Posted by: Bagewafa | مئی 1, 2017

सो जाते है फुटपाथ पे अखबार बिछाकर—मुनव्वर राना سوجاتے ہے ٖفٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر—- منور رانا

سوجاتے ہے ٖفٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر—- منور رانا

.

ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے

بچے ہے تو کیو شوق سے مٹھی نہیں کھاتے

.

تجھ سے نہیں ملنے کا ارادہ تو ہے لیکن

تجھ سے نہ ملیں گے یہ قسم بھیں نہی کھاتے

.

سو جاتے ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہی کھاتے

.

بچے بھی غریبی کو سمجھنے لگے شاید
اب جاگ بھی جاتے ہے تو سحری نہیں کھاتے

.

دعوت تو بڑی چیز ہے ہم جیسے قلندر

ہر ایک کے پیسے کی دوا بھی نہیں کھاتے

.

اللہ غریبوں کا مددگار ہے ‘رانا’

ہم لوگو کے بچے کبھی سردی نہیں کھاتے

सो जाते है फुटपाथ पे अखबार बिछाकर—मुनव्वर राना

.

हसते हुए माँ-बाप की गाली नहीं खाते
बच्चे है तो क्यो शौक से मिट्ठी नहीं खाते

.

तुझ से नहीं मिलने का इरादा तो है लेकिन

तुझसे न मिलेंगे ये कसम भीं नही खाते

.

सो जाते है फुटपाथ पे अखबार बिछाकर
मजदूर कभी नींद की गोली नही खाते

.

बच्चे भी गरीबी को समझने लगे शायद
अब जाग भी जाते है तो सहरी नहीं खाते

.

दावत तो बड़ी चीज़ है हम जैसे कलंदर
हर एक के पैसे की दवा भी नहीं खाते

.

अल्लाह गरीबो का मददगार है ‘राना’
हम लोगो के बच्चे कभी सर्दी नहीं खाते

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: