Posted by: Bagewafa | ستمبر 15, 2017

अगर तल्वार के साये में—शकील क़ादरी اگر تلوار کے سایہ میں۔۔۔۔۔۔۔شکیل قادری

अगर तल्वार के साये में—शकील क़ादरी 

यहाँ होगी वहाँ होगी इधर होगी उधर होगी

नज़र यादे ख़ुदा में जब भी मसरूफ़े सफ़र होगी

.

ज़बाने को भला इस बात की कैसे ख़बर होगी

नज़र दुरवेश की है कौन जाने कब किधर होगी

 .

अगर तलवार के साये में जाकर तुम न खेलोगे

मेरे बच्चो कहो फिर ज़िंदगी कैसे बसर होगी

 .

तरफ़दारी जो हर मज़्लूम की करता था वो है गुम

नहीं मिलता कहाँ है वो हुकूमत को ख़बर होगी

 .

गुलों को ऐसे मुर्झाते नहीं देखा बहारों में

किसी बदबख़्त की इन को लगी काली नज़र होगी

 .

अंधेरों के परस्तारों की ज़द पे सर हमारे हैं

सुतूने-दार पे होंगे ये रौशन, फिर सहर होगी

 .

ख़िलाफे ज़ुल्म क्यूँ अक़्सर शकील आती है होंटों पर

"हमारी आह क्या कमबख़्त इतनी बेअसर होगी

اگر تلوار کے سایہ میں۔۔۔۔۔۔۔شکیل قادری

یہاں ہوگی وہاں ہوگی ادھر ہوگی اُدھر ہوگی

نظر یاد خدا میں جب بھی مصروف سفر ہوگی

 .

زمانے کو بھلا اس بات کی کیسے خبر ہوگی

نظر درویش کی ہے کون جانے کب کدھر ہوگی

 .

اگر تلوار کے سائے میں جاکر تم نہ کھیلو گے

میرے بچو کہو پھر زندگی کیسے بسر ہوگی

 .

طرف داری جو ہر مظلوم کی کرتا تھا وہ ہے گم

نہیں ملتا کہاں ہے وہ حکومت کو خبر ہوگی

.

گلوں کو ایسے مرجھا تے نہیں دیکھا بہاروں میں

کسی بدبخت کی ان کو لگی کالی نظر ہوگی

 .

اندھیروں کے پرستاروں کی زد پہ سر ہمارے ہیں

ستون دار پہ ہو نگے یہ روشن، پھر سحر ہوگی

 .

خلاف ظلم کیوں اکثر شکیل آتی ہے ہونٹوں پر

ہماری آہ کیا کم بخت اتنی بے اثر ہوگی

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: