Posted by: Bagewafa | جولائی 18, 2019

ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔کاظم واسطی

ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔کاظم واسطی

.

دام یوسف نہ گرا دیں کہیں بازاروں میں

 دور حاضر کی خریداروں سے ڈر لگتا ہے

.

جس کو دیکھو وہ نکل پڑتا ہے بازاروں میں

 مصر کیا اب سبھی بازاروں سے ڈر لگتا ہے

.

 مار کر آنکھ وہ مشہور ہوئ ہے لڑکی

 آنکھ کے جادو سے رخساروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ ڈھل جاتے ہیں کرداروں میں کیسے کیسے

 ایسے ویسے مجھے کرداروں سے ڈر لگتا ہے

.

آستینوں میں ہو خنجر تو کوئ بات نہیں

 سر پے لٹکی ہوئ تلواروں سے ڈر لگتا ہے

.

در بناتے ہیں وہی دل میں ہو وسعت جن کے

 گھر میں بڑھتی ہوئ دیواروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ پاگل ہیں بٹھا لیتے ہیں سر پر اپنے

 آتی جاتی سبھی سرکاروں سے در لگتاہے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: