Posted by: Bagewafa | نومبر 14, 2018

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو۔۔۔۔۔۔حبیب جالب

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو۔۔۔۔۔۔حبیب جالب

 

۔

بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو

ہوئے نہ ایک تو منزل نہ بن سکے گا لہو

۔

ہو کس گھمنڈ میں اے لخت لخت دیدہ ورو

تمہیں بھی قاتل محنت کشاں کہے گا لہو

۔

اسی طرح سے اگر تم انا پرست رہے

خود اپنا راہنما آپ ہی بنے گا لہو

۔

سنو تمہارے گریبان بھی نہیں محفوظ

ڈرو تمہارا بھی اک دن حساب لے گا لہو

۔

اگر نہ عہد کیا ہم نے ایک ہونے کا

غنیم سب کا یوں ہی بیچتا رہے گا لہو

۔

کبھی کبھی مرے بچے بھی مجھ سے پوچھتے ہیں

کہاں تک اور تو خشک اپنا ہی کرے گا لہو

۔

صدا کہا یہی میں نے قریب تر ہے وہ دور

کہ جس میں کوئی ہمارا نہ پی سکے گا لہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Advertisements

زمرے

%d bloggers like this: