پگھلنا چاہتا ہے…..جینت پرمار

پگھلنا چاہتا ہے…..جینت پرمار

 

.

غبار جاں سے ستارا نکلنا چاہتا ہے

یہ آسمان بھی کروٹ بدلنا چاہتا ہے

.

مرے لہو کا سمندر اچھلنا چاہتا ہے

یہ چاند میرے بدن میں پگھلنا چاہتا ہے

.

سیاہ دشت میں امکان روشنی بھی نہیں

مگر یہ ہاتھ اندھیرے میں جلنا چاہتا ہے

.

ہر ایک شاخ کے ہاتھوں میں پھول مہکیں گے

خزاں کا پیڑ بھی کپڑے بدلنا چاہتا ہے

.

بہت کٹھن ہے کہ سانسیں بھی بار لگتی ہیں

مرا وجود بھی نقطے میں ڈھلنا چاہتا ہے

Advertisements
%d bloggers like this: