Posted by: Bagewafa | جولائی 24, 2019

ریشم بُننا کھیل نہیں۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

ریشم بُننا کھیل نہیں۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

.

ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس

دل کے لہو سے سانس ملا کی سُچا نور بناتے ہیں​

اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں​

خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں​

.صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں بُنتے ہیں​

کس نے سمجھا کیسے بُنے ہیں چاندی کی کرنوں کے تار​

کُنجِ جگر سے کھینچ کے لاتے ہیں ہم نُور کے ذرّوں کو​

شرماتے ہیں دیکھ کے جن کو نیل گگن کے تارے بھی​

.ہم کو خبر ہے ان کاموں میں جاں کا زیاں ہو جاتا ہے​

لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی​

.سُچا ریشم بُنتے ہیں اور تار لپٹتے جاتے ہیں​

آخر گُھٹ کے مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں​

کوئی ریشم بُن کے دیکھے ریشم بُننا کھیل نہیں​

..


زمرے

%d bloggers like this: