Posted by: Bagewafa | ستمبر 23, 2014

انگلیاں ۔۔۔۔۔۔محمد علی وفا

انگلیاں ۔۔۔۔۔۔محمد علی وفا

دامن کو پھاڑ دیتی ہے دیوارکی کیلیں

گاڑی ہے یہاں کس نے زُلیخاں کی انگلیاں

جنوں بڑھا جو قیس کا مجنوں بن گیا
دیکھی تھی اسنے تو فقط لیلیٰ کی انگلیاں

مہتاب بھی دو ٹو کروں میں بٹ گیا آخر
اٹھی تھی ایک پل ذرا طاہا کی انگلیاں

لکھتا رہا وہ ریت پر عشق کے قصے
تھمتی نہیں تھی ایک پل رسواکی انگلیاں

مقدرکو پلٹ دیتا ہے جب بھی وہ چاہے
انسان کے قلبوں پہ ہے مولٰی کی انگلیاں

ہم تو وفا چلتےر ہے اپنی ہی چال سے
اٹھتی رہی پھر بھی سدا أعداکی انگلیاں۔

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: