Posted by: Bagewafa | اکتوبر 23, 2018

تحریک آزادی کا روشن ستارہ اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز اشرفی

تحریک آزادی کا روشن ستارہ اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز اشرفی

تحریک آزادی کا روشن ستارہ اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز اشرفی

کیسویں صدی کی گیارہویں یوم آزادی نے ہمارے در پر دستک دی ہے۔ ہم پھر اُن بھولے بسرے مجاہدینِ آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کو تیار ہیں۔کوئی قلم سے کوئی زبان سے ، کوئی آنسوئوں سے اورکوئی تصویر کشائی کے ذریعے۔ جتنے لوگ اتنے طریقے لیکن مقصد سب کا ایک وطن پر مٹنے والے اُن جیالوں کی قربانیوں کو یاد کرنا جو وطن عزیز کی آزادی کے لیے مٹ گئے موجودہ وقت کے مورخ نے ایسے مجاہدین آزادی کو بھلانے کی کوشش کی جن کی بے لوث قربانی آج بھی مثال ہے۔ اُن لوگوں نے عیش وعشرت کی زندگی ترک کرکے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار فرنگی حکومت کے قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں۔ ایسے مجاہدین آزادی کو فراموش کرنا ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی متعدد مائوں کے جگرگوشوں نے اپنے جنت نشان ملک ہند کے لیے بے جگری سے اپنا خون بہایا لیکن صد افسوس یوم آزادی کی تقاریب میں اُن کا نام بھی شاذو نادر ہی لیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک مجاہد آزادی تھے اشفاق اللہ خان ۔ 22؍اکتوبر 1900ء کو اترپردیش کے شاہجہاں پور شہر میں ایک امیر اورکھاتے پیتے گھرانے میں اشفاق اللہ خاں پیداہوئے۔ اس عظیم محب وطن کی مرادیں اور اُمنگیں عام نوجوانوں سے جدا تھیں۔ اپنے خاندان کے چہیتے فرزند تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں ہی اشفاق اللہ خاں Indian Republic Associationمیں شامل ہوگئے اورملک کی آزادی کے لیے کوشاں رہے یہاں تک کہ اپنی جان کی قربانی بھی دے دی۔ جلیاں والا باغ سانحہ سے وہ بہت مغموم تھے۔ اُن کا درد مند دل ہر لمحہ وطن کی آزادی کے لیے بے قرار رہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی نوجوانی فضول اوربیکار باتوں میں گزاریں۔ اتفاق سے اُنہیں ایسا ساتھی بھی مل گیا جس نے اُن کی تمنائوں کو صحیح سمت دی وہ کوئی اورنہیں مشہور مجاہد آزادی رام پرساد بسملؔ تھے۔ رام پرساد بسملؔ یوں تو اشفاق اللہ خاں کے بڑے بھائی کے ہم جماعت تھے لیکن اشفاق کے دوست اور راہبر دونوں تھے۔ بسملؔ پہلے اشفاق کو چھوٹے بھائی کی طرح مانتے تھے رفتہ رفتہ وہ بسملؔ کے معاون اور دوست بن گئے ۔ چند ہی دنوں میں وہ پوری طرح رام پرساد بسملؔ کے رنگ میں رنگ گئے۔

9؍اگست 1925ء تحریک آزادی کا یادگار دن ہے جب اشفاق اللہ خاں ،پنڈت رام پرساد بسملؔاور ان کے آٹھ ساتھیوں نے سرکاری خزانے کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا جو بذریعہ ریل جارہا تھا۔ مقصد تھا ان روپیوں سے تحریک آزادی کے لیے سامان خریدنا وہ لوگ 8ڈائون پسنجر ٹرین میں سوار ہوکر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹرین جیسے ہی ’’کاکوری‘‘اسٹیشن پہنچی ٹرین کی زنجیر کھینچ کر اُسے روک دیاگیا اورخزانہ لوٹ لیاگیا۔ اس پوری کا رروائی میں کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ یہ سارا کام پنڈت رام پرساد بسملؔ کی رہنمائی میں ہورہاتھا۔اس حادثے سے انگریز حکومت کے دلوںمیں دہشت پیداہوگئی۔ انگریز انتظامیہ حرکت میں آئی۔ وہ انقلابیوں کے پیچھے پڑگئی۔جگہ جگہ چھاپے پڑے پولس کُتّے کی طرح انقلابیوں کو سونگھتی پھر رہی تھی۔ اشفاق اللہ خاں چھپتے چھپاتے بنارس ہوتے ہوئے ڈالٹن گنج موجودہ جھارکھنڈ پہنچ کر ملازمت کرلی۔ لیکن حب الوطنی کے جذبے نے انہیں پھر دلّی کا رخ کرنے پر مجبور کردیا۔ وہ دہلی چلے آئے۔ 8ستمبر 1926ء کو اشفاق اللہ خاں کے ایک ضمیرفروش ہم جماعت نے پولس میں ان کی مخبری کردی اوروہ گرفتار کرلیے گئے ۔لکھنؤ کی عدالت میں ان پر مقدمہ چلایاگیا۔کاکوری کیس کے تین ملزموں کے ساتھ انہیں بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی اور فیض آباد سینٹر ل جیل میں قید کر دیاگیا۔ قید کے دوران وہ ہمیشہ کی طرح طرح پنج گانہ نماز ادا کرتے۔ قرآن کی تلاوت انکا معمول تھا۔ جتنے عرصہ وہ جیل میں رہے ایک عام انسان اورسادہ لوح مسلمان کی طرح زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ جب پھانسی کا دن قریب آیا تب بھی کسی طرح کی گھبراہٹ کی جھلک نہیں دکھائی دی۔ اشفاق اللہ خاں نے اُس موقع پر ملنے آنے والے ساتھیوں سے کہا تھا—’’تم لوگوں کو ضرور حیرانی ہوگی کہ میں آج اتنا خوش کیوں ہوں اور میں نے اچھے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں۔ جانتے نہیں…؟ کل میری شادی ہونے والی ہے کل صبح میری بارات نکلے گی اورسویرے ہی شادی بھی ہوجائے گی۔ ارے یارو—! یہ توبتائو کہ دولہے کے سنورنے میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی ؟‘‘ یہ کہہ کر اشفاق اللہ خاں نے اتنے زور سے قہقہہ لگایا کہ ان کے افسردہ اور غم میں ڈوبے دوستوں کو بھی مجبوراً ‘‘ ہنسنا پڑا۔ 19دسمبر1927ء کو معمول سے کچھ پہلے ہی وہ بیدار ہو گئے ۔غسل کیا‘ دُھلے ہوئے کپڑے پہنے، نماز اداکی اورتلاوت قرآن کے بعد جو دعا مانگی آج بھی وہ تمام محبان وطن کے لیے ایک مثال ہے۔ ہاتھ اُٹھاکر ربِّ جلیل سے کہا۔

’’اے خداوند کریم! میں تجھ سے اورکچھ نہیں مانگتا۔ اگرتومیرے آخری وقت کی دعا قبول کرلے تو میں یہ مانگتا ہوں کہ تو ہر ہندو اورمسلمان کو عقل دے کہ وہ آپسی جھگڑوں میں اپنا وقت برباد نہ کرکے دونوں مل جل کر ملک کو آزاد کرائیں اور خوشحال بنائیں۔‘‘ دعا کے بعد گلے میں قرآن لٹکائے ہوئے حاجیوں کی طرح وظیفہ پڑھتے بڑے حوصلے سے تختہ دار کی طرف چل پڑے۔ تختہ پر پہنچ کر قرآن کی چند آیتیں پڑھیں پھر پھانسی کے پھندے کو چومتے ہوئے کہا۔ ’’میرے ہاتھ کبھی انسانی خون سے رنگین نہیں ہوئے۔ جو الزام مجھ پر لگایا گیا وہ غلط ہے میراانصاف اب خدا کے یہاں ہوگا۔ گلے میں پھندے کو پھولوں کے ہار کی طرح ڈالنے کے بعد اُنہوں نے یہ اشعار پڑھے۔

 فنا ہے سب کے لیے ہم پہ کچھ نہیں موقوف

 بقا ہے ایک فقط ذات کبریا کے لیے

 تنگ آکر ہم بھی اُن کے ظلم سے بے داد سے

 چل دیے سوئے عدم زندانِ فیض آباد سے

 روایت کے مطابق آخری آرزو پوچھے جانے پر اشفاق اللہ خاں نے کہا تھا۔

 کچھ آرزو نہیں ہے ، ہے آرزو تو یہ ہے

 رکھ دے کوئی ذراسی  خاکِ وطن کفن میں

 اور پھر اللہ کا نام لیتے ہی رسّی کھینچی گئی جسم پھانسی کے پھندے میں جھول گیا۔ روح قفس عنصری سے آزاد ہوگئی۔ عظیم مجاہد آزادی سردار بھگت سنگھ نے اشفاق اللہ خاں کے بارے میں لکھا ہے کہ پھانسی کے بعد لکھنؤ اسٹیشن پر مال گاڑی کے ڈبّے میں اُن کی لاش دیکھنے کا موقع چند لوگوں کو ملا۔ پھانسی کے دس گھنٹے بعد بھی چہرے پر ویسی ہی رونق تھی ایسا لگتا تھا ابھی ابھی سوئے ہیں۔اُن کے رشتہ دارلاش کوشاہ جہاں پور لے گئے۔

 اشفاق اللہ خاں ایک درد مند شاعر بھی تھے اُنہوں نے اپنا قلمی نام حسرت ؔوارثی رکھا تھا۔اُن کی شاعری میں مادروطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔غلامی کو لے کر دل میں دردکا احساس ہوتاہے۔ ذیل میں اُن کے چند اشعار قارئین کی نذر ہیں۔

 وہ گلشن جو کبھی آزاد تھا گزرے زمانے میں

 میں ہوں شاخِ شکستہ اب اُسی اُجڑے گلستاں کی

 نہیں تم سے شکایت ہم سفیر انِ چمن مجھ کو

 مری تقدیر ہی میں تھا قفس اور قید زنداں کی

 زمیں دشمن زماں دُشمن جو اپنے تھے پرائے ہیں

 سنوگے داستاں کیا تُم میرے حالِ پریشاں کی

 یہ جھگڑے اور بکھیڑے میٹ کر آپس میں مل جائو

 عبث تفریق  ہے تم میں یہ ہندو اور مسلماں کی

 سبھی سامانِ عشرت تھے، مزے سے اپنی کٹتی تھی

 وطن کے عشق نے ہم کو ہوا کھلوائی زنداں  کی

 آج یوم آزادی کے موقع پر اشفاق اللہ خاں کی دلدوز تحریر موجودہ وقت کے نوجوانوں کو تحریک دیتی ہے کہ وطن کے لیے ہماری ذمہ داریاں کیاہیں۔ ایسے سرفروش مجاہدین کو قربانیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے کیونکہ آج ہم اگر آزادی کی سانس لے رہے ہیں تو اس باغ کی آبپاری اشفاق اللہ خاں اوراُن جیسے محبانِ وطن کے خون سے ہوئی ہے!!

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: