Posted by: Bagewafa | اکتوبر 17, 2019

غزل کی تعریف– عمر وبن حسین بازہر

غزل کی تعریف– عمر وبن حسین بازہر

 غزل خالصتاً عربی لفظ ہے ۔ فیروز اللغات کے مطابق غزل کے معنی ٰ ’’عورت سے بات کرنا ہے ‘‘ اور ’’لغات کشوری‘‘ میں غزل کے دو معنیٰ دیئے گئے ہیں جس میں ایک ہے ’’ وہ شخص جو عورتوں کے عشق کی باتیں کرتا ہے ‘‘۔ اور دیگر معنوں میں ’’کاتنا‘‘ ۔ ’’رسی بٹنا‘‘ یا ’’سوت ریشی‘‘ کے ہیں ۔ اور جو ہو بہو عربی کے معنی ٰہیں ۔ اگر ہم غزل کے معنی ٰ عورت سے باتیں کرنا مراد لیں تو مناسب یا درست دکھائی نہیںدیتا ۔ چونکہ ہر عورت سے باتیں کرنا یعنی ماں سے باتیں کرنا ‘ معلمہ سے باتیں کرنا ‘ ا

ستانی یاٹیچر سے باتیں کرنا بہن سے باتیں کرنا یا رشتہ دارخاتون و عزیز سے باتیں کرنا وغیرہ ۔ غزل کیسے کہلائے گی ؟ البتہ لغت کشوری میں دونوں معنیٰ غزل کے معنوں میں درست ہیں۔ اول الذکر کی مناسبت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان آپسی بات چیت ان کے درمیان راز ونیاز کی باتیں ‘ شکوے شکایتیں ‘ روٹھنے منانے کی باتیں ‘ ملنے بچھڑے کی باتیں ‘ حسن و عشق کی باتیں وعدے و فاؤں کی باتیں اسطرح نوجوان لڑکے لڑکیوں کے درمیان ہونے والی عشقیہ بات چیت کو غزل کے معنی و مفہوم میں لیا جاتا ہے ۔ اسطرح غزل سے مراد صنف نازک سے لطف اندوز ہونا ‘ اس کے حسن و جمال کی تعریف کرنا اس سے عشق و محبت کا اظہار کرنا اور اسی طرح کے حسین جذباتی واردات غزل کہلاتی ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالحلیم ندوی لکھتے ہیں کہ ’’ جاہلی دور کے اصناف سخن میں سب سے اہم اور ممتاز صنف غزل ہے ۔ اور اس غزل کا موضوع اور محور عورت تھی ۔ کیونکہ غزل کے معنی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی آپس کی بات چیت اور عورتوں سے لطف اندوزی اور ان سے حسن و محبت کی باتیں کرنا ہے ‘‘ ۔

(عربی ادب کی تاریخ ۔ ص 130)

اصناف شاعری کی بات کی جائے تو غزل و اصناف شاعری میں ایک حسین و جمیل نازک سی صنف سخن ہے ۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ عروس شاعری (Bride of Poetry) ہے جو بام عروج پر ہے ۔ اوراہمیت کی حامل ہے ۔ یہ صنف ہر دور ‘ ہر طبقہ ہر تہذیب اور ہر زمانہ میں ہر عام و خاص کی مقبول ترین صنف رہی ۔ ماضی میں بھی ہر ایک کے دل کو لبھا رہی تھی اور عصر حاضر میں بھی ہر کوئی اس کا دیوانہ ہے اور یقیناً اس کا سحر کل بھی کم نہ ہوگا ۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غزل اس صنف کو کہیں گے جس میں حسن وعشق یا محب و محبوب سے متعلق مضامین شامل ہوں ۔ یعنی ہجو وصال کا تذکرہ ‘ سوز و غم کا ذکر ‘ وصل معشوق کی لذت اور اسطرح کی دیگر کیفیات عشق واردات محبت شامل ہوں یعنی آنکھوں سے آنکھیں چار ہونا اور ہوش و حواس گم ہونا اور ہمیشہ حسن یار میں کھوئے رہنا وغیرہ ۔ یعنی

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی

 رہی نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی

 اس روایت کے مدنظر اردو کی زیادہ تر کلاسیکی شاعری حسن و عشق کے مختلف واردات و کیفیات سے ہی متعلق ہے ۔بلکہ ان ہی کیفیات میں رچی بسی ہوئی ہے اس طرح شروعات میں یہ حسین صنف سخن صرف اور صرف حسن و جمال عشق و محبت کے وارداتوں کے ارد گرد گھومتی رہی جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اردو شاعری ہمیشہ فارسی شاعری کی مقلد رہی اس تعلق سے ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی رقمطراز ہیں کہ ’’ شعر و شاعری کا عموماً اور ایشیائی شاعری کا خصوصاً عشق و محبت کے جذبات و احساسات سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔ ہماری اردو شاعری سراسر فارسی شاعری کی متبع ہے اپنے ابتدائی حالات میں عشق و محبت و معشوق و دیگر لوازمات عاشقی کے وہی سانچے وہی تصورات اور وہی معیار رکھتی ہے جو ایران میں اس وقت رائج تھے ‘‘ ۔

( دلی کا دبستان شاعری ۔ ص 24)


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: