Posted by: Bagewafa | جولائی 11, 2018

زخم۔۔۔۔۔۔گوہر رضا

زخم۔۔۔۔۔۔گوہر رضا

جسم پر زخم ہیں

آنکھوں میں لہو اُترا ہے

 آج تو روح بھی لرزاں ہے میری

ذہن پتھر کی طرح

سخت و بے جان سا، مفلوج سا،

بے حس، بیکار

اس میں چیخوں کے سِوا

کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں

مجھ سے مت پوچھو میرا نام تو بہتر ہوگا

میں وہی ہوں کہ جسے

ساری بدمست بہاروں کو پرکھنا تھا ابھی

میں وہی ہوں کہ جسے

پھول سا کھلنا، مہکنا تھا ابھی

جھومتے گاتے ہوئے جھرنوں کی دھن کو سن کر

میرے پیروں کو تھرکنا تھا ابھی

درسگاہوں کی کُھلی باہوں میں جانا تھا مجھے

اور ایک شولے کی مانند دھدھکنا تھا ابھی

میں وہی ہوں جسے مندر کی حدوں کے اندر

تم نے جوتوں کے تلے روند دیا

میں وہی ہوں کہ جسے

سارے بھگوان کھڑے

چپ کی تصویر بنے

تکتے رہے، تکتے رہے، تکتے رہے

اور میرے جسم کا ہر قطرہِ خوں

تھپکیاں دے کے سُلانے کا جتن کرتا رہا

مجھ کو سمجھاتا رہا

اور کچھ در سِتم سہ لے میری ننھی پری

موت کے پار ہر ایک ظلم سمٹ جائے گا

تب کوئی ہاتھ تجھے چھو بھی نہیں پائے گا

میں وہی ہوں جو درندوں کے گھنے جنگل میں

بین کرتی رہی اِنصاف کے دروازے پر

مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ تمھیں

باپ کا سایا بھی سر پر میرے منظور نہیں

جسم پر زخم ہیں، گہرے ہیں،

بہت گہرے ہیں

مجھسے مت پوچھومیرا نام تو بہتر ہو گا

مادرِ ہند ہوں میں

وہ جو خاموش ہیں شامل ہیں زِنا میں میری

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: