Posted by: Bagewafa | اکتوبر 28, 2017

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے….. راحتؔ اندوری.ہहाथ ख़ाली हैं तेरे शहर से जाते-जाते—- राहत इंदौरी

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے….. راحتؔ اندوری

.

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے

جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے

..

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے

عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

.

اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے

جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے

.

رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ

ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے

.

میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا

تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے

.

مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید

لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

.

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

ہहाथ ख़ाली हैं तेरे शहर से जाते-जाते—- राहत इंदौरी

 

.

 हाथ ख़ाली हैं तेरे शहर से जाते-जाते

 जान होती तो मेरी जान लुटाते जाते

.

 अब तो हर हाथ का पत्थर हमें पहचानता है

 उम्र गुज़री है तेरे शहर में आते-जाते

.

 अब के मायूस हुआ यारों को रुख़स्त कर के

 जा रहे थे तो कोई ज़ख़म लगाते जाते

.

 रेंगने की भी इजाज़त नहीं हमको वर्ना

 हम जिधर जाते नए फूल खिलाते जाते

.

 मैं तो जलते हुए सहराओं का इक पत्थर था

 तुम तो दरिया थे मरी प्यास बुझाते जाते

.

 मुझको रोने का सलीक़ा भी नहीं है शायद

 लोग हंसते हैं मुझे देख के आते-जाते

.

 हमसे पहले भी मुसाफ़िर कई गुज़रे होंगे

 कम से कम राह के पत्थर तो हटाते जाते

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: