ آزادی کی تاریخ کا تذکرہ بے معنی ہو جائے گا۔۔ نہرو ہوں یا پٹیل ،گاندھی ہوں یا جناح مولانا کی رائے کا اعتبار تسلیم شدہ امر تھا۔ نپی تلی بات لیکن کوئی ایک لفظ شرافت اور شائستگی سے گرا ہوا نہیں۔ کوئی ایک جملہ نہیں جو سچائی ، توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھئے تو مولانا نے اس تصنیف میں جسے آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاسکتا ہے ، سب سے کڑا احتساب خو د اپنی ذات کا کیا ہے حالانکہ احتساب ایک کڑا اور کڑوا عمل ہے۔
مولانا کے نقطہ نظر سے سیاسی مکالمے کی معروف روایت میں اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اوراس پر بھی بات ہو سکتی ہے کہ مولانا آزاد عملی سیاست کے جوڑ توڑ سے ماورا تھے یا نہیں؟ تاہم مولانا کی سیاسی بصیرت، شرافت، بلند نگاہی، علمی حیثیت، وضع داری اور خودداری پر کوئی سوال اٹھایا ہی نہیں جاسکتا۔ محمد علی جناح کے سیاسی کیرئیر پر یہ ایک بدنما نشان ہے کہ مفادات کی بساط پرکھیلے جارہے سیاسی کھیل میں مسلم لیگ کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے جب انھوں نے کانگریس کو ہندو جماعت قرار دینا چاہا تو محی الدین ابو الکلام آزاد کو کانگریس کا ”شوبوائے“ قرار دے دیا۔جبکہ مولانا کو اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کی عادت تھی اور نہ ہی مولانا آزاد اسے ضروری سمجھتے تھے۔ معاملہ ویژن اور شعور کا تھالیکن اس کے برخلاف مولانا نے اپنی تصنیف میں حیران کن طور پر محمد علی جناح کا ایک سے زیادہ مقامات پر نہ صرف یہ کہ تذکرہ کیا بلکہ متعدد امور و معاملات میں ان کے نقطہ نظر کو مسترد کرنے کے لیے معقول لب ولہجہ اختیار کیا اوراصول وعقلیت کے معیار کا پورا لحاظ رکھا ہے۔
مسلم لیگ کی قیادت نے متحدہ بھارت میں جس خود غود غرض سیاسی ثقافت کو آگے بڑھایااور فکری تنگ نظری کے حصار میں بند ہوکر یہ لوگ جس طرح ملک کی تقسیم میں برطانیہ اور ان کے رفقاء کے نظریاتی المیہ اور مفادات کی جنگ کا ہراول دستہ بنے اس المیہ پرمولانا آزاد کی دوررس نگاہوں نے حالات کی سنگینی کووقت سے پہلے محسوس کرلیا تھا۔ سچ یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی بصیرت ان بد ترین مضمرات کو دیکھ رہی تھی جوقومیت کی بنیاد پرالگ ملک کے قیام سے پیدا ہونے والے تھے اور یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی کہ دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کو انھوں نے قطعیت کے ساتھ مسترد کردیا تھا۔ اب یہ ملک و ملت کی بدقسمتی تھی کہ حالات کے تباہ کن جبرنے بر صغیر کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدل ڈالا، بدقسمتی سے ملک تقسیم ہوگیا۔ مسلم لیگ اور مسلم سیاست کا کمزورویژن تاریخ کے صفحات پرمحفوظ ہوگیااورمولانا مرحوم کی سیاسی بصیرت اور زمینی سچائیوں کی امید افزا پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ لیکن کیا مولانا آزاد ناکام ہو گئے تھے؟
قیام پاکستان سے تقریبا سوا سال قبل اپریل 1946 جریدہ چٹان میں قیام پاکستان کو لے کر مولانا نے کچھ پیشین گوئیاں کی تھیں،یہ انٹرویو شورش کاشمیری نے لیا تھا۔ انٹرویو کے اقتباسات درج ذیل ہیں:
1۔ کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نااہل سیاسی قیادت فوجی آمروں کی راہ ہموار کرے گی۔
2۔ بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ہوگا۔
3۔ پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان ہوگا اور جنگ کے امکانات ہوں گے ۔
4۔ داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ہوں گے۔
5۔ پاکستان کے صنعتکاروں اور نودلتیوں کے ہاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ہوگی۔
6۔ نودلتیوں کے استحصال کے نتیجے میں طبقاتی جنگ کا تصور پیدا ہوگا۔
7۔ نوجوانوں کی مذہب سے دوری،عدم اطمینان اور نظریہ پاکستان کا خاتمہ ہوجائے گا۔
8۔ پاکستان پر کنٹرول کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی سازشیں بڑھیں گی۔
مارچ2012تقریباً 65 سال بعد پاکستان جیوٹی وی کے پاکستانی اینکرکامران خان لائیو ٹیلی ویژن شو میں پاکستان کے تئیں مولانا آزاد کے خدشات کی سچائیوں پر تفصیل سے گفتگو کرتے نظرآئے ۔یعنی وہ لوگ جو دو قومی نظریہ کی چمک میں عقل و خرد کی منزلیں پار کر گئے تھے، جن کی نظروں میں مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا سیاسی نظریہ ناقابل معافی جرم تھا اور جو لوگ مسلسل مولانا آزاد کے ساتھ قومی مجرم جیسا سلوک کرتے رہے ہیں وہی آ ج مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کرتے نظر آرہے ہیں۔اس پروگرام کی تفصیل کے لیے دیکھئے یو ٹیوب :
"Kamran Khan of GEO analysing today’s Pakistan in context of Maulana Azad speech”
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی کمال تھا جونہ صرف نظریہ پاکستان کے خالقین کے تصوراتی مملکت کے خد وخال پر ان کی گہری نگاہ تھی بلکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت بھی سارا منظر اور پس منظر ماضی ، حال اور مستقبل کی جزئیات اور تفصیل کے ساتھ مولانا کی دور رس نگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی جو قومیت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے بھیانک مضمرات محسوس کررہی تھی اور مولانا آزاد کی دوربیں نگاہیں حالات کے دونوں پہلووں کو دیکھ رہی تھیں۔ اکتوبر 1947میں جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے خبردارکیا تھا کہ:
”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کی سرٹیفکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمھیں اس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انھیں بھلاوٴ نہیں ،انھیں چھوڑ و نہیں، ان کے وارث بن کر رہو او رسمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمھیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آوٴ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لیے ہیں او را س کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔“
یوپی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا:
”آپ مادر وطن چھوڑ کر جارہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسابھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کامذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ،قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اوروطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے۔“
یہ کوئی جذباتی اپیل نہیں تھی نہ ہی کوئی نظریاتی تقریر تھی یہاں مولانا کی سیاسی بصیرت کا نقطہ عروج بول رہا تھا اور آپ کی سیاسی بصیرت مستقبل میں جھانک رہی تھی۔ جبکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک ایسے دانشور تھے جس کی نگاہِ دور رس نے بھانپ لیا تھا کہ ملک کی تقسیم کسی طرح بھی مسلمانوں کے لیے سودمند نہ ہوگی۔ اگر ملک کا بٹوارہ ہوا تو مسلمان ہندوستان میں نہ صرف ایک کمزور اقلیت بن کر رہ جائیں گے بلکہ اکثریت کے رحم وکرم پر زندگی گزاریں گے یہ کوئی بے معنی خوف نہیں تھا۔ اول تا آخر حالات شاہد ہیں کہ تقسیم کی بابت مولانا آزاد کا انتباہ بالکل درست تھا ۔ مولانا نےIndia wins Freedomمیں لکھا:
”میں نے مسلم لیگ کی پاکستا نی اسکیم پر ہر زاویے سے غور کیا تو میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ تقسیم ملک کے لیے اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیوں کہ اس سے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزیدپیدا ہوجائیں گے۔“
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کو سلام کیا جانا چاہیے کہ سا نحہ تقسیم کے باوجود بھی بڑی حد تک ملک سیکولر زم کی راہ پر گامزن رہااور اس کا سہرا بڑی حد تک مولانا کے سر جاتا ہے۔ مولانا کی قیادت، ان کے تدبر، ان کی شخصیت میں مرکوز ہندوستانی امتزاج ، سیکولرزم کے لیے ان کی جہد مسلسل اور ان کی مشترکہ تہذیب کی زندہ جاوید علامت ہونے کی بدولت ہی ہندوستان سیکو لر بنا رہا اور ملک کے مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا آزاد جیسی شخصیت نے ان کی رہنمائی کی ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی قومی تحریک کے عظیم رہنماوٴں میں مولانا آزاد کی تعلیمات کو محض ادھورا سمجھا گیا ہے اور عوام کی اکثریت کے سامنے ان کی حیثیت بس ایک قوم پرست مسلم رہنما کی ہے۔ مولانا آزاد رحمہ اللہ کی قومی تحریک ایک جذباتی یادگار،نشانی اوربھولی بسری وراثت کے طور پر باقی رہ گئی ہے جس کی عزت تو کی جاتی ہے مگر اسے واضح اور تنقیدی طور پر سمجھنے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ مولانا آزاد پوری زندگی سیکولرزم کی نمائندگی کرتے رہے۔ سیاسی بصیرت کے نقطہ کمال پر فائز آزاد کے خوابوں کا بھارت ایک مضبوط خود اعتمادی سے معمور سیکولر بھارت تھا:”دنیا کو ہمارے ارادوں کے بارے میں شک رہا ہو مگر ہمیں اپنے فیصلوں کے بارے میں شک نہیں گزرا۔ وقت کا کوئی الجھاوٴ، حالات کا کوئی اتار چڑھاوٴ اور معاملوں کی کوئی چبھن ہمارے قدموں کا رخ نہیں بدل سکتی“… امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد۔

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: