اپنا پیام رکھ دیا۔۔۔۔۔احمد فراز

اپنا پیام رکھ دیا۔۔۔۔۔احمد فراز

.

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا

.

آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی

میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا

.

شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی

اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

.

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے

میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

.

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

.

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس

کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

.

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا

اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

.

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

%d bloggers like this: