Posted by: Bagewafa | نومبر 14, 2019

یہ سانح کب تک۔۔۔۔۔تسلیم اِلاہی زلفی

یہ سانح کب تک۔۔۔۔۔تسلیم اِلاہی زلفی

(Courtesy: Facebook wall)

Posted by: Bagewafa | نومبر 13, 2019

Ayodhya Verdict…..Rana ayyub

Rana Ayyub On Ayodhya Verdict: Forget Closure, Muslims Can’t Even Say How Unhappy We Are

Pl.click the URL below to read a very informative article of Rana Ayyub.

 

https://www.huffingtonpost.in/entry/rana-ayyub-ayodhya-verdict-babri-masjid_in_5dcbc74ce4b0d43931cc91ad?ncid=other_facebook_eucluwzme5k&utm_campaign=share_facebook&fbclid=IwAR0stiHwNw9yUGMKJR6Et_9i-xMamiAqSsyhCmVR-PFY1t89125Ui7TMTRI

 

 

 

असदुद्दीन ओवैसी का ऐतिहासिक भाषण

#Babri Case: High Court: Preferred Beliefs over Law | Ep 12: by Prof. Faizan Mustafa

 

Posted by: Bagewafa | نومبر 3, 2019

Aashiq – e- Vatan – Maulana Azad – Ep #3

Aashiq – e- Vatan – Maulana Azad – Ep #3

Aashiq – e- Vatan – Maulana Azad – Ep #3

Posted by: Bagewafa | نومبر 3, 2019

گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔راھی جون پوری

گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔راھی جون پوری

کشمیر کی فریاد۔۔۔۔۔صالح اچھا

Ravish Kumar ने गोदी मिडिया को जम कर धोया || Ravish Kumar Speech

وزیر اعظم کا صفائ ابھیان اور ان کی بھتیجی کے ساتھ لوٹکی واردات۔۔۔۔۔عزیز برنی

Posted by: Bagewafa | اکتوبر 17, 2019

غزل کی تعریف– عمر وبن حسین بازہر

غزل کی تعریف– عمر وبن حسین بازہر

 غزل خالصتاً عربی لفظ ہے ۔ فیروز اللغات کے مطابق غزل کے معنی ٰ ’’عورت سے بات کرنا ہے ‘‘ اور ’’لغات کشوری‘‘ میں غزل کے دو معنیٰ دیئے گئے ہیں جس میں ایک ہے ’’ وہ شخص جو عورتوں کے عشق کی باتیں کرتا ہے ‘‘۔ اور دیگر معنوں میں ’’کاتنا‘‘ ۔ ’’رسی بٹنا‘‘ یا ’’سوت ریشی‘‘ کے ہیں ۔ اور جو ہو بہو عربی کے معنی ٰہیں ۔ اگر ہم غزل کے معنی ٰ عورت سے باتیں کرنا مراد لیں تو مناسب یا درست دکھائی نہیںدیتا ۔ چونکہ ہر عورت سے باتیں کرنا یعنی ماں سے باتیں کرنا ‘ معلمہ سے باتیں کرنا ‘ ا

ستانی یاٹیچر سے باتیں کرنا بہن سے باتیں کرنا یا رشتہ دارخاتون و عزیز سے باتیں کرنا وغیرہ ۔ غزل کیسے کہلائے گی ؟ البتہ لغت کشوری میں دونوں معنیٰ غزل کے معنوں میں درست ہیں۔ اول الذکر کی مناسبت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان آپسی بات چیت ان کے درمیان راز ونیاز کی باتیں ‘ شکوے شکایتیں ‘ روٹھنے منانے کی باتیں ‘ ملنے بچھڑے کی باتیں ‘ حسن و عشق کی باتیں وعدے و فاؤں کی باتیں اسطرح نوجوان لڑکے لڑکیوں کے درمیان ہونے والی عشقیہ بات چیت کو غزل کے معنی و مفہوم میں لیا جاتا ہے ۔ اسطرح غزل سے مراد صنف نازک سے لطف اندوز ہونا ‘ اس کے حسن و جمال کی تعریف کرنا اس سے عشق و محبت کا اظہار کرنا اور اسی طرح کے حسین جذباتی واردات غزل کہلاتی ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالحلیم ندوی لکھتے ہیں کہ ’’ جاہلی دور کے اصناف سخن میں سب سے اہم اور ممتاز صنف غزل ہے ۔ اور اس غزل کا موضوع اور محور عورت تھی ۔ کیونکہ غزل کے معنی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی آپس کی بات چیت اور عورتوں سے لطف اندوزی اور ان سے حسن و محبت کی باتیں کرنا ہے ‘‘ ۔

(عربی ادب کی تاریخ ۔ ص 130)

اصناف شاعری کی بات کی جائے تو غزل و اصناف شاعری میں ایک حسین و جمیل نازک سی صنف سخن ہے ۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ عروس شاعری (Bride of Poetry) ہے جو بام عروج پر ہے ۔ اوراہمیت کی حامل ہے ۔ یہ صنف ہر دور ‘ ہر طبقہ ہر تہذیب اور ہر زمانہ میں ہر عام و خاص کی مقبول ترین صنف رہی ۔ ماضی میں بھی ہر ایک کے دل کو لبھا رہی تھی اور عصر حاضر میں بھی ہر کوئی اس کا دیوانہ ہے اور یقیناً اس کا سحر کل بھی کم نہ ہوگا ۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غزل اس صنف کو کہیں گے جس میں حسن وعشق یا محب و محبوب سے متعلق مضامین شامل ہوں ۔ یعنی ہجو وصال کا تذکرہ ‘ سوز و غم کا ذکر ‘ وصل معشوق کی لذت اور اسطرح کی دیگر کیفیات عشق واردات محبت شامل ہوں یعنی آنکھوں سے آنکھیں چار ہونا اور ہوش و حواس گم ہونا اور ہمیشہ حسن یار میں کھوئے رہنا وغیرہ ۔ یعنی

ملے کسی سے نظر تو سمجھو غزل ہوئی

 رہی نہ اپنی خبر تو سمجھو غزل ہوئی

 اس روایت کے مدنظر اردو کی زیادہ تر کلاسیکی شاعری حسن و عشق کے مختلف واردات و کیفیات سے ہی متعلق ہے ۔بلکہ ان ہی کیفیات میں رچی بسی ہوئی ہے اس طرح شروعات میں یہ حسین صنف سخن صرف اور صرف حسن و جمال عشق و محبت کے وارداتوں کے ارد گرد گھومتی رہی جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اردو شاعری ہمیشہ فارسی شاعری کی مقلد رہی اس تعلق سے ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی رقمطراز ہیں کہ ’’ شعر و شاعری کا عموماً اور ایشیائی شاعری کا خصوصاً عشق و محبت کے جذبات و احساسات سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔ ہماری اردو شاعری سراسر فارسی شاعری کی متبع ہے اپنے ابتدائی حالات میں عشق و محبت و معشوق و دیگر لوازمات عاشقی کے وہی سانچے وہی تصورات اور وہی معیار رکھتی ہے جو ایران میں اس وقت رائج تھے ‘‘ ۔

( دلی کا دبستان شاعری ۔ ص 24)

Tablighi Jamaat ke Baare Mein Sawal Sheikh Makki Al hijazi شیخ مکی الحجازی

Tablighi Jamaat ke Baare Mein Sawal Sheikh Makki Al hijazi شیخ مکی الحجازی

Posted by: Bagewafa | اکتوبر 11, 2019

Ravish Kumar Octo.112019

Prime Time With Ravish Kumar, Oct 11, 2019

Prime Time With Ravish Kumar, Oct 11, 2019 | Are Trade ties With China Hurting Indian Manufacturers?

آہ جاتی ہے فلک پر (ایک رُلا دینے والی دُعا) —-آغا حشر کاشمیری

 

امت مسلمہ کی موجودہ حالت پر ایک رُلا دینے والی دعا

.

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے

بادلو! ہٹ جاﺅ دے دو راہ جانے کے لئے

.

اے دعا! ہاں عرض کر عرشِ الٰہی تھام کے

اے خدا، رخ پھیر دے اب گردش ایام کے

.

رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا

ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا

.

خلق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھکرائے ہوئے

آئے ہیں اب تیرے در پر ہاتھ پھیلائے ہوئے

.

خوار ہیں، بدکار ہیں، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں

کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی امت میں ہیں

.

حق پرستوں کی اگر کی تو نے دلجوئی نہیں

طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہی

DR.TASLIM AHMED REHMANI | NATIONAL SECRETARY | SOCIAL DEMOCRATIC PARTY OF INDIA |

 

यह गोड्से नहीं गांधी का देश है- कन्हैया कुमार

यह गोड्से नहीं गांधी का देश है- कन्हैया कुमार/ Kanhaiya kumar speech on Mahatma Gandhi

ادھورا عکس اور آئینہ…….جمیل قمر

—————–

اس نے کہا تھا

 میں روزانہ تم پر

 ایک نظم لکھوں گی

سینے میں سوکھا ہوا پیڑ ہرا بھرا رہے گا

 گونگے لفظ بول آٹھیں گے

 بھٹکتی ہوئی ہوا رقص کرتی ہوئی

 خوشبو بکھیرتی

 آنگن کو سجائے گی

 بنجر آنکھ میں تھکن کا چشمہ

 جو صدیوں سے ابل رہا ہے

 گوہر اگلے گا

 انا کے قفس سے ہم دونوں

 باہر نکل کے سوچیں گے

 یوں محبت کا الماس

 ہماری دسترس میں ہو گا

 ہمارے سر سے بلائیں ٹل جائیں گی

 کسے معلوم تھا

 کہ حسرت و یاس میں

 گوندھے ہوئے شب و روز

 سپردگی کے خبط میں

 انہونی سی مضطرب دھن پہ

 نا معلوم گیت چہچہانے لگیں گے

 منظر دھندلا نے لگیں گے

 در و دیوار سہم کر سمٹ جائیں گے

 خاک آلودہ قندیل ہاتھ میں تھامے

 پتھر کی سل پہ

 ہم دونوں پتھر ہو جائیں گے

 

ज़मीं से आसमान तक—राग़िब मुरादाबादी

 

.

अजीब इंतिशार है ज़मीं से आसमान तक

ग़ुबार ही ग़ुबार है ज़मीं से आसमान तक

.

वबाएँ क़हत ज़लज़ले लपक रहे हैं पय-ब-पय

ये किस का इक़्तिदार है ज़मीं से आसमान तक

.

बिसात-ए-ख़ाक भी तपाँ ख़ला भी है धुआँ धुआँ

बस इक अज़ाब-ए-नार है ज़मीं से आसमान तक

.

गिरफ़्त पंजा-ए-फ़ना में ख़स्ता-हाल-ओ-ख़ूँ-चकाँ

हयात-ए-मुस्तआर है ज़मीं से आसमान तक

.

फ़ुग़ान-ओ-अश्क-ओ-आह का जिगर-गुदाज़ सिलसिला

ब-लुत्फ़-ए-किर्दिगार है ज़मीं से आसमान तक

.

मता-ए-जब्र-ए-ज़िंदगी हमें भी जिस ने की अता

उसी का इख़्तियार है ज़मीं से आसमान तक

.

फ़राज़-ए-अर्श के मकीं शिकस्ता-दिल हमीं नहीं

हर एक बे-क़रार है ज़मीं से आसमान तक

.

زمیں سے آسماں تک۔۔۔۔۔راغب مرادآبادی

.

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

غبار ہی غبار ہے زمیں سے آسمان تک

.

وبائیں قحط زلزلے لپک رہے ہیں پے بہ پے

یہ کس کا اقتدار ہے زمیں سے آسمان تک

.

بساط خاک بھی تپاں خلا بھی ہے دھواں دھواں

بس اک عذاب نار ہے زمیں سے آسمان تک

.

گرفت پنجۂ فنا میں خستہ حال و خوں چکاں

حیات مستعار ہے زمیں سے آسمان تک

.

فغان و اشک و آہ کا جگر گداز سلسلہ

بلطف کردگار ہے زمیں سے آسمان تک

.

متاع جبر زندگی ہمیں بھی جس نے کی عطا

اسی کا اختیار ہے زمیں سے آسمان تک

.

فراز عرش کے مکیں شکستہ دل ہمیں نہیں

ہر ایک بے قرار ہے زمیں سے آسمان تک

:

Posted by: Bagewafa | ستمبر 23, 2019

सबसे ख़तरनाक……पाश

सबसे ख़तरनाक……पाश

मेहनत की लूट सबसे ख़तरनाक नहीं होती

 पुलिस की मार सबसे ख़तरनाक नहीं होती

 ग़द्दारी और लोभ की मुट्ठी सबसे ख़तरनाक नहीं होती

 बैठे-बिठाए पकड़े जाना बुरा तो है

 सहमी-सी चुप में जकड़े जाना बुरा तो है

 सबसे ख़तरनाक नहीं होता

 कपट के शोर में सही होते हुए भी दब जाना बुरा तो है

 जुगनुओं की लौ में पढ़ना

 मुट्ठियां भींचकर बस वक्‍़त निकाल लेना बुरा तो है

 सबसे ख़तरनाक नहीं होता

 सबसे ख़तरनाक होता है मुर्दा शांति से भर जाना

 तड़प का न होना

 सब कुछ सहन कर जाना

 घर से निकलना काम पर

 और काम से लौटकर घर आना

 सबसे ख़तरनाक होता है

 हमारे सपनों का मर जाना

 सबसे ख़तरनाक वो घड़ी होती है

 आपकी कलाई पर चलती हुई भी जो

 आपकी नज़र में रुकी होती है

 सबसे ख़तरनाक वो आंख होती है

 जिसकी नज़र दुनिया को मोहब्‍बत से चूमना भूल जाती है

 और जो एक घटिया दोहराव के क्रम में खो जाती है

 सबसे ख़तरनाक वो गीत होता है

 जो मरसिए की तरह पढ़ा जाता है

 आतंकित लोगों के दरवाज़ों पर

 गुंडों की तरह अकड़ता है

 सबसे ख़तरनाक वो चांद होता है

 जो हर हत्‍याकांड के बाद

 वीरान हुए आंगन में चढ़ता है

 लेकिन आपकी आंखों में

 मिर्चों की तरह नहीं पड़ता

 सबसे ख़तरनाक वो दिशा होती है

 जिसमें आत्‍मा का सूरज डूब जाए

 और जिसकी मुर्दा धूप का कोई टुकड़ा

 आपके जिस्‍म के पूरब में चुभ जाए

 मेहनत की लूट सबसे ख़तरनाक नहीं होती

 पुलिस की मार सबसे ख़तरनाक नहीं होती

 ग़द्दारी और लोभ की मुट्ठी सबसे ख़तरनाक नहीं होती ।

Gauri Lankesh Award से सम्मानित होने के बाद बोले Ravish Kumar,

 

Posted by: Bagewafa | ستمبر 21, 2019

पाश : मैं अब विदा लेता हूँ

दी कविता : पाश : मैं अब विदा लेता हूँ : Swara Bhaskar in Hindi Studio with Manish Gupta


جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے– خواجہ عزیز الحسن مجذوب

.

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

.

 جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے

 مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نے

 کبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نے

 جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سُونے

.

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

.

 ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے

 مکیں ہو گٔیٔے لا مکاں کیسے کیسے

 ھؤے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے

 زمیں کھا گٔیٔ آسماں کیسے کیسے

.

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

.

 اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا

 اسی سے سکندرسا فاتح بھی ہارا

 ہر ایک چھوڑ کے کیاکیا حسرت سدھارا

 پڑا رہ گیا سب یہیں ٹھاٹ سارا

.

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

.

 تجھے پہلے بچپن میں برسوں کھلایا

 جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا

 بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا

 اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا

.

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

.

 یہی تجھ کو دھُن ہے رہُوں سب سے بالا

 ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا

 جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا؟

 تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا

.

 کؤی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی؟

 جنون چھوڑ کر اب ہوش میں آ بھی

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے​

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है—- ख़्वाजा अज़ीज़ उल-हसन मजज़ूब

 

.

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है

.

जहां में हैं इबरत के हर सु नमूने

मगर तुझको अंधा क्या रंग-ओ-बू ने

कभी ग़ौर से भी देखा है तु ने

जो मामूर थे वो महल अब हैं सुने

.

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है

.

मिले ख़ाक में अहल-ए-शाँ कैसे कैसे

मकीं हो ग॔ए ला-मकाँ कैसे कैसे

हुए नामवर बे-निशाँ कैसे कैसे

ज़मीं खा ग॔ई आसमां कैसे कैसे

.

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है

.

अजल ने ना किसरा ही छोड़ा ना दारा

इसी से सिकंदरसा फ़ातिह भी हारा

हर एक छोड़ के क्या क्या हसरत सिधारा

पड़ा रह गया सब यहीं ठाट सारा

.

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है

.

तुझे पहले बचपन में बरसों खिलाया

जवानी ने फिर तुझको मजनूं बनाया

बुढ़ापे ने फिर आ के क्या-क्या सताया

अजल तेरा कर देगी बिलकुल सफ़ाया

.

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है

.

यही तुझको धुन है रहुं सबसे बाला

हो ज़ीनत निराली हो फ़ैशन निराला

जिया करता है क्या यूंही मरने वाला?

तुझे हुस्न-ए-ज़ाहिर ने धोके में डाला

.

कई तेरी ग़फ़लत की है इंतिहा भी?

जुनूं छोड़कर अब होश में आ भी

जगह जी लगाने की दुनिया नहीं है

ये इबरत की जा है तमाशा नहीं है.

Posted by: Bagewafa | ستمبر 4, 2019

देश की हकीकत || Ravish Kumar Speech

देश की हकीकत || Ravish Kumar Speech

बोलते बोलते रोने लगे रविश कुमार || देश की हकीकत || Ravish Kumar Speech

रविश कुमार ने गोदी मिडिया का औकात दिखा दिया || Ravish Kumar Speech

 

 

Posted by: Bagewafa | ستمبر 1, 2019

آبلہ پائ لے لے۔۔۔۔۔۔احمد فراز

آبلہ پائ لے لے۔۔۔۔۔۔احمد فراز

 

.

وحشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لے

مجھ سے یارب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

.

عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے

دل نے ہر بار کہا آگ پرائی لے لے

.

میں تو اس صبح درخشاں کو تونگر جانوں

جو مرے شہر سے کشکول گدائی لے لے

.

تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط تیری

وہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے

.

ایسا نادان خریدار بھی کوئی ہوگا

جو ترے غم کے عوض ساری خدائی لے لے

.

اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں

ہے کوئی جو ہنر زخم نمائی لے لے

.

میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر

اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے

.

اور کیا نذر کروں اے غم دل دار فرازؔ

زندگی جو غم دنیا سے بچائی لے لے

Posted by: Bagewafa | اگست 23, 2019

دیوار اُتھا دی۔۔۔۔رحمان خاور

دیوار اُتھا دی۔۔۔۔رحمان خاور

(courtesy: Facebook Time line of Rehman Khavar)

हम एक हैं….जनिसार अख्तर

एक है अपनी ज़मीं, एक है अपना गगन

एक है अपना जहाँ, एक है अपना वतन

अपने सभी सुख एक हैं, अपने सभी ग़म एक हैं

आवाज़ दो, आवाज़ दो हम एक हैं, हम एक हैं

आवाज़ दो, आवाज़ दो हम एक हैं, हम एक हैं

ये वक़्त खोने का नहीं, ये वक़्त सोने का नहीं

जागो वतन ख़तरे में है, सारा चमन खतरे में है

फूलों के चहरे ज़र्द हैं, ज़ुल्फ़ें फ़िज़ा की गर्द हैं

उम्दा हुआ तूफ़ान है, नरगे में हिंदुस्तान है

दुश्मन से नफ़रत फ़र्ज़ है, घर की हिफ़ाज़त फ़र्ज़ है

बेदार  हो बेदार हो, आमादा-ए-पैकार हो

कोरस: आवाज़ दो, आवाज़ दो हम एक हैं, हम एक हैं

ये है हिमाला की ज़मीं, ताज-ओ-अजंता की ज़मीं

संगम हमारी आन है, चित्तौड़ अपनी शान है

गुल्मर्ग का महका चमन, जमुना का तट गोकुल का बन

गंगा के धारे अपने हैं, ये सब हमारे अपने हैं

कह दो कोई दुश्मन नज़र, उठे न भूले से इधर

कह दो के हम बेदार हैं, कह दो के हम तय्यार हैं

आवाज़ दो, आवाज़ दो हम एक हैं, हम एक हैं

उठो जवानां-ए-वतन, बाँधे हुए सर से कफ़न

उठो दख़न की ओर से, गंग-ओ-जमन की ओर से

पंजाब की दिल से उठो, सतलुज की साहिल से उठो

महाराष्ट्र की खाक से, दिल्ली की अर्ज़-ए-पाक से

बंगाल से गुजरात से, कश्मीर के बागात से

नेफ़ा से राजस्थान से, पुर्ख़ां के हिंदुस्तान से

आवाज़ दो, आवाज़ दो हम एक हैं, हम एक हैं

       हम एक हैं, हम एक हैं, हम एक हैं

ہم ایک ہیں۔۔۔۔۔جانثار اختر

ایک ہے اپنی زمیں، ایک ہے اپنا گگن

ایک ہے اپنا جہاں، ایک ہے اپنا وطن

اپنے سبھی سکھ ایک ہیں، اپنے سبھی غم ایک ہیں

آواز دو، آواز دو ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

آواز دو، آواز دو ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

یہ وقت کھونے کا نہیں، یہ وقت سونے کا نہیں

جاگو وطن خطرے میں ہے، سارا چمن خطرے میں ہے

پھولوں کے چہرے زرد ہیں، زلفیں فضا کی گرد ہیں

عمدہ ہوا طوفان ہے، نرگے میں ہندستان ہے

دشمن سے نفرت فرض ہے، گھر کی حفاظت فرض ہے

بیدار ہو بیدار ہو، آمادۂ پیکار ہو

آواز دو، آواز دو ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

یہ ہے ہمالہ کی زمیں، تاج واجنتا کی زمیں

سنگم ہماری آن ہے، چتوڑ اپنی شان ہے

گلمرگ کا مہکا چمن، جمنا کا تٹ گوکل کا بن

گنگا کے دھارے اپنے ہیں، یہ سب ہمارے اپنے ہیں

کہہ دو کوئی دشمن نظر، اٹھے نہ بھولے سے ادھر

کہہ دو کے ہم بیدار ہیں، کہہ دو کے ہم تیار ہیں

آواز دو، آواز دو ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

اٹھو جواناں وطن، باندھے ہوئے سر پے کفن

اٹھو دکھن کی اور سے، گنگ وجمن کی اور سے

پنجاب کی دل سے اٹھو، ستلج کی ساحل سے اٹھو

مہاراشٹر کی خاک سے، دہلی کی عرض پاک سے

بنگال سے گجرات سے، کشمیر کے باغات سے

نیفہ سے راجستھان سے، پرخاں کے ہندستان سے

آواز دو، آواز دو ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں

Posted by: Bagewafa | اگست 16, 2019

وفا لاوُ ۔۔۔۔۔جمیل قمر

وفا لاوُ ۔۔۔۔۔جمیل قمر

مہاجر نامہ۔۔۔منور رانا

مہاجر نامہ۔ منور رانا
.
مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں
.
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں
.
نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں
.
عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں
.
کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی
کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں
.
پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے
نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں
.
جو اک پتلی سڑک اُنّاو سے موہان جاتی ہے
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں
.
یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد
ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں
.
ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے
ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں
.
ہمیں ہجرت کی اس اندھی گپھا میں یاد آتا ہے
اجنتا چھوڑ آئے ہیں الورا چھوڑ آئے ہیں
.
سبھی تیوہار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے
دوالی چھوڑ آئے ہیں دسہرا چھوڑ آئے ہیں
.
ہمیں سورج کی کرنیں اس لئے تکلیف دیتی ہیں
اودھ کی شام کاشی کا سویرا چھوڑ آئے ہیں
.
گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب
الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں
.
ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی
کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں
.
کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں
.
شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی
کہ ہم جامن کے پیڑوں کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں
.
وہ برگد جس کے پیڑوں سے مہک آتی تھی پھولوں کی
اسی برگد میں ایک ہریل کا جوڑا چھوڑ آئے ہیں
.
ابھی تک بارشوں میں بھیگتے ہی یاد آتا ہے
کہ ہم چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہیں
.
بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں
.
یہ ہجرت تو نہیں تھی بزدلی شائد ہماری تھی
کہ ہم بستر میں ایک ہڈی کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں
.
ہماری اہلیہ تو آ گئی ماں چھٹ گئی آخر
کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں سونا چھوڑ آئے ہیں
.
مہینوں تک تو امی خواب میں بھی بدبداتی تھیں
سکھانے کے لئے چھت پر پودینہ چھوڑ آئے ہیں
.
وزارت بھی ہمارے واسطے کم مرتبہ ہوگی
ہم اپنی ماں کے ہاتھوں میں نوالہ چھوڑ آئے ہیں
.
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے
مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہیں
.
ہمالہ سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی
میاں آؤ وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہیں
.
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہیں یاد آتا ہے
کہ ہم جلدی میں جمنا کا کنارہ چھوڑ آئے ہیں
.
اتار آئے مروت اور رواداری کا ہر چولا
جو اک سادھو نے پہنائی تھی مالا چھوڑ آئے ہیں
.
جنابِ میر کا دیوان تو ہم ساتھ لے آئے
مگر ہم میر کے ماتھے کا قشقہ چھوڑ آئے ہیں
.
اِدھر کا کوئی مل جائے اُدھر تو ہم یہی پوچھیں
ہم آنکھیں چھوڑ آئے ہیں کہ چشمہ چھوڑ آئے ہیں
.
ہماری رشتے داری تو نہیں تھی، ہاں تعلق تھا
جو لکشمی چھوڑ آئے ہیں جو درگا چھوڑ آئے ہیں
.

۔ق۔

.
کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کو
جہاں سے آئے ہیں ہم اس کی بغیا چھوڑ آئے ہیں
.
وہ حیرت سے ہمیں تکتا رہا کچھ دیر پھر بولا
وہ سنگم کا علاقہ چھٹ گیا یا چھوڑ آئے ہیں
.
ابھی ہم سوچ میں گم تھے کہ اس سے کیا کہا جائے
ہمارے آنسوؤں نے راز کھولا چھوڑ آئے ہیں
.
محرم میں ہمارا لکھنؤ ایران لگتا تھا
مدد مولیٰ حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہیں
.
محل سے دور برگد کے تلے نروان کی خاطر
تھکے ہارے ہوئے گوتم کو بیٹھا چھوڑ آئے ہیں
.
تسلی کو کوئی کاغذ بھی ہم چپکا نہیں پائے
چراغِ دل کا شیشہ یوں ہی چٹخا چھوڑ آئے ہیں
.
سڑک بھی شیرشاہی آ گئی تقسیم کی زد میں
تجھے ہم کرکے ہندوستان چھوٹا چھوڑ آئے ہیں
.
ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ہم کو
بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں
.
گزرتے وقت بازاروں میں اب بھی یاد آتا ہے
کسی کو اس کے کمرے میں سنورتا چھوڑ آئے ہیں
.
ہمارا راستہ تکتے ہوئے پتھرا گئی ہوں گی
وہ آنکھیں جن کو ہم کھڑکی پہ رکھا چھوڑ آئے ہیں
.
تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں
.
یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں
.
ہمیں مرنے سے پہلے سب کو یہ تاکید کرنا ہے
کسی کو مت بتا دینا کہ کیا کیا چھوڑ آئے ہیں
٭٭٭

मुहाजिरनामा —- मुनव्वर राना

.
मुहाजिर हैं मगर हम एक दुनिया छोड़ आए हैं,
तुम्हारे पास जितना है हम उतना छोड़ आए हैं ।
.
कहानी का ये हिस्सा आज तक सब से छुपाया है,
कि हम मिट्टी की ख़ातिर अपना सोना छोड़ आए हैं ।
.
नई दुनिया बसा लेने की इक कमज़ोर चाहत में,
पुराने घर की दहलीज़ों को सूना छोड़ आए हैं ।
.
अक़ीदत से कलाई पर जो इक बच्ची ने बाँधी थी,
वो राखी छोड़ आए हैं वो रिश्ता छोड़ आए हैं ।
.
किसी की आरज़ू के पाँवों में ज़ंजीर डाली थी,
किसी की ऊन की तीली में फंदा छोड़ आए हैं ।
.
पकाकर रोटियाँ रखती थी माँ जिसमें सलीक़े से,
निकलते वक़्त वो रोटी की डलिया छोड़ आए हैं ।
.
जो इक पतली सड़क उन्नाव से मोहान जाती है,
वहीं हसरत के ख़्वाबों को भटकता छोड़ आए हैं ।
.
यक़ीं आता नहीं, लगता है कच्ची नींद में शायद,
हम अपना घर गली अपना मोहल्ला छोड़ आए हैं ।
.
हमारे लौट आने की दुआएँ करता रहता है,
हम अपनी छत पे जो चिड़ियों का जत्था छोड़ आए हैं ।
.
हमें हिजरत की इस अन्धी गुफ़ा में याद आता है,
अजन्ता छोड़ आए हैं एलोरा छोड़ आए हैं ।
.
सभी त्योहार मिलजुल कर मनाते थे वहाँ जब थे,
दिवाली छोड़ आए हैं दशहरा छोड़ आए हैं ।
.
हमें सूरज की किरनें इस लिए तक़लीफ़ देती हैं,
अवध की शाम काशी का सवेरा छोड़ आए हैं ।
.
गले मिलती हुई नदियाँ गले मिलते हुए मज़हब,
इलाहाबाद में कैसा नज़ारा छोड़ आए हैं ।
.
हम अपने साथ तस्वीरें तो ले आए हैं शादी की,
किसी शायर ने लिक्खा था जो सेहरा छोड़ आए हैं ।
.
कई आँखें अभी तक ये शिकायत करती रहती हैं,
के हम बहते हुए काजल का दरिया छोड़ आए हैं ।
.
शकर इस जिस्म से खिलवाड़ करना कैसे छोड़ेगी,
के हम जामुन के पेड़ों को अकेला छोड़ आए हैं ।
.
वो बरगद जिसके पेड़ों से महक आती थी फूलों की,
उसी बरगद में एक हरियल का जोड़ा छोड़ आए हैं ।
.
अभी तक बारिसों में भीगते ही याद आता है,
के छप्पर के नीचे अपना छाता छोड़ आए हैं ।
.
भतीजी अब सलीके से दुपट्टा ओढ़ती होगी,
वही झूले में हम जिसको हुमड़ता छोड़ आए हैं ।
.
ये हिजरत तो नहीं थी बुजदिली शायद हमारी थी,
के हम बिस्तर में एक हड्डी का ढाचा छोड़ आए हैं ।
.
हमारी अहलिया तो आ गयी माँ छुट गए आखिर,
के हम पीतल उठा लाये हैं सोना छोड़ आए हैं ।
.
महीनो तक तो अम्मी ख्वाब में भी बुदबुदाती थीं,
सुखाने के लिए छत पर पुदीना छोड़ आए हैं ।
.
वजारत भी हमारे वास्ते कम मर्तबा होगी,
हम अपनी माँ के हाथों में निवाला छोड़ आए हैं ।
.
यहाँ आते हुए हर कीमती सामान ले आए,
मगर इकबाल का लिखा तराना छोड़ आए हैं ।
.
हिमालय से निकलती हर नदी आवाज़ देती थी,
मियां आओ वजू कर लो ये जूमला छोड़ आए हैं ।
.
वजू करने को जब भी बैठते हैं याद आता है,
के हम जल्दी में जमुना का किनारा छोड़ आए हैं ।
.
उतार आये मुरव्वत और रवादारी का हर चोला,
जो एक साधू ने पहनाई थी माला छोड़ आए हैं ।
.
जनाबे मीर का दीवान तो हम साथ ले आये,
मगर हम मीर के माथे का कश्का छोड़ आए हैं ।
.
उधर का कोई मिल जाए इधर तो हम यही पूछें,
हम आँखे छोड़ आये हैं के चश्मा छोड़ आए हैं ।
.
हमारी रिश्तेदारी तो नहीं थी हाँ ताल्लुक था,
जो लक्ष्मी छोड़ आये हैं जो दुर्गा छोड़ आए हैं ।
.
गले मिलती हुई नदियाँ गले मिलते हुए मज़हब,
इलाहाबाद में कैसा नाज़ारा छोड़ आए हैं ।
.
कल एक अमरुद वाले से ये कहना गया हमको,
जहां से आये हैं हम इसकी बगिया छोड़ आए हैं ।
.
वो हैरत से हमे तकता रहा कुछ देर फिर बोला,
वो संगम का इलाका छुट गया या छोड़ आए हैं।
.
अभी हम सोच में गूम थे के उससे क्या कहा जाए,
हमारे आन्सुयों ने राज खोला छोड़ आए हैं ।
.
मुहर्रम में हमारा लखनऊ इरान लगता था,
मदद मौला हुसैनाबाद रोता छोड़ आए हैं ।
.
जो एक पतली सड़क उन्नाव से मोहान जाती है,
वहीँ हसरत के ख्वाबों को भटकता छोड़ आए हैं ।
.
महल से दूर बरगद के तलए मवान के खातिर,
थके हारे हुए गौतम को बैठा छोड़ आए हैं ।
.
तसल्ली को कोई कागज़ भी चिपका नहीं पाए,
चरागे दिल का शीशा यूँ ही चटखा छोड़ आए हैं ।
.
सड़क भी शेरशाही आ गयी तकसीम के जद मैं,
तुझे करके हिन्दुस्तान छोटा छोड़ आए हैं ।
.
हसीं आती है अपनी अदाकारी पर खुद हमको,
बने फिरते हैं युसूफ और जुलेखा छोड़ आए हैं ।
.
गुजरते वक़्त बाज़ारों में अब भी याद आता है,
किसी को उसके कमरे में संवरता छोड़ आए हैं ।
.
हमारा रास्ता तकते हुए पथरा गयी होंगी,
वो आँखे जिनको हम खिड़की पे रखा छोड़ आए हैं ।
.
तू हमसे चाँद इतनी बेरुखी से बात करता है
हम अपनी झील में एक चाँद उतरा छोड़ आए हैं ।
.
ये दो कमरों का घर और ये सुलगती जिंदगी अपनी,
वहां इतना बड़ा नौकर का कमरा छोड़ आए हैं ।
.
हमे मरने से पहले सबको ये ताकीत करना है ,
किसी को मत बता देना की क्या-क्या छोड़ आए हैं ।

Posted by: Bagewafa | اگست 14, 2019

ہجرت۔۔۔۔صالح اچھا

ہجرت۔۔۔۔صالح اچھا

درگتا ہے۔۔۔کاظم واسطی

.

دام یوسف نہ گرا دیں کہیں بازاروں میں

 دور حاضر کی خریداروں سے ڈر لگتا ہے

.

جس کو دیکھو وہ نکل پڑتا ہے بازاروں میں

 مصر کیا اب سبھی بازاروں سے ڈر لگتا ہے

.

 مار کر آنکھ وہ مشہور ہوئ ہے لڑکی

 آنکھ کے جادو سے رخساروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ ڈھل جاتے ہیں کرداروں میں کیسے کیسے

 ایسے ویسے مجھے کرداروں سے ڈر لگتا ہے

.

آستینوں میں ہو خنجر تو کوئ بات نہیں

 سر پے لٹکی ہوئ تلواروں سے ڈر لگتا ہے

.

در بناتے ہیں وہی دل میں ہو وسعت جن کے

 گھر میں بڑھتی ہوئ دیواروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ پاگل ہیں بٹھا لیتے ہیں سر پر اپنے

 آتی جاتی سبھی سرکاروں سے ڈر لگتاہے

डर लगता है….कझिम वास्ती

.

दामे यूसुफ़ ना गिरा दें कहीं बाज़ारों में

 दूर-ए-हाज़िर की ख़रीदारों से डर लगता है

.

जिसको देखो वो निकल पड़ता है बाज़ारों में

 मिस्र क्या अब सभी बाज़ारों से डर लगता है

.

मार कर आँख वो मशहूर होई है लड़की

 आँख के जादू से रुख़्सारों से डर लगता है

.

लोग ढल जाते हैं किरदारों में कैसे कैसे

 ऐसे वैसे मुझे किरदारों से डर लगता है

.

आस्तीनों में हो ख़ंजर तो कोई बात नहीं

 सर पै लटकी होई तलवारों से डर लगता है

.

दर बनाते हैं वही दिल में हो वुसअत जिनके

 घर में बढ़ती होई दीवारों से डर लगता है

.

लोग पागल हैं बिठा लेते हैं सर पर अपने

 आती जाती सभी सरकारों से डर लगता है

 

Posted by: Bagewafa | اگست 5, 2019

زمیں ہی نم نہیں کی۔۔۔۔۔عمیر نجمی

زمیں ہی نم نہیں کی۔۔۔۔۔عمیر نجمی

.

اُگے نہ بیج، مشقت اگرچہ کم نہیں کی

 کھلا یہ بعد میں، ہم نے زمیں ہی نم نہیں کی

.

 ہمیں یہ ڈر تھا کہ اکتا نہ جائیں کچھ دن میں

 سو قسط وار محبت کی ،ایک دم نہیں کی

.

وہ کیسا عشق تھا، ماتھے پہ اک شکن بھی نہیں

 یہ کیسا ہجر ہے جس نے کمر بھی خم نہیں کی

.

جنوں کے داغ، ہمیشہ دماغ پر چھوڑے

 کسی بدن پہ کوئی داستاں رقم نہیں کی

.

جو مجھ سے ربط کا خواہاں تھا، اس سے دور رہا

 کسی کی روشنی، اس تیرگی میں ضم نہیں کی

.

جب اختلاف کیا اس نے ضمنی باتوں پر

 تو پھر وہ بات، جو کرنے گئے تھے ہم، نہیں کی

.

تجھے یہ دکھ ہے کہ کیوں بات کاٹ دی تیری؟

 وہ جس کی بات تھی، خوش ہو، زباں قلم نہیں کی

अब्बू खां  की  बकरी—–डॉ.झाकिर हुसैन

 

 

चांदनी एक नन्हीं सी बकरी थी, जिसे अब्बू खां बहुत प्यार करते थे। अपनी जान से ज्यादा चाहते थे उसे। पहाड़ी पर बने बाड़े में उसे सदा अपनी आंखों के सामने रखते। अपने हाथों से हरी नर्म घास खिलाते। घंटों तक दुलारते। कहीं जाना होता तो उसे बाड़े में बंद कर ताला लगा देते। चांदनी को उस छोटे से बाड़े में बंधकर रहना पसंद नहीं था। वह खिड़की से दूर तक फैले घास के मैदान को देखती। छोटी-छोटी, हरी भरी पहाड़ियां उसे बुलाती सी लगती। वह उन पहाड़ियों पर जाकर उछलना चाहती थी। जी भर कर हरी-हरी घास खाना चाहती थी। वह बाड़े में बंधकर नहीं खुले आसमान तले जीना चाहती थी। भेड़ियों के आतंक से अनजान नहीं थी चांदनी। पर खुलकर जीना ज्यादा पसंद था उसे। वह रोज पहाड़ी के हरे-भरे मैदान में कुलांचे भरने के सपने देखती। पर अब्बू खां के रहते तो कभी संभव नहीं था।

आखिर एक दिन चांदनी के मन की हो गई। बाहर जाते समय अब्बू खां खिड़की की सांकल लगाना भूल गए। उनके जाते ही चांदनी खिड़की से कूदकर बाहर आ गई। उछलती-कूदती मैदान तक पहुंची। खूब कुलांचे भरीं। हरी-हरी दूब जी भरकर खाई। कभी आसमान की ओर देखती कभी मैदान में सरपट दौड़ लगाती। रोम-रोम से खुशी फूट पड़ रही थी। उसके थकने से पहले ही दुष्ट भेड़िये की निगाह उस पर पड़ गई। चांदनी घबराई नहीं। उसने हिम्मत से भेड़िये का सामना किया। कमजोर थी, आखिर जान गंवानी पड़ी। भेड़िया हंसा, मैं जीत गया, पेड़ पर बैठी चिड़िया बोली, चांदनी जीती।

मेरे भीतर भी है चांदनी। हर औरत के भीतर होती है चांदनी। जो जिंदगी को जीना चाहती है अपनी तरह से। सुख-सुविधाओं की स्वर्णिम सलाखों के पीछे नहीं , स्वछंद वातावरण में, जहां उसकी सांसों पर कोई पहरा न हो। रोक-टोक और पाबंदियों से घिरी नहीं, उसे मुट्ठी भर सुकून दे ऐसी जिंदगी। घुट-घुटकर लंबी जिंदगी नहीं, छोटी जिंदगी जीना चाहती है खुले आकाश तले। अपनी शर्तों पर कोई उसे प्यार भले ना करे, पर जीने की आजादी तो दे। उसके सुख तो कुलांचे भरने में है, दोनों हाथों से खुशि‍यां लुटाने में है। बंधनों में बंधकर वह खुश कैसे रह सकती है ?

लड़की है तो क्या, ताउम्र निर्देषों का पालन करती रहे ? उसे भी अधिकार है अपने अस्तित्व के साथ जीने का। हां, चांदनी की तरह हर औरत को भी खौफ रहता है भेड़ियों का। पर क्या उनके डर से जीना छोड़ दें ? हर औरत चाहती है चांदनी की तरह एक दिन की जिंदगी जीना। भेड़ियों का सामना करने का हौंसला भी है उसके पास। वह भी जीतना चाहती है चांदनी की तरह अमर होकर।

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


Maulana Azad’s biography and truth of partition

 

Posted by: Bagewafa | جولائی 31, 2019

تھالی کا بیگن۔۔۔۔کرشن چندر

تھالی کا بیگن۔۔۔۔کرشن چندر

۔

تو جناب جب میرم پور میں میرا دھندہ کسی طور نہ چلا، فاقے پر فاقے ہونے لگے اور جیب میں آخری اٹھنی رہ گئی تو میں نے جیب میں سے آخری اٹھنی نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا:” جا بازار سے بینگن لے آ، آج چپاتی کے ساتھ بینگن کی بھاجی کھا لیں گے۔ ” وہ نیک بخت بولی:”اس وقت تو کھا لیں گے، شام کے کھانے کا کیا ہوگا؟” ”تو فکر نہ کر، وہ اوپر والا دے گا۔ ” ”وہ بازار سے بینگن لے آئی۔ رسوئی میں بیٹھ کر اس نے پہلا بینگن کاٹا ہی تھا کہ اسے اندر سے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ ”ارے” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ”کیا ہے؟” میں رسوئی کے اندر گیا اس نے مجھے کٹا ہوا بینگن دکھایا۔ ”دیکھو تو اس کے اندر کیا لکھا ہے؟”

میں نے غور سے بینگن دیکھا۔ بینگن کے اندر بیج کچھ اس طرح ا یک دوسرے سے جڑ گئے تھے کہ لفظ اللہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ”ہے بھگوان” میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:”یہ تو مسلمانوں کا اللہ ہے۔ ”محلہ پور بیاں جہاں میں رہتا تھا، ملا جلا محلہ ہے یعنی آدھی آبادی ہندوؤں کی اور آدھی مسلمانوں کی ہے۔ لوگ جوق در جوق اس بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ ہندوؤں اور مسیحیوں کو تو اس بینگن پر یقین نہ آیا لیکن حاجی میاں چھنن اس پر ایمان لے آئے اور پہلی نذر نیاز انہوں نے ہی دی۔ میں نے اس کٹے ہوئے بینگن کو شیشے کے بکس میں رکھ دیا ۔ تھوڑی دیر میں ایک مسلمان نے اس کے نیچے ہرا کپڑا بچھا دیا۔ منن میاں تمباکو والے نے قرآن خوانی شروع کر دی۔ پھر کیا تھا شہر کے سارے مسلمانوں میں اس بینگن کا چرچا شروع ہوگیا۔ جناب! سمتی پورہ سے میمن پورہ تک اور ہجواڑے سے کمانی گڑھ تک اور ادھ ٹیلا میاں کے چوک سے لے کر محلہ کوٹھیاراں تک سے لوگ ہمارا بینگن دیکھنے کے لیے آنے لگے۔لوگ باگ بولے ایک کافر کے گھر میں ایمان نے اپنا جلوہ دکھایا ہے۔ نذر نیاز بڑھتی گئی۔ پہلے پندرہ دنوں میں سات ہزار سے اوپر وصول ہوگئے۔ جس میں سے تین سو روپے سائیں کرم شاہ کو دیے جو چرس کا دم لگا کر ہر وقت اس بینگن کی نگرانی کرتا تھا۔پندرہ بیس دن کے بعد جب لوگوں کا جوش ایمان ٹھنڈا پڑتا دکھائی دیا تو ایک رات میں نے آہستہ سے اپنی بیوی کو جگایا اور میں نے کٹے ہوئے بینگن کا رخ ذرا سا سرکایا اور پوچھا:”اب کیا دکھائی دیتا ہے؟” ”اوم ، ارے یہ تو اوم ہے۔ ” میری بیوی نے انگلی ٹھوڑی پر رکھ لی۔ اس کے چہرے پر استعجاب تھا۔

راتوں رات میں نے پنڈت رام دیال کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے بلا کر کٹے ہوئے بینگن کا بدلا ہوا رخ دکھایا۔ پنڈت رام دیال نے چیخ کر کہا:”ارے یہ تو اوم ہے اوم۔ اتنے دنوں تک مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہے۔ ”بس پھر کیا تھا سارے شہر میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ کٹے ہوئے بینگن کے اندر دراصل ”اوم” کا نام کھدا ہوا ہے۔ اب پنڈت رام دیال نے اس پر قبضہ جما لیا۔ رات دن آرتی ہونے لگی۔ بھجن گائے جانے لگے، چڑھاوا چڑھنے لگا۔ میں نے رام دیال کا حصہ بھی رکھ دیا تھا کہ جو محنت کرے اسے بھی پھل ملنا چاہیے، لیکن بینگن پر ملکیت میری ہی رہی۔ اب شہر کے بڑے بڑے سنت جوگی اور شدھ مہاتما اور سوامی اس بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے شہر میں جابجا لیکچر ہورہے تھے۔ ہندو دھرم کی فضیلت پر دھواں دار بھاشن دیے جا رہے تھے۔ پچیس دنوں میں کوئی پندرہ بیس ہزار کا چڑھاوا چڑھا اور سونے کی انگوٹھیاں اور سونے کا ایک کنگن بھی ہاتھ آیا لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کا خمار پھر ڈھلنے لگا۔ تو جناب! میں نے سوچا اب کوئی اور ترکیب لڑانی چاہیے۔ سوچ سوچ کر جب ایک رات میں نے اپنی بیوی کو جگا کر میں نے اوم کا زاویہ ذرا سا اور سرکا دیا! اور پوچھا”اب بتا کیا دکھائی دیتا ہے؟” وہ دیکھ کر گھبرا گئی۔ منہ میں انگلی ڈال کر بولی:”ہے رام یہ تو عیسائیوں کی صلیب ہے۔ ”

”شش۔ ” میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا:”بس کسی سے کچھ نہ کہنا۔ کل صبح میں پادری ڈیورنڈ سے ملوں گا۔ ”کٹے ہوئے بینگن میں مسیحی صلیب کو دیکھنے کے لیے پادری ڈیورنڈ اپنے ساتھ گیارہ عیسائیوں کو لے آئے اور بینگن کی صلیب دیکھ کر اپنے سینے پر بھی صلیب بنانے لگے۔ اور عیسائیوں کے بھجن گانے لگے اور سر پرجالی دار رومال اوڑھے خوب صورت فراک پہنے سڈول پنڈلیوں والی عورتیں اس معجزے کو دیکھ کر نہال ہوتی گئیں۔ شہر میں تناؤ بڑھ گیا۔ ہندو کہتے تھے اس بینگن میں اوم ہے، مسلمان کہتے تھے اللہ ہے، عیسائی کہتے تھے صلیب ہے۔ بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے جانے لگے۔ اکا دکا چھرے بازی کی وارداتیں ہونے لگیں۔ سمتی پورہ میں دو ہندو مار ڈالے گئے اور مستری محلے میں تین مسلمان۔ ایک عیسائی شہر کے بڑے چوک میں ہلاک کر دیا گیا۔ شہر میں دفعہ ۱۴۴نافذ کر دی گئی۔جس دن میری گرفتاری عمل میں آنے والی تھی اس سے پہلے دن کی رات میں نے بینگن کو موری میں پھینک دیا۔ گھر کا ساراسامان باندھ لیا اور بیوی سے کہا:” کسی دوسرے شہر چل کر دوسرا دھندا کریں گے۔ ”” تو جناب! تب سے میں بمبئی میں ہوں۔ میرم پور کے ان دو مہینوں میں جو رقم میں نے کمائی تھی اس سے ایک ٹیکسی خرید لی ہے۔ اب چار سال سے ٹیکسی چلاتا ہوں اور ایمانداری کی روزی کھاتا ہوں۔ ” اتنا کہہ کر میں نے میز سے اپنا گلاس اٹھایا اور آخری گھونٹ لے کر اسے خالی کر دیا۔ یکایک میری نگاہ میز کی اس سطح پر گئی جہاں میرے گلاس کے شیشے کے پیندے نے ایک گیلا نشاں بنا دیا تھا میں نے اپنے دوسرے ساتھی ٹیکسی ڈرائیور محمد بھائی سے کہا:” محمد بھائی دیکھو تو اس گلاس کے پیندے کے نیچے جو نشان بن گیا ہے یہ اوم ہے کہ اللہ؟”محمد بھائی نے غور سے نشان کو دیکھا، مجھے دیکھا پھر میری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر کہا: ”ابے سالے! یہ بمبئی ہے یہاں اوم ہے نہ اللہ نہ صلیب۔ جو کچھ ہے روپیہ ہے بس روپیہ۔ ” اتنا کہہ کر محمد بھائی نے میز پر ہاتھ پھیر کر پانی کے نشان کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا.

बहुत वहशतें भी ठीक नहीं…. एतबार साजिद

 

.

ये ठीक है कि बहुत वहशतें भी ठीक नहीं

 मगर हमारी ज़रा आदतें भी ठीक नहीं

.

अगर मिलो तो खुले दिल के साथ हमसे मिलो

 कि रस्मी रस्मी सी ये चाहतें भी ठीक नहीं

.

ताल्लुक़ात में गहराइयाँ तो अच्छी हैं

 किसी से इतनी मगर क़ुर्बतें भी ठीक नहीं

.

दिल-ओ-दिमाग़ से घायल हैं तेरे हिज्र नसीब

.शिकस्ता दर भी हैं उनकी छतें भी ठीक नहीं

.

क़लम उठा के चलो हाल-ए-दिल ही लिख डालो

 कि रात-दिन की बहुत फ़ुर्क़तें भी ठीक नहीं

.

तुम एधतिबार. परेशां भी इन दिनों हो बहुत

 दिखाई पड़ता है कुछ सोहबतें भी ठीक नहीं

 

ہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں۔۔۔۔اعتبار ساجد

 

.

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں

.

اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو

کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں

.

تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں

کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں

.

دل و دماغ سے گھایل ہیں تیرے ہجر نصیب

.شکستہ در بھی ہیں ان کی چھتیں بھی ٹھیک نہیں

.

قلم اٹھا کے چلو حال دل ہی لکھ ڈالو

کہ رات دن کی بہت فرقتیں بھی ٹھیک نہیں

.

تم اعتبارؔ پریشاں بھی ان دنوں ہو بہت

دکھائی پڑتا ہے کچھ صحبتیں بھی ٹھیک نہیں

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم ۔۔۔۔جون ایلیا

.

.

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

.

خموشی سے ادا ہو رسم دوری

کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

.

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں

وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

.

وفا اخلاص قربانی محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

.

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم

تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

.

کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے

تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم

.

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری

تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم

.

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی

یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم

.

.

नया इक रिश्ता पैदा क्यूँ करें हम….जौन एलिया

नया इक रिश्ता पैदा क्यूँ करें हम

बिछड़ना है तो झगड़ा क्यूँ करें हम

.

ख़मोशी से अदा हो रस्म-ए-दूरी

कोई हंगामा बरपा क्यूँ करें हम

.

ये काफ़ी है कि हम दुश्मन नहीं हैं

वफ़ा-दारी का दावा क्यूँ करें हम

.

वफ़ा इख़्लास क़ुर्बानी मोहब्बत

अब इन लफ़्ज़ों का पीछा क्यूँ करें हम

.

हमारी ही तमन्ना क्यूँ करो तुम

तुम्हारी ही तमन्ना क्यूँ करें हम

.

किया था अहद जब लम्हों में हम ने

तो सारी उम्र ईफ़ा क्यूँ करें हम

.

नहीं दुनिया को जब पर्वा हमारी

तो फिर दुनिया की पर्वा क्यूँ करें हम

.

ये बस्ती है मुसलामानों की बस्ती

यहाँ कार-ए-मसीहा क्यूँ करें हम

Dastoor – Habib Jalib

Voices Against Lynching | Song and Poem | Dastoor – Habib Jalib | Ft. Poetry by Nabiya Khan

 

ریشم بُننا کھیل نہیں۔۔۔۔۔علی اکبر ناطق

.

ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس

دل کے لہو سے سانس ملا کی سُچا نور بناتے ہیں​

اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں​

خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں​

.صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں بُنتے ہیں​

کس نے سمجھا کیسے بُنے ہیں چاندی کی کرنوں کے تار​

کُنجِ جگر سے کھینچ کے لاتے ہیں ہم نُور کے ذرّوں کو​

شرماتے ہیں دیکھ کے جن کو نیل گگن کے تارے بھی​

.ہم کو خبر ہے ان کاموں میں جاں کا زیاں ہو جاتا ہے​

لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی​

.سُچا ریشم بُنتے ہیں اور تار لپٹتے جاتے ہیں​

آخر گُھٹ کے مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں​

کوئی ریشم بُن کے دیکھے ریشم بُننا کھیل نہیں​

..

بہت وحشتیں تھیک نہیں۔۔۔۔۔۔اعتبار ساجد۔

 

 

.

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں

.

اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو

کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں

.

تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں

کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں

.

دل و دماغ سے گھایل ہیں تیرے ہجر نصیب

شکستہ در بھی ہیں ان کی چھتیں بھی ٹھیک نہیں

.

قلم اٹھا کے چلو حال دل ہی لکھ ڈالو

کہ رات دن کی بہت فرقتیں بھی ٹھیک نہیں

.

تم اعتبارؔ پریشاں بھی ان دنوں ہو بہت

دکھائی پڑتا ہے کچھ صحبتیں بھی ٹھیک نہیں

 

बहुत वहशतें भी ठीक नहीं….. एतबार साजिद

.

 ये ठीक है कि बहुत वहशतें भी ठीक नहीं

 मगर हमारी ज़रा आदतें भी ठीक नहीं

.

 अगर मिलो तो खुले दिल के साथ हमसे मिलो

 कि रस्मी रस्मी सी ये चाहतें भी ठीक नहीं

.

ताल्लुक़ात में गहराइयाँ तो अच्छी हैं

 किसी से इतनी मगर क़ुर्बतें भी ठीक नहीं

.

 दिल-ओ-दिमाग़ से घायल हैं तेरे हिज्र नसीब

शिकस्ता दर भी हैं उनकी छतें भी ठीक नहीं

.

 क़लम उठा के चलो हाल-ए-दिल ही लिख डालो

 कि रात-दिन की बहुत फ़ुर्क़तें भी ठीक नहीं

.

 तुम एतबार परेशां भी इन दिनों हो बहुत

 दिखाई पड़ता है कुछ सोहबतें भी ठीक नहीं

Posted by: Bagewafa | جولائی 18, 2019

ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔کاظم واسطی

ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔کاظم واسطی

.

دام یوسف نہ گرا دیں کہیں بازاروں میں

 دور حاضر کی خریداروں سے ڈر لگتا ہے

.

جس کو دیکھو وہ نکل پڑتا ہے بازاروں میں

 مصر کیا اب سبھی بازاروں سے ڈر لگتا ہے

.

 مار کر آنکھ وہ مشہور ہوئ ہے لڑکی

 آنکھ کے جادو سے رخساروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ ڈھل جاتے ہیں کرداروں میں کیسے کیسے

 ایسے ویسے مجھے کرداروں سے ڈر لگتا ہے

.

آستینوں میں ہو خنجر تو کوئ بات نہیں

 سر پے لٹکی ہوئ تلواروں سے ڈر لگتا ہے

.

در بناتے ہیں وہی دل میں ہو وسعت جن کے

 گھر میں بڑھتی ہوئ دیواروں سے ڈر لگتا ہے

.

لوگ پاگل ہیں بٹھا لیتے ہیں سر پر اپنے

 آتی جاتی سبھی سرکاروں سے در لگتاہے

उर्दू मुशायेरा…..मुनव्वर राना

Posted by: Bagewafa | جولائی 13, 2019

Mob lynching…Times Express

Mob lynching…Times Express

गुस्से में सड़कों पर उतरे मुसलमान! कहा हमसे 1 दिन निपट लो, तबरेज अंसारी के लिए बड़ा प्रदर्शन।

Posted by: Bagewafa | جولائی 12, 2019

Prime Time, July 12, 2019…….Ravish Kumar

Prime Time, July 12, 2019 | राम के नाम पर बवाल के लिए सियासी खुराक कहां से आ रही है?

Prime Time, July 12, 2019…Ravish Kumar

फूलों की दुकान थोड़ी है….शकील रंगरेज

 *अगर ख़िलाफ़ हैं होने दो जान थोड़ी है,*

 *ये सब हिजड़े हैं कोई पहलवान थोड़ी हैं।*

.

*गिरा के खून बेगुनाहो का ख़ुश होतें हैं,*

 *ये कायर लोग वीरो की संतान थोड़ी हैं।*

.

*हम अपने उसूलो पे जीते मरते हैं,*

 *तुम्हारे हाथ हमारी कमान थोड़ी हैं।*

.

*जो गुज़रे अपनी हदों से तो हम दिखा देंगें,*

 *फिर तुम्हारा कोई निगहबान थोड़ी है।*

.

*हमें भी आता है हथियार चलाने का हुनर,*

 *हमारी कोई फूलों की दुकान थोड़ी है।*

(Courtesy: facebook Shakil Rangrej

Shakil Rangrej Rangrej Nafis Chauhan

Posted by: Bagewafa | جولائی 8, 2019

پروین شاکر

 

 

Asaduddin Owaisi ने जम कर धोया नफरत फ़ैलाने वालों को,पीएम मोदी को भी नसीहत

(You Tube)

نہیں ہوا۔۔۔۔محمد علی وفا

.

  شایدشہرمیں خون کا چرچہ نہیں ہوا

شوق خوں کشی ابھی پورا نہیں ہوا

.

صیہونیوں کی عادت ظلمت نہین جاتی

حیمیت کا عرب میں مُدّع نہیں ہوا

.

انسانیت کے باب سب بند ہو گےء

مسلم کے نام کاابھی سودا نہیں ہوا

.

چاہے متادو چاہے اُسے  بھاڑ میں دالو

دُنیا کی نظر میں کوئ رسوا نہیں ہوا

.

یہ گولیاں بارود سب انکے لےء ہیں

یا رب انکا کوئ بھی ہم نوا نہیں ہوا

.

 ماردو بچُوں کو عورت کو جلادو 

اہلے ایماں کادل ابھی زندہ نہیں ہوا

.

عربوں کے ھاتھ میں پڑی سونے کی کنگنیں 

اُنکا ابھی بھی خون  پریشاں نہیں ہوا

.

ذلّت کے گھڑے میں ہے انکا مقُدر

کسی ایک کی آواز میں لرزاں نہیں ہوا

.

اتھو شباب عرب  تم غیرت  کی ہے پُکار

اس وقت جو سویا راھا دانہ نہیں ہوا

.

नहीं हुआ۔۔۔۔۔मुहम्मदअली वफा

.

शायद शहर में ख़ून का चर्चा नहीं हुआ

शौके ख़ूँ कुशी अभी पूरा नहीं हुआ

.

सिहोनियों की आदतें ज़ुल्मत नहीँ जाती

हैमियत का अरब में मुद्दा नहीं हुआ

.

इन्सानियत के बाब सब बंद हो गए

मुस्लिम के नाम का अभी सौदा नहीं हुआ

.

चाहे मिटादो चाहे उसे भाड़ में दालो

दुनिया की नज़र में कोई रुस्वा नहीं हुआ

.

ये गोलीयां बारूद सब उनके लिये  हैं

या रब उनका कोई हमनवा नहीं हुआ

.

मर्द,औरत,बच्चे सब को जलादो

अहले ईमां का दिल अभी ज़िंदा नहीं हुआ

.

अरबों के हाथ में पडे हैं सोने की कंगनें

उनका अभी भी ख़ून परेशां नहीं हुआ

.

ज़िल्लत के ग्द्दे में है उनका मुकद्दर

किसी की भी आवाज़ में लर्ज़ां नहीं हुआ

.

उठो  शबाबे अरब , ग़ैरत की है पुकार

इस वक़्त जो सोया राहा दाना नहीं हुआ

 

 

Prime Time With Ravish Kumar, July 03, 2019 | गांधी परिवार से बाहर कौन करेगा कांग्रेस का नेतृत्व?

(You Tube)

میر او غالب کی شان باقی ہے……اعجاز ساحل

 

۔

میر او غالب کی شان باقی ہے

 ابھی اردو زبان باقی ہے

۔

 اس کی باہوں میں ہوں مگر پھر بھی

 فاصلہ درمیان باقی ہے

۔۔

تیغ اے باطل سے جاکے کہہ دیجے

 میرے منھ میں زبان باقی ہے

۔

ختم ہوگی نہ جرات اے پرواز

 جب تلک آسمان باقی ہے

۔

میرے سینے میں تیری یادوں کا

 ایک ٹوٹا مکان باقی ہے

۔

کل نکل کر کتاب سے اسنے

 یہ کہا داستان باقی ہے

۔

ابھی ترکش میں تیر مت رکھیے

 ایک پرندے میں جان باقی ہے

मीर ओ ग़ालिब की शान बाक़ी है……एजाज़ साहिल

.

मीर ओ ग़ालिब की शान बाक़ी है

 अभी उर्दू ज़बान बाकी है

.

 उस की बाहों में हूं मगर फिर भी

 फासला दरमियान बाक़ी है

..

तेग़ ए बातिल से जाके कह दीजे

 मेरे मुंह में ज़बान बाक़ी है

.

ख़त्म होगी ना जुरअत ए परवाज़

 जब तलक आसमान बाक़ी है

.

मेरे सीने में तेरी यादों का

 एक टूटा मकान बाक़ी है

.

कल निकल कर किताब से उसने

 ये कहा दास्तान बाक़ी है

.

अभी तरकश में तीर मत रखिए

 एक परिंदे में जान बाक़ी है

 

दुनिया का सबसे बड़ा मदरसा | Biggest Islamic Institute of The World | Jamia Al-Azhar |

दुनिया का सबसे बड़ा मदरसा | Biggest Islamic Institute of The World | Jamia Al-Azhar |

(Courytesy: net)

تیری خُوشبُو کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔اظہر خان اظہر

Older Posts »

زمرے