Posted by: Bagewafa | فروری 10, 2020

وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں۔۔ اقبال ساجد

وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں۔۔ اقبال ساجد

.

وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں

سوچتا کیا ہے اتر جا بات کی گہرائی میں

.

سرخ رو ہونے نہ پایا تھا کہ پیلا پڑ گیا

چاند کا بھی ہاتھ تھا جذبات کی پسپائی میں

.

بے لباسی ہی نہ بن جائے کہیں تیرا لباس

آئینے کے سامنے پاگل نہ ہو تنہائی میں

.

تو اگر پھل ہے تو خود ہی ٹوٹ کر دامن میں آ

میں نہ پھینکوں گا کوئی پتھر تری انگنائی میں

.

رات بھر وہ اپنے بستر پر پڑا روتا رہا

دور اک آواز بنجر ہو گئی شہنائی میں

.

دائرے بڑھتے گئے پرکار کا منہ کھل گیا

وہ بھی داخل ہو گیا اب سرحد رسوائی میں

.

حبس تو دل میں تھا لیکن آنکھ تپ کر رہ گئی

رات سارا شہر ڈوبا درد کی پروائی میں

.

آنکھ تک بھی اب جھپکنے کی مجھے فرصت نہیں

نقش ہے دیوار پر تصویر ہے بینائی میں

.

لوگ واپس ہو گئے ساجدؔ نمائش گاہ سے

اور میں کھویا رہا اک محشر رعنائی میں


زمرے

%d bloggers like this: