Posted by: Bagewafa | جولائی 24, 2017

امام بخاریؒ چند امتیازی خصوصیات….مفتی محمد مجیب الرحمن دیودرگی

امام بخاریؒ چند امتیازی خصوصیات  ….مفتی محمد مجیب الرحمن دیودرگی

         

   .

 

دینی مدارس سے ہر سال لاکھوں فضلا فارغ التحصیل ہوتے ہیں، ان تمام طلبہٴ کرام نے آخری سال امام بخاریانکی صحیح بخاری شریف پڑھی، احادیث مبارکہ کے ورد کے ساتھ، سند پر، متن پر کلام کو سماعت فرمایا، ہزاروں دفعہ امام بخاریکا تذکرہ آیا، ان کے اقوال، ان کے ابواب پر بحث ومباحثہ کو سنا، مناسب محسوس ہوا کہ امام بخاریکی کچھ خصوصیات کا تذکرہ کیا جائے، تاکہ فارغین مدارس ان کے ان قابل تقلید پہلووٴں کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔جس کتاب کو ہم نے سال بھر پڑھا، اس سے مستقل لگاوٴ رکھا، اس کتاب کے مصنفکی زندگی بھی ہمارے سامنے رہے ، تاکہ خارجی زندگی میں انہیں اپنائیں، اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔

 

حرام مال سے پرہیز

امام بخاری (متوفی 256ھ)کے زمانے میں احادیث مبارکہ کی سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں، کئی مصنفین ومحدثین کا اس زمانے میں دور دورہ تھا، ایک ایک محدث کے سینکڑوں شاگرد ہوا کرتے تھے، ان سب کے باوجود جو قبولیت اللہ تعالیٰ نے امام بخاریاور ان کی کتاب کو نصیب فرمائی وہ دوسروں کے حصے میں نہیں آئی، اس کے اسباب ووجوہات پر نظر کرتے ہوئے علماء نے ارشاد فرمایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے والد بزرگوار نے اپنے بچے کے لیے حلال اور پاکیزہ غذا کا اہتمام کیا تھا او رحرام اور مشتبہ مال سے اپنے اہل وعیال کی حفاظت فرمائی تھی، جس حلال کی برکت اتنے بڑے علمی کارنامے کے ذریعہ ظاہر ہوئی، بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ (قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب) کا درجہ حاصل ہوا ہے، انسان کے اس کارنامے کو یہ درجہ حاصل ہونا کوئی معمولی بات نہیں، علماء نے ارشاد فرمایا کہ اس درجے کے حاصل ہونے میں ان کے والد کا کھانے کے سلسلہ میں کمال احتیاط کو بڑا دخل ہے، جب کہ ان کے والدنے انتقال کے موقعہ پر اپنے کثیر مال کے تعلق سے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لاأعلم من مالي درہما من حرام، ولا درہما من شبہة“(فتح الباری1/479) میرے مال میں کوئی درہم حرام تو درکنار شبہ کا بھی نہیں ہے، اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک اپنی آمدنی کے ذرائع پر نظر رکھے، پاکیزہ اور طیب کی تلاش میں رہے اور حرام وناپاک مال سے اجتناب کرے۔

 

غیبت سے اجتناب

حدیث مبارک میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کی جو تعریف کی ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ وزبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(مشکوة،ص:12) اس لحاظ سے دوسرے مسلمان کو ہاتھ سے اذیت پہنچانا تو دشوار ہے، لیکن زبان سے اذیت دی جاسکتی ہے اور اس سے بچنا نہایت دشوار کُن مرحلہ ہے، اس میں بھی غیبت سے بچنا بہت ہی مشکل ہے، نیز ایسے موقع پر جب کہ مخالفین کی جانب سے زبان وقلم کے نشتر چلائے جارہے ہوں اور مخالفین نیچا دکھانے کے لیے ہر جانب سے کوشاں ومساعی ہوں، اس کے باوجودحق پر زبان کی استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ آنا یہ امام بخاریکی کرامت سے بڑھ کر ہے، امام بخارینے فرمایا: ”ما ا غتبت أحدا منذ علمت أن الغیبة حرام، وفي روایة: لأرجو أں ألقی اللہ ولا یحاسبني أني اغتبت أحدا“ (فتح الباری1/480)جب سے مجھے غیبت کے حرام ہونے کا پتہ چلا تب سے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی، ایک اور روایت میں یوں ہے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حالت میں ملوں گا کہ اللہ تعالیٰ غیبت کے سلسلہ میں مجھ سے حساب نہیں لیں گے، کیوں کہ میں نے کسی کی غیبت نہیں کی۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مقبولیت کا یہ مقام ومرتبہ نصیب فرمایا، غیبت کے سلسلہ میں جس قدر سخت وعیدیں قرآن وسنت میں وارد ہوئی ہیں اسی قدر اس میں ابتلا بھی عام ہے، ایسے میں اپنی زبان پر قابو رکھنا اور مخالفین کے سلسلہ میں زبان کو ساکت رکھنا اور دوسروں کا تذکرہ برائی سے نہ کرنا، یہ ایسی خصوصیت ہے کہ جس کی آج ہر عام وخاص، عالم وجاہل سب کو ضرورت ہے ۔

 

علمی وقار کی حفاظت

ایک مرتبہ امام بخاریدریائی سفر کررہے تھے کہ ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں، ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاریکو اس پر اعتماد ہوگیا، اپنے احوال سے اس کو مطلع کیا، یہ بھی بتادیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں، ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا شروع کیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفی کی تھیلی غائب ہے، چناں چہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی، امام بخارینے موقعہ پاکر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی، تلاشی کے باوجود وہ تھیلی دست یاب نہ ہوسکی تو لوگوں نے اسی کی ملامت کی، سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاریسے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں؟ امام صاحب نے فرمایا: میں نے ان کو دریا میں ڈال دیا، کہنے لگا اتنی بڑی رقم کو آپ نے ضائع کردیا؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے، چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کرسکتا تھا؟!(مقدمہ کشف الباری، ص: 132 بحوالہ آفتاب بخارا118)

 

غور کیجیے! امام بخاریاپنے علمی وقار کی حفاظت کی خاطر اپنے کثیر مال کو ضائع کرنا پسند کیا، ثقاہت پر ادنیٰ آنچ آئے ان کی ثقاہت وبھروسہ پر حرف گیری کی جائے، اسے برداشت نہیں کیا، آج اللہ نے ہمیں بھی علم کی دولت سے نوازا ہے، علم کے نور سے منور فرمایا ہے، اسی علم کی دستار ہمارے سرپر لپیٹی گئی ہے، انہیں امام بخاریکی کتاب پڑھ کر ہم فارغ ہورہے ہیں تو مال کی خاطر، دولت کی لالچ میں علمی وقار کا سودا نہ کریں، فانی دولت کے لیے مال داروں کے سامنے اپنے آپ کو رسوا وذلیل نہ کریں، جس سے ہمارا علمی وقار مجروح ہوجائے۔

 

نیز طلبائے کرام کے ساتھ شفقت کا یہ عالم ہوتا کہ امام ابن حجر عسقلانیفرماتے ہیں: ”وکان قلیل الأکل جدا، کثیر الاحسان إلی الطلبة مفرط الکرم(فتح الباری 1/481) آپکی غذا بہت کم تھی اور طلبہ پر بہت زیادہ احسان وکرم فرماتے تھے۔ امام بخاریکی یہ خاص صفت بخاری پڑھے ہوئے اساتذہ کرام کو اپنانی چاہیے اور طلبہ کو اپنا غلام یا نوکر سمجھنے کی بجائے ان پر احسان وکرم کا معاملہ کرنا چاہیے، اس لیے یہ طلبہ اساتذہ کے لیے دو طرح سے محسن ہیں، ایک تو یہ کہ ا نہیں کی طفیل میں دنیا میں روزی ملتی ہے اور انہی کے ذریعہ آخرت کی سرخروئی ہے یہ طلبہ ہمارے علوم کے محافظ اور اس کے نشرکرنے والے بنیں گے، انہیں کے واسطے سے ہمارا فیض عالم میں پہنچے گا، طلبہ کے ساتھ ترش روئی ونازیبارویہ خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارلینے کے مترادف ہے، غور کیجیے! امیر الموٴمین فی الحدیث جب طلبہ کے ساتھ احسان وشفقت کا معاملہ کرسکتے ہیں جن کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے تو ہما شما کا کیا اعتبار؟

 

امام بخاریکی نماز

نماز بندہٴ مومن کی معرا ج ہے، اللہ تعالیٰ سے لینے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، صحابہ کرام کی حالت نماز میں ایسی ہوتی کہ گویا کہ وہ خشک لکڑی ہیں اور دو دو رکعت نماز کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرلیا کرتے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے اتنا لگاوٴ تھا کہ عبادت کرتے ہوے پائے مبارک پر ورم آجاتے، کوئی ادنیٰ سا معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے، اسی نماز کے تعلق سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حدیث جبرئیل میں تعلیم دی کہ:”أن تعبد اللہ کأنک تراہ فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک (مشکوة، ص:11) نماز میں اتنا استحضار پیدا کرو کہ نماز میں یہ تصور قائم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو تم دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تصور تو قائم کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہے ہیں، اس سے تمہیں عبادتوں میں احسانی کیفیت حاصل ہوگی۔ امام بخاریکی نماز کیسی احسانی کیفیت سے معمور تھی، آپ اس واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ ایک دفعہ آپنماز پڑھ رہے تھے بھڑنے آپ کے جسم پر سترہ دفعہ کاٹ دیا، جب آپنے نماز پوری کی تو کہا کہ دیکھو! کونسی چیز ہے جس نے مجھے نماز میں تکلیف دی ہے؟ شاگردوں نے دیکھا تو بھڑ تھی جس کے کاٹنے سے ورم آگیا تھا، آپسے جلدی نماز ختم کرنے کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ میں جس سورت کی تلاوت کررہا تھا اس کے ختم کرنے سے قبل نماز ختم کرنا نہیں چاہ رہا تھا۔(فتح الباری 1/481)

 

امام بخاریکا مجاہدہ

شاعر کہتا ہے #

        بقدر الکد تکتسب المعالي       

        من طلب العلی سہر اللیالي

محنت کے بقدر بلند یاں نصیب ہوتی ہیں، نیز جو بلندیاں چاہے وہ راتوں کو جاگا کرے، محنت کی جو بھی شکل ہو امام بخاریاسے اپنانے سے ہرگز گریز نہیں کرتے تھے، علم کے لیے مجاہدہ کی بابت امام محمد بن ابی حاتم وراق بیان کرتے ہیں کہ بسا ا وقات، دوران سفر امام بخاریکے ساتھ ایک ہی کمرہ میں رات گذرتی تھی، میں دیکھتا ہوں کہ رات کو پندرہ بیس دفعہ اٹھتے ہیں، ہر دفعہ چراغ جلا کر حدیث پر نشان لگاتے ہیں، پھر نماز تہجد ادا کرتے ہیں اور مجھے کبھی نہیں اٹھاتے ، میں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، آپ مجھے اٹھالیا کریں، امام صاحبنے فرمایا: تم جوان آدمی ہو، میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا۔ (سیر اعلام النبلاء 12/404 بحوالہ آفتاب بخارا 120)

 

آپ کے طعام کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: ”وکان قلیل الأکل جدا“ آپانکی خوراک بہت ہی کم تھی، بہت زیادہ مجاہدہ کھانے کے اعتبار سے برداشت کرتے تھے، امام بخاریکا قارورہ جب معائنے کے لیے اطباء کے پاس پیش کیا گیا تو اطباء نے دیکھ کر کہا کہ یہ ان لوگوں کے قارورے کی طرح ہے جو سالن کا استعمال نہیں کرتے، امام بخارینے فرمایا: ہاں بات صحیح ہے، میں نے چالیس سال سے شوربا استعمال نہیں کیا، اس کے علاج کے بارے میں پوچھا گیا تو اطباء نے کہا کہ اس کا علاج شوربا استعمال کرنا ہے، امام بخارینے انکار کیا حتی کہ مشائخ واہل علم نے بہت ہی زیادہ التجا کی تو رو ٹی کے ساتھ شکر استعمال کرنے لگے۔(فتح الباری 1/481) یہی وہ مجاہدات ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے امام بخاریکو بلندیاں نصیب فرمائیں۔

 

امام بخاریکا رمضان

رمضان کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے،ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت کرتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر دن سحری تک قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین رات میں تلاوت کرتے ہوئے قرآن ختم فرماتے، نیز رمضان کے ہر دن میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم فرماتے اور ہر مرتبہ ختم کرتے ہوئے دعا کا اہتمام کرتے۔(فتح الباری 1/481) گویا رمضان کا مہینہ امام بخاریکے یہاں تلاوت کا مہینہ ہوا کرتا، صبح وشام رات بھر تلاوت کا خا ص شغف واہتمام ہوا کرتا۔

 

نیز ابتلا آزمائش، تکالیف، مصیبتیں، امتحانات، انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام کو زیادہ پیش آئے ہیں، پھر جو شخص ان کے زیادہ قریب ہوتا ہے اسے بھی ابتلا وآزمائش میں ڈالا جاتا ہے، کسی نے فرمایا: مجھے مصائب سے دوچار کیا گیا کہ اگر وہ مصائب دن پر ڈال دیے جائیں تو وہ رات ہوجائے، امام بخاریکو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے امتحانات میں ڈالا، کئی مرتبہ آپکو جلا وطنی کی زندگی گذارنی پڑی، معاصر علمائے کرام میں سے کئی ایک نے موقعہ بموقعہ آپپر اعتراضات اور آپ کے خلاف زبان درازی کا طویل سلسلہ جاری رکھا، امیروں اور حاکموں نے الگ طوفان کھڑا کیا، ان سب کے باوجود آپاپنی زبان پر شکایت کے حروف نہیں لائے، اخیر میں سمرقند جانے کا ارادہ کیا تو روک دیا گیا، خرتنگ نامی چھوٹی سی جگہ میں امیر الموٴمنین فی الحدیث ابدی نیند سوگئے، لیکن ان تکالیف ومصیبتوں کو جھیل کر کسی کی بھی غیبت میں اپنی زبان کو ملوث نہیں کیا ، علوم دینیہ کے حصول میں مشغول رہنے والوں کے لیے ایک بہترین سبق ہے کہ وہ امام بخاریکے تحمل کو، دیگر صفات کو ا پنی زندگی کا جزولا ینفک بنالیں، تب ہی جاکر کوئی بڑا علمی معرکہ سر کیا جاسکتا ہے، نیز ان صفات سے مزین ہو کر اپنی دنیوی واخروی زندگی کو سنواریں۔

 

(Courtsy:AlFarooq)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: