Posted by: Bagewafa | ستمبر 1, 2019

آبلہ پائ لے لے۔۔۔۔۔۔احمد فراز

آبلہ پائ لے لے۔۔۔۔۔۔احمد فراز

 

.

وحشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لے

مجھ سے یارب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

.

عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے

دل نے ہر بار کہا آگ پرائی لے لے

.

میں تو اس صبح درخشاں کو تونگر جانوں

جو مرے شہر سے کشکول گدائی لے لے

.

تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط تیری

وہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے

.

ایسا نادان خریدار بھی کوئی ہوگا

جو ترے غم کے عوض ساری خدائی لے لے

.

اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں

ہے کوئی جو ہنر زخم نمائی لے لے

.

میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر

اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے

.

اور کیا نذر کروں اے غم دل دار فرازؔ

زندگی جو غم دنیا سے بچائی لے لے


زمرے

%d bloggers like this: