Posted by: Bagewafa | اگست 5, 2019

زمیں ہی نم نہیں کی۔۔۔۔۔عمیر نجمی

زمیں ہی نم نہیں کی۔۔۔۔۔عمیر نجمی

.

اُگے نہ بیج، مشقت اگرچہ کم نہیں کی

 کھلا یہ بعد میں، ہم نے زمیں ہی نم نہیں کی

.

 ہمیں یہ ڈر تھا کہ اکتا نہ جائیں کچھ دن میں

 سو قسط وار محبت کی ،ایک دم نہیں کی

.

وہ کیسا عشق تھا، ماتھے پہ اک شکن بھی نہیں

 یہ کیسا ہجر ہے جس نے کمر بھی خم نہیں کی

.

جنوں کے داغ، ہمیشہ دماغ پر چھوڑے

 کسی بدن پہ کوئی داستاں رقم نہیں کی

.

جو مجھ سے ربط کا خواہاں تھا، اس سے دور رہا

 کسی کی روشنی، اس تیرگی میں ضم نہیں کی

.

جب اختلاف کیا اس نے ضمنی باتوں پر

 تو پھر وہ بات، جو کرنے گئے تھے ہم، نہیں کی

.

تجھے یہ دکھ ہے کہ کیوں بات کاٹ دی تیری؟

 وہ جس کی بات تھی، خوش ہو، زباں قلم نہیں کی


زمرے

%d bloggers like this: