Posted by: Bagewafa | مارچ 9, 2016

وہ مسلمان تھے ! ۔۔۔۔۔۔ دیوی پرساد مشر

 

cropped-12771798_1566622823628452_2081327229453989269_o[1]

 

وہ مسلمان تھے ! ۔۔۔۔۔۔ دیوی پرساد مشر

ہندی کے مشہور شاعر دیوی پرساد مشر نے بھارتیہ مسلمانوں کے اتہاس۰(تاریخ)، انکے سنسکرتی(تهذیب)۰ اور انکی سمسیاؤں(مسائل) پر ایک لمبی نظم لکھی ہے! جو اردو رسم ا لخط میں پیش کی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں وہ وپتی(مصیبت) کی طرح آئے

کہتے ہیں وہ پردوشن( آلودگی )کی طرح پھیلے
وہ ویادھی(مرز) تھے
براہمن کہتے تھے وہ ملیچھ تھے
وہ مسلمان تھے
انہوں نے اپنے گھوڑے سندھو میں اتارے
اور پکارتے رہے ہندو! ہندو!! ہندو!!!
بڑی جاتی کو انہوں نے بڑا نام دیا
ندی کا نام دیا
وہ ہر گہری اور اورل(بڑی) ندی کو
پار کرنا چاہتے تھے
وہ مسلمان تھے لیکن وہ بھی
یدی کبیر کی سمجھداری کا سہارا لیا جائے تو
ہندوؤں کی طرح پیدا ہوتے تھے
انکے پاس بڑی بڑی کہانیاں تھیں
چلنے کی
ٹھہرنے کی
پٹنے کی
اور مرتیو(موت) کی
پرتپکشی(مدے مقابل) کے خون میں گھٹنوں تک
اور اپنے خون میں کندھوں تک
وہ ڈوبے ہوتے تھے
انکی مٹھیوں میں گھوڑوں کی لگا میں
اور میانوں میں سبھیتا(تهذیب) کے
نقشے ہوتے تھے
نہ! مرتیو (موت)کے لئے نہیں
وہ مرتیو(موت) کے لئے یدھ(لڑائ) نہیں لڑتے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ فارس سے آئے
توران سے آئے
سمرکند، فرغنا، سیستان سے آئے
ترکستان سے آئے
وہ بہت دور سے آئے
پھر بھی وہ پرتھوی(زمین) کے ہی کچھ حصوں سے آئے
وہ آئے کیونکہ وہ آ سکتے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ مسلمان تھے که یا خدا انکی شکلیں
آدمیوں سے ملتی تھیں ہوبہو
ہوبہو
وہ مہتوپورن اپرواسی(ضروری مسافر) تھے
کیونکہ انکے پاس دکھ کی سمرتیاں(یاد داست) تھیں
وہ گھوڑوں کے ساتھ سوتے تھے
اور چٹانوں پر ویریہ(منی) بخیر دیتے تھے
نرمان(تعمیر) کے لئے وہ بیچین تھے
وہ مسلمان تھے
یدی سچ کو سچ کی طرح کہا جا سکتا ہے
تو سچ کو سچ کی طرح سنا جانا چاہئیے
که وہ پر ائے اس طرح ہوتے تھے
که پر ائے پتہ ہی نہیں لگتا تھا
که وہ مسلمان تھے یا نہیں تھے
وہ مسلمان تھے
وہ نہ ہوتے تو لکھنؤ نہ ہوتا
آدھا الہ آباد نہ ہوتا
مہرابیں نہ ہوتیں، گنبد نہ ہوتا
آداب نہ ہوتا
میر۔ مقدوم۔ مومن۔ نہ ہوتے
شبانہ نہ ہوتی
وہ نہ ہوتے تو اپ مہا دیپ(برے صغیر) کے سنگیت کو سنوار نے والا خسرو نہ ہوتا
وہ نہ ہوتے تو پورے دیش کے غصے سے بیچین ہونیوالا کبیر نہ ہوتا
وہ نہ ہوتے تو بھارتیہ اپ مہا دیپ(برے صغیر) کے دکھ کو کہنیوالا غالب نہ ہوتا
مسلمان نہ ہوتے تو اٹھارہ سو ستاون نہ ہوتا
وہ تھے تو چچا حسن تھے
وہ تھے تو پتنگوں سے رنگین ہوتے آسمان تھے
وہ مسلمان تھے
وہ مسلمان تھے اور ہندوستان میں تھے
اور انکے رشتےدار پاکستان میں تھے
وہ سوچتے تھے که کاش وہ ایک بار پاکستان جا سکتے
وہ سوچتے تھے اور سوچ کر ڈرتے تھے
عمران خان کو دیکھ کر وہ خوش ہوتے تھے
وہ خوش ہوتے تھے اور خوش ہوکر ڈرتے تھے
وہ جتنا پی اے٠سی٠ کے سپاہی سے ڈرتے تھے
اتنا ہی رام سے
وہ مرادآباد سے ڈرتے تھے
وہ میرٹھ سے ڈرتے تھے
وہ بھاگلپور سے ڈرتے تھے
وہ اکڑتے تھے لیکن ڈرتے تھے
وہ پوتر(پاک) رنگوں سے ڈرتے تھے
وہ اپنے مسلمان ہونے سے ڈرتے تھے
وہ فلیستینی نہیں تھے لیکن اپنے گھر کو لیکر گھر میں
دیش کو لیکر دیش میں
خود کو لیکر آشوست (عبدی)نہیں تھے
وہ اکھڑا اکھڑا راگ دویش(رقیب) تھے
وہ مسلمان تھے
وہ کپڑے بنتے تھے
وہ کپڑے سلتے تھے
وہ تالے بناتے تھے
وہ بکسے بناتے تھے
انکے شرم(مہنت) کی آوازیں
پورے شہر میں گونجتی رہتی تھیں
وہ شہر کے باہر رہتے تھے
وہ مسلمان تھے لیکن دمشق انکا شہر نہیں تھا
وہ مسلمان تھے عرب کا پیٹرول انکا نہیں تھا
وہ دجلا کا نہیں یمنا کا پانی پیتے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ مسلمان تھے اسلئے بچ کے نکلتے تھے
وہ مسلمان تھے اسلئے کچھ کہتے تھے تو ہچکتے تھے
دیش کے زیادہ تر اخبار یہ کہتے تھے
که مسلمان کے کارن(وجہ سے) ہی کرفیو لگتے ہیں
کرفیو لگتے تھے اور ایک کے بعد دوسرے حادثے کی
خبریں آتی تھیں
انکی عورتیں
بنا دہاڑ مارے پچھاڑیں کھاتی تھیں
بچے دیواروں سے چپکے رہتے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ مسلمان تھے اسلئے
زنگ لگے تالوں کی طرح وہ کھلتے نہیں تھے
وہ اگر پانچ بار نماز پڑھتے تھے
تو اس سے کئی گنا زیادہ بار
سر پٹکتے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ پوچھنا چاہتے تھے که اس لال قلع کا ہم کیا کریں
وہ پوچھنا چاہتے تھے که اس ہمایوں کے مقبرے کا ہم کیا کریں
ہم کیا کریں اس مسجد کا جس کا نام
قوت ال اسلام ہے
اسلام کی طاقت ہے
ادرک کی طرح وہ بہت کڑوے تھے
وہ مسلمان تھے
وہ سوچتے تھے که کہیں اور چلے جائیں
لیکن نہیں جا سکتے تھے
وہ سوچتے تھے یہیں رہ جائیں
تو نہیں رہ سکتے تھے
وہ آدھ ذبح بکرے کی طرح تکلیف کے جھٹکے محسوس کرتے تھے
وہ مسلمان تھے اسلئے
طوفان میں پھنسے جہاز کے مسافروں کی طرح
ایک دوسرے کو بھینچے رہتے تھے
کچھ لوگوں نے یہ بحث چلائی تھی که
انہیں پھینکا جائے تو
کس سمندر میں پھینکا جائے
بحث یہ تھی
که انہیں دھکیلا جائے
تو کس پہاڑ سے دھکیلا جائے
وہ مسلمان تھے لیکن وہ چینٹیاں نہیں تھے
وہ مسلمان تھے وہ چوزے نہیں تھے
ساودھان!
سندھو کے دکشن(جنوب) میں
سینکڑوں سالوں کی ناگرکتا(شہریت) کے بعد
مٹی کے ڈھیلے نہیں تھے وہ
وہ چٹان اور اون کی طرح سچ تھے
وہ سندھو اور ہندوکش کی طرح سچ تھے
سچ کو جس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہو
اس طرح وہ سچ تھے
وہ سبھیتا(تہزیب) کا انواریہ(بہت ضروری) نیم(قانون) تھے
وہ مسلمان تھے افواہ نہیں تھے
وہ مسلمان تھے
وہ مسلمان تھے

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: