Posted by: Bagewafa | اگست 28, 2017

ایک جگنو جگمگایا دیر تک ۔۔۔۔۔ نواز دیوبندی

ایک جگنو جگمگایا دیر تک ۔۔۔۔۔ نواز دیوبندی

.

وہ رلا کر ہنس نہ پایا دیر تک

 جب میں رو کر مسکرایا دیر تک

 .

بھولنا چاہا کبھی اس کو اگر

 اور بھی وہ یاد آیا دیر تک

 .

خود بہ خود بے ساختہ میں ہنس پڑا

 اس نے اس درجہ رلایا دیر تک

 .

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

 ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

.

گنگناتا جا رہا تھا اک فقیر

دھوپ رہتی ہے نہ سایا دیر تک

 .

کل اندھیری رات میں میری طرح

ایک جگنو جگمگایا دیر تک

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: