Posted by: Bagewafa | نومبر 27, 2015

خووشبو ٹھہر گئی۔—محمد علی وفا

خووشبو ٹھہر گئی۔—محمد علی وفا

 

دیکھو خزاں کی بھی یہاں قسمت سنور گئی،
گل تو گئے تھے باغ سے خوشبو ٹھہر گئی۔

 

یادوں کے شہر سے کوئی گم ہو گئی متاع
پتلی نمک کی پانی میں جیسے اتر گئی

 

برسونکی اب یہ بات ہے –ماضی کی داستاں
ایک قافلے کی دھول تھی ہر سو بکھر گئی

 

اپنی بلند یوں پہ نہ ہو فخر کسی کو
ندی بلندیوں میں دھلاں سے گزر گئ

 

اب کیا پتہ ہے اسکا نہ کوئی ہے ٹھکانہ
وہ تھی صدائے قیس کی ا آئی گزر گئی

 

اڑتی ہوئی تو ریت میں پائے کیا وفا
صحرا کی ریت ٓائ اِدھر سے اُدھر گئ

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: