Posted by: Bagewafa | اپریل 12, 2014

پتھر اچھالتا ہے کوئی ۔۔۔گلزار

پتھر اچھالتا ہے کوئی ۔۔۔گلزار

دن کچھ ايسے گزارتا ہے کوئی

جيسے احساں اتارتا ہے کوئی

آئينہ ديکھ کے تسلي کوئی

ہم کو اس گھر ميں جانتا ہے کوئی

پک گيا ہے شجر پہ پھل شايد
پھر سے پتھر اچھالتا ہے کوئی

پھر نظر ميں لہو کے چھينٹے ہيں
تم کو شايد مغالطہ ہے کوئی

دير سے گونجتے ہيں سناٹے

جيسے ہم کو پکارتا ہے کوئی

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: