Posted by: Bagewafa | دسمبر 31, 2019

اے نئے سال۔۔۔۔۔۔فیض لُدھیانوی

اے نئے سال۔۔۔۔۔۔فیض لُدھیانوی

.

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟

ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے

.

روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی

آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی

.

آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں

ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں

.

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے

کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے

.

جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي

اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي

.

تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا

اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا

تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی

ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی

.

بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں

غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں

.

تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی

فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

زمرے

%d bloggers like this: