Posted by: Bagewafa | اکتوبر 1, 2019

Toronto..Canadaادھورا عکس اور آئینہ…….جمیل قمر

ادھورا عکس اور آئینہ…….جمیل قمر

—————–

اس نے کہا تھا

 میں روزانہ تم پر

 ایک نظم لکھوں گی

سینے میں سوکھا ہوا پیڑ ہرا بھرا رہے گا

 گونگے لفظ بول آٹھیں گے

 بھٹکتی ہوئی ہوا رقص کرتی ہوئی

 خوشبو بکھیرتی

 آنگن کو سجائے گی

 بنجر آنکھ میں تھکن کا چشمہ

 جو صدیوں سے ابل رہا ہے

 گوہر اگلے گا

 انا کے قفس سے ہم دونوں

 باہر نکل کے سوچیں گے

 یوں محبت کا الماس

 ہماری دسترس میں ہو گا

 ہمارے سر سے بلائیں ٹل جائیں گی

 کسے معلوم تھا

 کہ حسرت و یاس میں

 گوندھے ہوئے شب و روز

 سپردگی کے خبط میں

 انہونی سی مضطرب دھن پہ

 نا معلوم گیت چہچہانے لگیں گے

 منظر دھندلا نے لگیں گے

 در و دیوار سہم کر سمٹ جائیں گے

 خاک آلودہ قندیل ہاتھ میں تھامے

 پتھر کی سل پہ

 ہم دونوں پتھر ہو جائیں گے

 


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: