Posted by: Bagewafa | نومبر 11, 2018

حرف صداقت لکھنا۔۔۔۔۔ حبیب جالب

حرف صداقت لکھنا۔۔۔۔۔ حبیب جالب

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

۔

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا

ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

۔

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو

حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

۔

ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا

شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا

۔

اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی

پڑھ کے نا خوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا

۔

دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے

سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا

۔

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہہ کے مصاحب جالبؔ

رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا


زمرے

%d bloggers like this: