Posted by: Bagewafa | نومبر 13, 2018

BJP IT Cell Insider Interview with Dhruv Rathee

BJP IT Cell Insider Interview with Dhruv Rathee

Advertisements

Kanhaiya Kumar का MODI और BJP के खिलाफ ऐसा भाषण नहीं सुना होगा

 

Posted by: Bagewafa | نومبر 11, 2018

Media Bol, Episode 74: Roti Rozgar Se Upar Mandir Karobar!

मीडिया बोल की 74वीं कड़ी में उर्मिलेश अयोध्या मामले और सरदार पटेल की मूर्ति पर वरिष्ठ पत्रकार अनिल आनंद, कॉमन कॉज़ के डायरेक्टर डॉ. विपुल मुदगल और वरिष्ठ पत्रकार मीनाक्षी शेरॉन से चर्चा कर रहें है Click here to support The Wire: https://thewire.in/support

Posted by: Bagewafa | نومبر 11, 2018

حرف صداقت لکھنا۔۔۔۔۔ حبیب جالب

حرف صداقت لکھنا۔۔۔۔۔ حبیب جالب

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا

۔

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا

ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

۔

نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو

حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا

۔

ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا

شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا

۔

اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی

پڑھ کے نا خوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا

۔

دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے

سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا

۔

کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہہ کے مصاحب جالبؔ

رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا

‘मेरे कवि दोस्त’—– नवाज़ुद्दीन सिद्दीकी

कवियों को यूं पुकार रहे हैं नवाज़ुद्दीन सिद्दीकी- ‘मेरे कवि दोस्त’

अमर उजाला काव्य डेस्क, नई दिल्ली

यह कविता इन दिनों ख़ूब वायरल हो रही है जिसे नवाज़ और रमनीक सिंह दोनों साथ मिलकर सुना रहे हैं, बोल कुछ यूं हैं

मेरे कवि दोस्त वक़्त आ गया है

कि कविता मंडलियों और जत्थों से

आज़ाद होकर बीच सड़क पर धरना दे

तुम्हारी कविता मेरे कवि दोस्त

अपने महबूब से मिलने उससे बिछड़ने

उसके जाने पर खाली हुए मकान की

कहानी कह-कह कर थक गयी है

देश मूल्यों से खाली हो रहा है

ओछेपन ने नैतिकता को रद्दी

के भाव बेच दिया है

पत्रकारों को * की औलाद कहना

हो गया है हर बहस का

आख़िरी जवाब

किसान के घटते और बिल्डर

के बढ़ते पेट की गति समान हो गयी है

अनाज खिलाने वाला गोली खा रहा है

हमारी सड़कों पर छितरा

उसके पैर की छालों से निकला खून

हमारे शहर के माथे पर कलंक है

अपने बच्चों को लटकता देख भी

वो हमारे बच्चों के लिए

अन्न उगाना नहीं करेगा बंद

हमारी ख़ुदगर्ज़ी ने छोड़े होंगे

हमारे अंदर इंसानियत के कुछ अंश

तो हम पूछेंगे सवाल

नहीं खाएंगे खाना

जब हम पढ़ेंगे उनकी आत्महत्याओं के बारे में

आज़ाद हिंदुस्तान के सीवेज पाइप में

दम घुटकर मरता दलित

नफ़रत का दुकानें, धर्मों की लड़ाई में

आहुति देतीं निर्दोष बच्चियां

बन कर रह गयी हैं राजनीति का सस्ता औज़ार

आगे देखें यह वीडियो…

Posted by: Bagewafa | نومبر 5, 2018

Face Book…Muhammedali Wafa

https://www.facebook.com/MuhammedaliWafa

Posted by: Bagewafa | نومبر 3, 2018

Hum duniyake akhri log haiN

Hum duniyake akhri log haiN

अस्थाना के खिलाफ सीबीआई के पास मौजूद सारे सबूत, व्हाट्सएप मैसेजेस, बयानात और कॉल रिकॉर्डिंग…

#CBI #SupremeCourt #Evidence

ये रहे अस्थाना के खिलाफ सबूत

Posted by: Bagewafa | نومبر 2, 2018

کہاں تک۔۔صالح اچھا

کہاں تک۔۔صالح اچھا

(Courtesy:Facebook)

Sambit Patra का मोदी भक्त एंकरो ने भी छोड़ा साथ, Congress प्रवक्ता ने पात्रा की ऐसी तैसी कर दी

تحریک آزادی کا روشن ستارہ اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز اشرفی

تحریک آزادی کا روشن ستارہ اشفاق اللہ خان۔۔۔۔۔۔۔۔ پرویز اشرفی

کیسویں صدی کی گیارہویں یوم آزادی نے ہمارے در پر دستک دی ہے۔ ہم پھر اُن بھولے بسرے مجاہدینِ آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کو تیار ہیں۔کوئی قلم سے کوئی زبان سے ، کوئی آنسوئوں سے اورکوئی تصویر کشائی کے ذریعے۔ جتنے لوگ اتنے طریقے لیکن مقصد سب کا ایک وطن پر مٹنے والے اُن جیالوں کی قربانیوں کو یاد کرنا جو وطن عزیز کی آزادی کے لیے مٹ گئے موجودہ وقت کے مورخ نے ایسے مجاہدین آزادی کو بھلانے کی کوشش کی جن کی بے لوث قربانی آج بھی مثال ہے۔ اُن لوگوں نے عیش وعشرت کی زندگی ترک کرکے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار فرنگی حکومت کے قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں۔ ایسے مجاہدین آزادی کو فراموش کرنا ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی متعدد مائوں کے جگرگوشوں نے اپنے جنت نشان ملک ہند کے لیے بے جگری سے اپنا خون بہایا لیکن صد افسوس یوم آزادی کی تقاریب میں اُن کا نام بھی شاذو نادر ہی لیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک مجاہد آزادی تھے اشفاق اللہ خان ۔ 22؍اکتوبر 1900ء کو اترپردیش کے شاہجہاں پور شہر میں ایک امیر اورکھاتے پیتے گھرانے میں اشفاق اللہ خاں پیداہوئے۔ اس عظیم محب وطن کی مرادیں اور اُمنگیں عام نوجوانوں سے جدا تھیں۔ اپنے خاندان کے چہیتے فرزند تھے۔ پندرہ سال کی عمر میں ہی اشفاق اللہ خاں Indian Republic Associationمیں شامل ہوگئے اورملک کی آزادی کے لیے کوشاں رہے یہاں تک کہ اپنی جان کی قربانی بھی دے دی۔ جلیاں والا باغ سانحہ سے وہ بہت مغموم تھے۔ اُن کا درد مند دل ہر لمحہ وطن کی آزادی کے لیے بے قرار رہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی نوجوانی فضول اوربیکار باتوں میں گزاریں۔ اتفاق سے اُنہیں ایسا ساتھی بھی مل گیا جس نے اُن کی تمنائوں کو صحیح سمت دی وہ کوئی اورنہیں مشہور مجاہد آزادی رام پرساد بسملؔ تھے۔ رام پرساد بسملؔ یوں تو اشفاق اللہ خاں کے بڑے بھائی کے ہم جماعت تھے لیکن اشفاق کے دوست اور راہبر دونوں تھے۔ بسملؔ پہلے اشفاق کو چھوٹے بھائی کی طرح مانتے تھے رفتہ رفتہ وہ بسملؔ کے معاون اور دوست بن گئے ۔ چند ہی دنوں میں وہ پوری طرح رام پرساد بسملؔ کے رنگ میں رنگ گئے۔

9؍اگست 1925ء تحریک آزادی کا یادگار دن ہے جب اشفاق اللہ خاں ،پنڈت رام پرساد بسملؔاور ان کے آٹھ ساتھیوں نے سرکاری خزانے کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا جو بذریعہ ریل جارہا تھا۔ مقصد تھا ان روپیوں سے تحریک آزادی کے لیے سامان خریدنا وہ لوگ 8ڈائون پسنجر ٹرین میں سوار ہوکر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹرین جیسے ہی ’’کاکوری‘‘اسٹیشن پہنچی ٹرین کی زنجیر کھینچ کر اُسے روک دیاگیا اورخزانہ لوٹ لیاگیا۔ اس پوری کا رروائی میں کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ یہ سارا کام پنڈت رام پرساد بسملؔ کی رہنمائی میں ہورہاتھا۔اس حادثے سے انگریز حکومت کے دلوںمیں دہشت پیداہوگئی۔ انگریز انتظامیہ حرکت میں آئی۔ وہ انقلابیوں کے پیچھے پڑگئی۔جگہ جگہ چھاپے پڑے پولس کُتّے کی طرح انقلابیوں کو سونگھتی پھر رہی تھی۔ اشفاق اللہ خاں چھپتے چھپاتے بنارس ہوتے ہوئے ڈالٹن گنج موجودہ جھارکھنڈ پہنچ کر ملازمت کرلی۔ لیکن حب الوطنی کے جذبے نے انہیں پھر دلّی کا رخ کرنے پر مجبور کردیا۔ وہ دہلی چلے آئے۔ 8ستمبر 1926ء کو اشفاق اللہ خاں کے ایک ضمیرفروش ہم جماعت نے پولس میں ان کی مخبری کردی اوروہ گرفتار کرلیے گئے ۔لکھنؤ کی عدالت میں ان پر مقدمہ چلایاگیا۔کاکوری کیس کے تین ملزموں کے ساتھ انہیں بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی اور فیض آباد سینٹر ل جیل میں قید کر دیاگیا۔ قید کے دوران وہ ہمیشہ کی طرح طرح پنج گانہ نماز ادا کرتے۔ قرآن کی تلاوت انکا معمول تھا۔ جتنے عرصہ وہ جیل میں رہے ایک عام انسان اورسادہ لوح مسلمان کی طرح زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ جب پھانسی کا دن قریب آیا تب بھی کسی طرح کی گھبراہٹ کی جھلک نہیں دکھائی دی۔ اشفاق اللہ خاں نے اُس موقع پر ملنے آنے والے ساتھیوں سے کہا تھا—’’تم لوگوں کو ضرور حیرانی ہوگی کہ میں آج اتنا خوش کیوں ہوں اور میں نے اچھے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں۔ جانتے نہیں…؟ کل میری شادی ہونے والی ہے کل صبح میری بارات نکلے گی اورسویرے ہی شادی بھی ہوجائے گی۔ ارے یارو—! یہ توبتائو کہ دولہے کے سنورنے میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی ؟‘‘ یہ کہہ کر اشفاق اللہ خاں نے اتنے زور سے قہقہہ لگایا کہ ان کے افسردہ اور غم میں ڈوبے دوستوں کو بھی مجبوراً ‘‘ ہنسنا پڑا۔ 19دسمبر1927ء کو معمول سے کچھ پہلے ہی وہ بیدار ہو گئے ۔غسل کیا‘ دُھلے ہوئے کپڑے پہنے، نماز اداکی اورتلاوت قرآن کے بعد جو دعا مانگی آج بھی وہ تمام محبان وطن کے لیے ایک مثال ہے۔ ہاتھ اُٹھاکر ربِّ جلیل سے کہا۔

’’اے خداوند کریم! میں تجھ سے اورکچھ نہیں مانگتا۔ اگرتومیرے آخری وقت کی دعا قبول کرلے تو میں یہ مانگتا ہوں کہ تو ہر ہندو اورمسلمان کو عقل دے کہ وہ آپسی جھگڑوں میں اپنا وقت برباد نہ کرکے دونوں مل جل کر ملک کو آزاد کرائیں اور خوشحال بنائیں۔‘‘ دعا کے بعد گلے میں قرآن لٹکائے ہوئے حاجیوں کی طرح وظیفہ پڑھتے بڑے حوصلے سے تختہ دار کی طرف چل پڑے۔ تختہ پر پہنچ کر قرآن کی چند آیتیں پڑھیں پھر پھانسی کے پھندے کو چومتے ہوئے کہا۔ ’’میرے ہاتھ کبھی انسانی خون سے رنگین نہیں ہوئے۔ جو الزام مجھ پر لگایا گیا وہ غلط ہے میراانصاف اب خدا کے یہاں ہوگا۔ گلے میں پھندے کو پھولوں کے ہار کی طرح ڈالنے کے بعد اُنہوں نے یہ اشعار پڑھے۔

 فنا ہے سب کے لیے ہم پہ کچھ نہیں موقوف

 بقا ہے ایک فقط ذات کبریا کے لیے

 تنگ آکر ہم بھی اُن کے ظلم سے بے داد سے

 چل دیے سوئے عدم زندانِ فیض آباد سے

 روایت کے مطابق آخری آرزو پوچھے جانے پر اشفاق اللہ خاں نے کہا تھا۔

 کچھ آرزو نہیں ہے ، ہے آرزو تو یہ ہے

 رکھ دے کوئی ذراسی  خاکِ وطن کفن میں

 اور پھر اللہ کا نام لیتے ہی رسّی کھینچی گئی جسم پھانسی کے پھندے میں جھول گیا۔ روح قفس عنصری سے آزاد ہوگئی۔ عظیم مجاہد آزادی سردار بھگت سنگھ نے اشفاق اللہ خاں کے بارے میں لکھا ہے کہ پھانسی کے بعد لکھنؤ اسٹیشن پر مال گاڑی کے ڈبّے میں اُن کی لاش دیکھنے کا موقع چند لوگوں کو ملا۔ پھانسی کے دس گھنٹے بعد بھی چہرے پر ویسی ہی رونق تھی ایسا لگتا تھا ابھی ابھی سوئے ہیں۔اُن کے رشتہ دارلاش کوشاہ جہاں پور لے گئے۔

 اشفاق اللہ خاں ایک درد مند شاعر بھی تھے اُنہوں نے اپنا قلمی نام حسرت ؔوارثی رکھا تھا۔اُن کی شاعری میں مادروطن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔غلامی کو لے کر دل میں دردکا احساس ہوتاہے۔ ذیل میں اُن کے چند اشعار قارئین کی نذر ہیں۔

 وہ گلشن جو کبھی آزاد تھا گزرے زمانے میں

 میں ہوں شاخِ شکستہ اب اُسی اُجڑے گلستاں کی

 نہیں تم سے شکایت ہم سفیر انِ چمن مجھ کو

 مری تقدیر ہی میں تھا قفس اور قید زنداں کی

 زمیں دشمن زماں دُشمن جو اپنے تھے پرائے ہیں

 سنوگے داستاں کیا تُم میرے حالِ پریشاں کی

 یہ جھگڑے اور بکھیڑے میٹ کر آپس میں مل جائو

 عبث تفریق  ہے تم میں یہ ہندو اور مسلماں کی

 سبھی سامانِ عشرت تھے، مزے سے اپنی کٹتی تھی

 وطن کے عشق نے ہم کو ہوا کھلوائی زنداں  کی

 آج یوم آزادی کے موقع پر اشفاق اللہ خاں کی دلدوز تحریر موجودہ وقت کے نوجوانوں کو تحریک دیتی ہے کہ وطن کے لیے ہماری ذمہ داریاں کیاہیں۔ ایسے سرفروش مجاہدین کو قربانیوں سے سبق لینے کی ضرورت ہے کیونکہ آج ہم اگر آزادی کی سانس لے رہے ہیں تو اس باغ کی آبپاری اشفاق اللہ خاں اوراُن جیسے محبانِ وطن کے خون سے ہوئی ہے!!

हमलोग: पीएम मोदी पर क्‍यों हमलावर हैं यशवंत सिन्‍हा?

 

Posted by: Bagewafa | اکتوبر 15, 2018

Ml-Arhsad-Madni-db-Unity-conference-Kathor-11-01-2018

Ml-Arhsad-Madni-db-Unity-conference-Kathor-11-01-2018

 

 

Gujrat Riots | Ek Aur Sach ka Khulasa | 3000 Troops Waited As Riots Going On | by Ram Puniyani

Posted by: Bagewafa | ستمبر 25, 2018

खामोशी…. गौहर रज़ा

 

खामोशी…. गौहर रज़ा

लो मैंने कलम को धो डाला

लो मेरी ज़बाँ पर ताला है

लो मैंने आँखें बंद कर लीं

लो परचम सारे बांध लिए

नारों को गले में घोंट दिया

एहसास के ताने बाने को

फिर मैंने हवाले दार किया

इस दिल की कसक को मान लिया

एक आखरी बोसा देना है

और अपने लरज़ते हाथों से

खंजर के हवाले करना है

लो मैंने कलम को धो डाला

लो मेरी ज़बाँ पर ताला है

इलज़ाम ये आयद था मुझ पर

हर लफ्ज़ मेरा एक नश्तर है

जो कुछ भी लिखा, जो कुछ भी कहा

वो देश विरोधी बातें थीं

और हुक्म किया था ये सादिर

तहज़ीब के इस गहवारे को

जो मेरी नज़र से देखेगा

वो एक मुलजि़म कहलायेगा

लो मैंने कलम को धो डाला

लो मेरी ज़बाँ पर ताला है

जो इश्क के नगमे गायेगा

जो प्यार की बानी बोलेगा

जो बात कहेगा गीतों में

जो आग बुझाने उट्ठेगा

जो हाथ झटक दे कातिल का

वो एक मुजरिम कहलायेगा

लो मैंने कलम को धो डाला

लो मेरी ज़बाँ पर ताला है

खामोश हूँ मैं सन्नाटा है

क्यों सहमे, सहमे लगते हो

हर एक ज़बाँ पर ताला है

क्यों सहमे, सहमे लगते हो

लो मैंने कलम को धो डाला

लो मेरी ज़बाँ पर ताला है

हाँ सन्नाटे की गूँज सुनो

हैं लफ्ज़ वही, अंदाज़ वही

हर ज़ालिम, जाबिर, हर कातिल

इस सन्नाटे की ज़द पर है

खामोशी को खामोश करो

यह बात तुम्हारे बस में नहीं

खामोशी तो खामोशी है

गर फैल गई तो फैल गई

प्रिटोरिया, 9.10.2016

(ज़ी न्यूज़ के मेरी कविता पर हमले के जवाब में)

ज़िंदगी की है शाम आख़िरी आख़िरी—-शकील बदायुनी

.

आख़िरी वक़्त है आख़िरी साँस है ज़िंदगी की है शाम आख़िरी आख़िरी

संग-दिल आ भी जा अब ख़ुदा के लिए लब पे है तेरा नाम आख़िरी आख़िरी

.

कुछ तो आसान होगा अदम का सफ़र उन से कहना तुम्हें ढूँढती है नज़र

नामा-बर तू ख़ुदारा न अब देर कर दे दे उन को पयाम आख़िरी आख़िरी

.

तौबा करता हूँ कल से पियूँगा नहीं मय-कशी के सहारे जियूँगा नहीं

मेरी तौबा से पहले मगर साक़िया सिर्फ़ दे एक जाम आख़िरी आख़िरी

.

मुझ को यारों ने नहला के कफ़ना दिया दो घड़ी भी न बीती कि दफ़ना दिया

कौन करता है ग़म टूटते ही ये दम कर दिया इंतिज़ाम आख़िरी आख़िरी

.

जीते-जी क़द्र मेरी किसी ने न की ज़िंदगी भी मिरी बेवफ़ा हो गई

दुनिया वालो मुबारक ये दुनिया तुम्हें कर चले हम सलाम आख़िरी आख़िरी

.

.

.زندگی ی شام آخری آخری۔۔۔۔شکیل بدایونی

 

.

آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری

سنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخری

.

کچھ تو آسان ہوگا عدم کا سفر ان سے کہنا تمہیں ڈھونڈھتی ہے نظر

نامہ بر تو خدارا نہ اب دیر کر دے دے ان کو پیام آخری آخری

.

توبہ کرتا ہوں کل سے پیوں گا نہیں مے کشی کے سہارے جیوں گا نہیں

میری توبہ سے پہلے مگر ساقیا صرف دے ایک جام آخری آخری

.

مجھ کو یاروں نے نہلا کے کفنا دیا دو گھڑی بھی نہ بیتی کہ دفنا دیا

کون کرتا ہے غم ٹوٹتے ہی یہ دم کر دیا انتظام آخری آخری

.

جیتے جی قدر میری کسی نے نہ کی زندگی بھی مری بے وفا ہو گئی

دنیا والو مبارک یہ دنیا تمہیں کر چلے ہم سلام آخری آخری

 

मुहर्रम को मनाने वाले……मुहम्मद फिरोज खान.محرم کو منانے والے ۔۔۔۔۔۔ محمد فروز خان

ڈهول تاشے سے محرم کو منانے والے

غم سے شہداء کی بڑی دهوم مچانے والے

ढोल ताशे से मुहर्रम को मनाने वाले

गम से शुहदा की बड़ी धूम मचाने वाले

تعزیہ اور سواری کے اٹهانے والے

باگھ اور شیر کو نچانے والے

ताज़िया और सवारी के उठाने वाले

बाघ और शेर को नचाने वाले

چاند جب ماہ محرم کا نظر آتا ہے

کیا تیرے جسم میں شیطان اتر آتا ہے

चाँद जब माहे मुहर्रम का नज़र आता है

क्या तेरे जिस्म में शैतान उतर आता है

غم جنهیں ہوتا ہے وہ ڈهول بجاتے ہیں کہیں

دوسروں کی طرح تہوار مناتے ہیں کہیں

गम जिन्हें होता हे वह ढोल बजाते हैं कहीं

दूसरो की तरह तहवार मनाते हैं कहीं

وہ خرافات کا بازار لگاتے ہیں کہیں

ڈهول باجے سے بهی میت کو اٹهاتے ہیں کہیں

वो खुराफात का बाजार लगाते हैं कहीं

ढोल बाजे से भी मय्यत को उठाते हैं कहीं

کیا شریعت میں تمهارے اسے غم کہتے ہیں

غم یہی ہے تو خوشی اور کسے کہتے ہیں

क्या शरीअत में तुम्हारी इसे गम कहते हैं

गम यही हे तो ख़ुशी और किसे कहते हैं

تعزیہ داری کو تیمور نے ایجاد کیا

لایا ایران سے اور ہند میں آباد کیا

ताज़िया दारी को तैमूर ने ईजाद किया

लाया ईरान से और हिन्द में आबाद किया

غم منانے کا عجب ڈهنگ یہ ایجار کیا

روح اسلام کو تیمور نے برباد کیا

गम मनाने का अजब ढंग ये ईजाद किया

रूह ए इस्लाम को तैमूर ने बर्बाद किया

فعل تیمور ہے یہ قول پیمبر تو نہیں

غم کا یہ رنگ شریعت کے برابر تو نہیں

फाल तैमूर हे यह कौल ए पयम्बर तो नहीं

गम का यह रंग शरीअत के बराबर तो नही

خوب ہے ابن علی سے یہ محبت تیری

ساری دنیا سے نرالی ہے عقیدت تیری

खूब हे इब्न ए अली से यह मुहब्बत तेरी

सारी दुन्या से निराली है अक़ीदत तेरी

تعزیہ اور سواری ہے عبادت تیری

عشق بازی کی محرم میں ہے عادت تیری

ताज़िया और सवारी हे इबादत तेरी

इश्क़ बाज़ी की मुहर्रम में हे आदत तेरी

غم تجهے ہے تو ذرا اتنا ہی کر کے بتلا

ڈهول تاشے سے ذرا باپ کی میت کو اٹها

गम तुझे है तो ज़रा इतना ही कर के बतला

ढोल ताशे से ज़रा बाप की मय्यत को उठा!

(Courtesy: Facebook)

تعلق نہیں رہا۔۔۔۔۔ تسلیم اِلاہی زلفی

(Courtesy: Facebook)

پیام کربلا۔۔۔۔۔۔۔۔قتیل شفائ

.

سبق سیکھا ہے میں نے کربلا کے مردِ میداں سے

لکھی جاتی ہے تاریخ امم خونِ شہیداں سے

.

حسینِ ابنِ علی نے موت کو بھی زندگی بخشی

کیا انسانیت کو سرخرو، نذرانۂ جاں سے

.

تلاطم کا جسے ڈر ہو نہ غم بادِ مخالف کا

حقیقت میں وہی کشتی اُلجھ سکتی ہے طوفاں سے

.

خدا کے دشمنوں کو برملا جس نے تھا للکارا

عقیدت کیوں نہ ہو مجھ کو بھلا اس شیرِ یزداں سے

.

منور کر دیا جس نے ضمیرِ آدمیت کو

ہوئی اس روشنی کی ابتدا شامِ غریباں سے

.

قتیلؔ اک روح خواں میں بھی ہوں آلِ شاہ بطحاؐ کا

محبت ہے مجھے دینِِ نبیؐ کے ہر نگہباں سے

पयामे कर्बला।—–क़तील शिफ़ाई

.

सबक़ सीखा है मैंने कर्बला के मर्द-ए-मैदाँ से

लिखी जाती है तारीख़ उममे खून-ए-शहीदाँ से

 

हुसैन-ए-इब्न-ए-अली ने मौत को भी ज़िंदगी बख़शी

क्या इन्सानियत को सुर्ख़रु, नज़राना-ए-जां से

.

तलातुम का जिसे डर हो ना ग़म बाद-ए-मुख़ालिफ़ का

हक़ीक़त में वही कश्ती उलझ सकती है तूफ़ाँ से

.

ख़ुदा के दुश्मनों को बरमला जिसने था ललकारा

अक़ीदत क्यों ना हो मुझको भला इस शेर-ए-यज़्दाँ से

.

मुनव्वर कर दिया जिसने ज़मीर-ए-आदमियत को

हुई इस रोशनी की इबतिदा शाम-ए-ग़रीबां से

.

क़तील एक रूह ख़वाँ में भी हूँ ऑल-ए-शाह बतहा का

मुहब्बत है मुझे दीन-ए-नबीऐ के हर निगहबां से

Posted by: Bagewafa | ستمبر 14, 2018

تو کجا من کجا۔۔.مظفر وارثی

تو کجا من کجا۔۔.مظفر وارثی

.

ذکر خدا کرے، زکرمصطفیٓ ﷺنہ کرے
میرے منہ میں ہو ایسی زباں، خدا نہ کرے

میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں
کہ میں نے اسم محمدﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت
۔۔۔
تو امیرِ حرم ، میں فقیرِ عجم
تیرے گُن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا ۔ تُو کُجا مَن کُجا

تو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل
تو یقیں میں گماں، میں سخن تو عمل
تو ہے معصومیت، میں نری معصیت
تو کرم میں خطا ۔ تو کجا من کجا

تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے
میں دُرودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبۂِ عشق تو، میں تیرے چار سُو
تو اثر میں دعا ۔ تو کجا من کجا

تو حقیقت ہے، میں صرف احساس ہوں
تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری رہگزر
سدرۃ المنتہٰی ۔ تو کجا من کجا

میرا ہر سانس تو خوں نچوڑے میرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے میرا
کاسۂِ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا ۔ تو کجا من کجا

ڈگمگاؤں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی میں تیرا امتی
تو جزا میں رضا ۔ تو کجا من کجا

میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تیری
مجھ کو تابِ سخن دے خموشی تیری
تو جلی میں خفی، تو اٹل میں نفی
تو صلہ میں گلہ ۔ تو کجا من کجا

دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے صدا ۔ تو کجا من کجا

https://youtu.be/ZQMn5wIoAno

Owais Raza Qadri

Arun Jetly.Prashant Bhushan,Yeshwant Sinha-Prashant Bhusban के इस खुलासे के बाद बच नहीं सकती भाजपा सरकार। Rafale Ghotale में BJP को झटका

وُہ شمع اجالا جسے نے کیا چالیس برس تک غاروں میں۔۔۔۔۔۔۔:مولانا ظفر علی خان

نعتِ رسولِ مقبول ” وُہ شمع اجالا جسے نے کیا چالیس برس تک غاروں میں”

کلام : شاعر:مولانا ظفر علی خان  (رح)

آواز : مہدی حسن مرحوم

وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

اِک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں

رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد گنبد پر

وحدت کی تجلّی کوند گئی آفاق کے سینا زاروں میں

گر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو

یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نوُر نہ ہو سیّاروں میں

وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے

ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں

جس میکدے کی ایک بوند سے بھی لب کج کلہوں کے تر نہ ہوئے

ہیں آج بھی ہم بے مایہ گدا اس میکدے کے سرشاروں میں

جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا

وہ راز اِک کملی والے نے بتلادیا چند اشاروں میں

ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی بوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ

ہم مرتبہ ہیں یارانؓ نبی کچھ فرق نہیں ان چاروںؓ میں

Mehdi Hasan reciter:

.فلک تک۔۔۔۔۔۔۔نسرین سید

Nasreen Syed·Thursday, September 6, 2018  Toronto,Canada

روشن ہے ، مرے حرف کی قندیل فلک تک

رہتی ہے ، دعاؤں کی جو، ترسیل فلک تک

۔

مہتاب کی کرنوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ سخن آئے نہا کر

دی جب بھی تخیل کو ۔۔۔۔۔ ذرا ڈھیل فلک تک

۔

دل میں وہ خموشی ہے، کہ ہو دشت کو وحشت

وہ شور ہے ۔۔۔۔۔۔ جس کی نہیں تمثیل فلک تک

۔

اک حبس تھا سینے میں، سو ہونا ہی تھا آزاد

اٹھا جو ۔۔۔۔۔۔۔۔ دھواں سا ، ہوا تحلیل فلک تک

۔

تیری ہی اطاعت میں ۔۔۔۔ زمیں سجدہ کناں ہے

ہوتی ہے ترے حکم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تعمیل فلک تک

,

کرتے ہیں جن و انس و پرند ، اس کی تلاوت

ہے قرآتِ قرآن کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترتیل فلک تک

۔

رکھتا ہے وہی تھام کے ۔۔۔ خیمے کی طنابیں

ہے دستِ زبر دست کی تحویل ۔۔۔۔۔۔۔ فلک تک

۔

بے وزن دلائل سے ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی بات بنی ہے؟

کیا کھینچ کے لے جاؤ گے تاویل فلک تک ؟

.

جب چاہوں ، کوئی رنج خزانے سے نکالوں

پھیلی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تری یاد کی زنبیل فلک تک

.

رکھی ہے سخن کی ابھی بنیاد ، زمیں پر

ہونی ہے ہنر کی ابھی تشکیل ، فلک تک

۔

نسرینؔ ، دعاؤں میں اثر یوں ہی نہیں ہے

پہنچی ہے ترے درد کی تفصیل فلک تک

.

۔

फ़लक तक—–नसरीन सैयद

.

रोशन है , मरे हर्फ़ की क़ंदील फ़लक तक

रहती है , दुआओं की जो, तरसील फ़लक तक

.

महताब की किरनों से ।।।।।।। सुख़न आए नहा कर

दी जब भी तख़य्युल को ।।।।। ज़रा ढील फ़लक तक

.

दिल में वो ख़मोशी है, कि हो दश्त को वहशत

वो शोर है ।।।।।। जिसकी नहीं तमसील फ़लक तक

.

इक हब्स था सीने में, सौ होना ही था आज़ाद

उठा जो ।।।।।।।। धुआँ सा , हुआ तहलील फ़लक तक

.

तेरी ही इताअत में ।।।। ज़मीं सजदा कुनां है

होती है तिरे हुक्म की ।।।।।।।। तामील फ़लक तक

.

करते हैं जिन-ओ-इनस-ओ-परिंद , उस की तिलावत

है किरात-ए-क़ुरआन की ।।।।।।।।।।।।।।।। तरतील फ़लक तक

.

रखता है वही थाम के ।।। खे़मे की तनाबें

है दस्त-ए-ज़बरदस्त की तहवील ।।।।।।। फ़लक तक

.

बे-वज़्न दलायल से ।।।।।।। कभी बात बनी है?

क्या खींच के ले जाओगे तावील फ़लक तक ?

.

जब चाहूँ , कोई रंज खज़ाने से निकालूं

फैली है।।।।।।।।।। तरी याद की ज़ंबील फ़लक तक

रखी है सुख़न की अभी बुनियाद , ज़मीं पर

होनी है हुनर की अभी तशकील , फ़लक तक

.

नसरीन , दुआओं में असर यूँही नहीं है

पहुंची है तिरे दर्द की तफ़सील फ़लक तक

Posted by: Bagewafa | ستمبر 3, 2018

نہیں نگاہ میں منزل۔۔۔۔فیض احمد فیض

نہیں نگاہ میں منزل۔۔۔۔فیض احمد فیض

Posted by: Bagewafa | ستمبر 2, 2018

WaliRahmani Salmmed Arnab Goswamy

WaliRahmani Salmmed Arnab Goswamy for caling Keralites shameless

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​….. علامہ اقبال

.

 متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی​ 

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

.​ 

 ​ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا​ 

یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی

.​ 

 ​حجاب اکسیر ہے آوارۂ کوئے محبت کو​ 

مری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

.​ 

 ​گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں​ 

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی

.​ 

 ​یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی​ 

سکھائے کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی

.​ 

 ​زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمت ہے لحد میری​ 

کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

.​ 

 ​مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو​ 

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی​ 

.

ہزج مثمن سالم

 مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن 

  

اشعار کی تقطیع

मताअ-ए-बे-बहा है दर्द-ओ-सोज़-ए-आरज़ू मंदी….. अल्लामा इक़बाल 

.

.

मताअ-ए-बे-बहा है दर्द-ओ-सोज़-ए-आरज़ू मंदी

मक़ाम-ए-बंदगी देकर ना लूं शान-ए-ख़ुदावंदी

.

तेरे आज़ाद बंदों की ना ये दुनिया , ना वो दुनिया

यहां मरने की पाबंदी , वहां जीने की पाबंदी

.

हिजाब अकसीर है आवारा-ए-कू-ए-मोहब्बत को

मेरी आतिश को भड़काती है तेरी देर-पैवंदी

.

गुज़र-औक़ात कर लेता है ये कोह-ओ-ब्याबां में

कि शाहीं के लिए ज़िल्लत है कार-ए-आशियाँ-बंदी

.

ये फैज़ान-ए-नज़र था या कि मकतब की करामत थी

सिखाय किस ने इस्माईल को आदाब-ए-फ़र्ज़ंदी

.

ज़यारत गाह-ए-अहल-ए-अज्म-ओर-हिम्मत है लहद मेरी

कि ख़ाक-ए-राह को मैंने बताया राज़-ए-अलवंदी

.

मेरी मुश्शातगी की क्या ज़रूरत हुस्न-ए-मअनी को

कि फ़ितरत ख़ुद बख़ुद करती है लाले की हिनाबंदी

..

Posted by: Bagewafa | اگست 26, 2018

Mataf Masjide Haram Makkah MUkarramah Haj 26 Aug.2018

Mataf Masjide Haram Makkah MUkarramah Haj 26 Aug.2018

Pl.Click to view

Posted by: Bagewafa | اگست 21, 2018

Eid Mubarak 22 Aug.2018…Bagewafa

हावलपुर की अंग्रेज अदालत में मौलाना हुसेन अहमद मदनी….कदीर जाकिर

 

“हुसैन अहमद मदनी जब देवबंद से चला था तो अपना कफ़न साथ लेकर चला था

 एक मर्द-ए-मुजाहिद,मर्द-ए-कलंदर भरी अदालत में खड़ा हुआ है।“

 उस मर्द-ए-मुजाहिद ने अपना ख़िताब शुरू किया और भरी अदालत में बुलंद आवाज़ से कहा-

अंग्रेज़ की फ़ौज में दाख़िल होना हराम है,हराम है,हराम है।

 मौलाना जौहर उस मर्द-ए-मुजाहिद के पैरों में गिर पड़े और गिरकर कहा हज़रत बयान बदल दो लेकिन उस मर्द-ए-मुजाहिद की ज़बान से जो लफ़्ज़ निकले वो कमान से निकले हुए तीर की तरह थे जो कभी भी वापस नही आ सकते थे।

जानते हो वो मर्द-ए-मुजाहिद,मर्द-ए-कलंदर कौन था?

वो मर्द-ए-मुजाहिद थे शैख़ उल अरब वल अज्म हज़रत मौलाना हुसैन अहमद मदनी नवारल्लाहु मर्क़दह।

 अंग्रेज़ अफ़सरान को मर्द-ए-मुजाहिद मौलाना हुसैन अहमद मदनी के ख़िताबी फ़तवे पर गुस्सा आ गया।

 अंग्रेज़ अफ़सर कहने लगा हुसैन अहमद तुझे मालूम है इस गुस्ताख़ी की सज़ा क्या है?

मौलाना मदनी ने जवाब दिया तू ख़ुद ही तय कर ले।

 अंग्रेज़ अफ़सर फ़िर बोला कि इस गुस्ताख़ी की सज़ा सिर्फ़ मौत है।

 मौलाना मदनी ने अपने कांधे पर रखी सफ़ेद चादर को हवा में लहराया और कहा-

हुसैन अहमद मदनी जब देवबंद से चला था तो अपना कफ़न साथ लेकर चला था,

ऐ ख़्वार अंग्रेज़ ज़ालिम हुसैन अहमद तेरी धमकियों से डरने वाला नही है।

 मैंने जो कहा था वो दोबारा कहता हूँ अंग्रेज़ तेरी फ़ौज में शामिल होना हराम है,हराम है,हराम है।

 सन 1954 में हुक़ूमत-ए-हिन्दोस्तान ने मौलाना मदनी को पद्म भूषण से सम्मानित किया।

 सन 2012 में हज़रत मौलाना की नाम पर भारतीय डाक सेवा द्वारा एक डाक टिकट जारी किया गया।

 हज़रत मदनी जामिया मिल्लिया इस्लामिया दिल्ली के फाउंडर मेम्बर में से एक थे।

 तेहरीक़ रेशमी रुमाल चलाने की सज़ा में वो अपने उस्ताद शैख़-उल-हिन्द हज़रत मौलाना महमूदुल हसन रह. के साथ माल्टा की जेल में रहे।

 उन्हें अपने उस्ताद के साथ असीर-ए-माल्टा का लक़ब भी मिला।

ये आज़ादी हमें यूँही ही नही मिली है,इस पर हज़रत शैख़ उल हिन्द,हज़रत शैख़ उल अरब वल अज्म,हज़रत हक़ीम-उल-उम्मत,हज़रत गंगोही,हज़रत नानौतवी,अल्लामा रहमतुल्लाह कैरानवी, अल्लामा शब्बीर अहमद उस्मानी,मुफ़्ती शफ़ी उस्मानी,मौलाना हिफ्ज़ुर्रहमान स्योहारवी, अल्लामा अनवर शाह कश्मीरी,अमीर-ए-शरीयत शाह अताउल्लाह शाह बुख़ारी,उबैदुल्लाह सिंधी,मौलाना मोहम्मद अली जौहर,मौलाना शौकत अली,मौलाना मज़हर अली अज़हर और तमाम बड़े बड़े मुफ़्ती,मौलाना,मशाइख़ की कुर्बानियां लगी है।

 आज कितने हमारे भाई, दोस्त ऐसे है जिन्हें अपने इन बुज़ुर्गो,वलियो के नाम तक नही मालूम है।

 आज़ादी के ज़श्न का मौक़ा आता है,हम भगत सिंह की बात करते है,हम गांधी की बात करते है,हम चंद्र शेखर आज़ाद की बात करते है,हम मंगल पांडेय की बात करते है लेकिन हम अपने उन नायाब हीरो को भूले पड़े है जिन्होंने हमे आज़ाद देखने के लिए,इस वतन को आज़ाद देखने के लिए अपनी और अपने साथ लाखो उलेमाओं की जान की कुर्बानियां पेश की थी।

 सबसे पहले अंग्रेज़ो के ख़िलाफ़ जिहाद का फ़तवा सन 1803 में शाह अब्दुल अजीज़ देहलवी व तमाम बड़े उलेमाओ ने दिया था।

 सन 1857 में हाजी इम्दादुल्लाह मुहाजिर मक़्क़ी की क़यादत में अंग्रेज़ो के ख़िलाफ़ एक जंग लड़ी गई जिसमें हज़ारो लाखो उलेमाओ ने बढ़ चढ़ कर हिस्सा लिया।

 आइये इस बार ज़श्न-ए-आज़ादी के मौके पर अपने उन असल आज़ादी के दीवानो को याद करें जिन्होंने हमे असल आज़ादी दिलाई है।

 सलाम पेश करिए,खिराज़-ए-अक़ीदत पेश करिए ऐसे तमाम परवानो को।

उलेमा-ए-हक़ ज़िंदाबाद जिंदाबाद

 नौमान चौधरी via Shadab Aalam Qureshi

Posted by: Bagewafa | اگست 21, 2018

National Dastak…..Facebook

RSS के प्रचार तंत्र पर नागपुर के किसान नेता ने नेशनल दस्तक से की बातचीत देखिए पूरी खबर

Posted by: Bagewafa | اگست 15, 2018

Top Muslims Freedom fighters of India

Posted by: Bagewafa | اگست 6, 2018

NDTV Hidden Camera Investigation: Justice Lynched? ..NDTV

NDTV Hidden Camera Investigation: Justice Lynched?

https://www.ndtv.com/video/embed-player/?site=classic&id=490919&autostart=false&autoplay=0&pWidth=420&pHeight=315&category=embed

https://www.ndtv.com/video/shows/reality-check/ndtv-hidden-camera-investigation-justice-lynched-490919

https://www.ndtv.com/video/embed-player/?site=classic&id=490919&autostart=false&autoplay=0&pWidth=420&pHeight=315&category=embed

स्वामी अग्निवेश जी का ये भाषण जो पचा नहीं पाए भक्त…

 

(Azeem Tandvi..Facebook)

BJP/RSS की इससे बेहतर धुलाई आपने नहीं देखी होगी। Dr. Gauhar Raza ने जमकर धोया #TheNewsRoom

 

 

شدت پسند—–گوہر رضا

 

مجھے یقین تھا کہ مذہبوں سے

کوئی بھی رشتہ نہیں ہے انکا

مجھے یقین تھا کہ انکا مذہب

ہے نفرتوں کی حدوں کے اندر

مجھے یقین تھا وہ لا مذہب ہیں،

یا انکے مذہب کا نام ہرگزسوائے شدت کے کچھ نہیں ہے،

مگر اے ہمدم

یقین تمہارا جو ڈگمگایا،

تو کتنے انسان جو ہم وطن تھے،

جو ہم سفر تھے،

جو ہم نشیں تھے،

وہ ٹھہرے دشمن

تلاش دشمن جو شرط ٹھہری

تو بھول بیٹھے،

کے مذہبوں سے

کوئی بھی رشتہ نہیں ہے انکا،

کہ جسکو طعنہ دیا تھا تم نے،

کے اسکے مذہب کی کوکھ  قاتل اگل رہی ہے،

وہ ماں کہ جس کا جواں بیٹا،

تمہارے وہم وگماں کی آندھی میں گم ہوا ہے،

تمہارے بدلے کہ آگ جسکو نگل گئی ہے،

وہ دیکھو اب تک بِلک رہی ہے،

وہ منتظر ہے

کوئی تو کاندھے پر ہاتھ رکھے

کہے کہ ہم نے بھی قاتلوں کی کہانیوں پر

یقین کیا تھا،

کہے کہ ہم نے گناہ کیا تھا،

کہے کہ ماں ہم کو معاف کر دو،

کہے کہ ماں ہم کو معاف کر دو۔

دہلی 15۔11۔2008

(مکہ مسجد کیس میں پکڑے گئے بیکسور نوجوانوں کے چھوٹنے پر)

 

 

 

शिद्दतपसंद—–गौहर रजा

.

मुझे यकीन था कि मज़हबों से

कोई भी रिश्ता नहीं है उनका

मुझे यकीन था कि उनका मज़हब

है नफरतों की हदों के अंदर

मुझे यकीन था वो ला-मज़हब हैं,

या उनके मज़हब का नाम हरगिज़

सिवाये शिद्दत1 के कुछ नहीं है,

मगर ऐ हमदम

यकीन तुम्हारा जो डगमगाया,

तो कितने इंसान जो हमवतन थे,

जो हमसफर थे,

जो हमनशीं थे,

वो ठहरे दुश्मन

तलाशे दुश्मन जो शर्त ठहरी

तो भूल बैठे,

के मज़हबों से

कोई भी रिश्ता नहीं है उनका,

कि जिसको ताना दिया था तुमने,

के उसके मज़हब की कोख कातिल उगल रही है,

वो माँ कि जिसका जवान बेटा,

तुम्हारे वहम-ओ-गुमाँ की आँधी में गुम हुआ है,

तुम्हारे बदले कि आग जिसको निगल गई है,

वो देखो अब तक बिलख रही है,

वो मुन्तजि़र है

कोई तो काँधे पर हाथ रखे

कहे कि हमने भी कातिलों की कहानियों पर

यकीन किया था,

कहे कि हमने गुनाह किया था,

कहे कि माँ हमको माफ कर दो,

कहे कि माँ हमको माफ कर दो।

दिल्ली 15.11.2008

(मक्का मस्जिद केस में पकड़े गए बेकुसूर नौजवानों के छूटने पर)

دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد…….کیفی اعظمیز

 ..

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد

داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد

.

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے

ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

.

ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ

ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

.

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ

قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد

.

اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

.

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

दो गज़ ज़मीं भी चाहिए दो गज़ कफ़न के बा’द—-कैफी आजमी

 

वो भी सराहने लगे अर्बाब-ए-फ़न के बा’द

दाद-ए-सुख़न मिली मुझे तर्क-ए-सुख़न के बा’द

.

दीवाना-वार चाँद से आगे निकल गए

ठहरा न दिल कहीं भी तिरी अंजुमन के बा’द

.

होंटों को सी के देखिए पछ्ताइएगा आप

हंगामे जाग उठते हैं अक्सर घुटन के बा’द

.

ग़ुर्बत की ठंडी छाँव में याद आई उस की धूप

क़द्र-ए-वतन हुई हमें तर्क-ए-वतन के बा’द

.

एलान-ए-हक़ में ख़तरा-ए-दार-ओ-रसन तो है

लेकिन सवाल ये है कि दार-ओ-रसन के बा’द

..

इंसाँ की ख़्वाहिशों की कोई इंतिहा नहीं

दो गज़ ज़मीं भी चाहिए दो गज़ कफ़न के बा’द

 

 

Kanhaiya Kumar’s Greatest Speech On Narendra Modi, Nationalism, Indian Army & RSS | Exclusive

 

 

 

यही वो स्पीच है जिसके कारण हिन्दू सन्यासी स्वामी अग्निवेश की पिटाई हुई ।

 

 

हम तुम्हें मरने न देंगे — गोपालदास "नीरज”

 

काव्य पाठ करते हुए नीरज

उपनाम:

‘नीरज’

जन्म:

04 जनवरी 1925

ग्राम पुरावली, जिला इटावा, उत्तर प्रदेश, भारत 

मृत्यु:

जुलाई 19, 2018

एम्स ,नई दिल्ली

कार्यक्षेत्र:

कवि सम्मेलन,

लगभग 50 वर्षों काव्य मंचों पर काव्य पाठ 

राष्ट्रीयता:

भारतीय

भाषा:

हिन्दी

काल:

बीसवीं शताब्दी

विधा:

गद्य, पद्य, गीत

विषय:

गीतकार, फ़िल्म

साहित्यिक

आन्दोलन:

काव्य मंचों पर साहित्यिक रचना की प्रस्तुति

प्रमुख कृति(याँ):

दर्द दिया है (पुरस्कृत), आसावरी (सचित्र),

मुक्तकी (सचित्र), लिख-लिख भेजत पाती (पत्र संकलन)

पन्त-कला, काव्य और दर्शन (आलोचना)

हम तुम्हें मरने न देंगे — गोपालदास "नीरज”

.

धूल कितने रंग बदले डोर और पतंग बदले

जब तलक जिंदा कलम है हम तुम्हें मरने न देंगे

.

खो दिया हमने तुम्हें तो पास अपने क्या रहेगा

कौन फिर बारूद से सन्देश चन्दन का कहेगा

मृत्यु तो नूतन जनम है हम तुम्हें मरने न देंगे।

.

तुम गए जब से न सोई एक पल गंगा तुम्हारी

बाग में निकली न फिर हस्ते गुलाबों की सवारी

हर किसी की आँख नम है हम तुम्हें मरने न देंगे

.

तुम बताते थे कि अमृत से बड़ा है हर पसीना

आँसुओं से ज्यादा कीमती है न कोई नगीना

याद हरदम वह कसम है हम तुम्हें मरने न देंगे

.

तुम नहीं थे व्यक्ति तुम आजादियों के कारवाँ थे

अमन के तुम रहनुमा थे प्यार के तुम पासवाँ थे

यह हकीकत है न भ्रम है हम तुम्हें मरने न देंगे

.

तुम लड़कपन के लड़कपन तुम जवानो की जवानी

सिर्फ दिल्ली ही न हर दिल था तुम्हारी राजधानी

प्यार वह अब भी न कम है हम तुम्हें मरने न देंगे

.

बोलते थे तुम न तुममें बोलता था देश सारा

बस नहीं इतिहास ही तुमने हवाओं को सवाँरा

.आज फिर धरती नरम है हम तुम्हें मरने न देंगे

अब तो मज़हब कोई ऐसा भी चलाया जाए—गोपालदास नीरज

 

अब तो मज़हब कोई ऐसा भी चलाया जाए

जिस में इंसान को इंसान बनाया जाए

.

जिस की ख़ुश्बू से महक जाए पड़ोसी का भी घर

फूल इस क़िस्म का हर सम्त खिलाया जाए

.

आग बहती है यहाँ गंगा में झेलम में भी

कोई बतलाए कहाँ जा के नहाया जाए

.

प्यार का ख़ून हुआ क्यूँ ये समझने के लिए

हर अँधेरे को उजाले में बुलाया जाए

.

मेरे दुख-दर्द का तुझ पर हो असर कुछ ऐसा

मैं रहूँ भूका तो तुझ से भी न खाया जाए

.

जिस्म दो हो के भी दिल एक हों अपने ऐसे

मेरा आँसू तेरी पलकों से उठाया जाए

.

गीत उन्मन है ग़ज़ल चुप है रुबाई है दुखी

ऐसे माहौल में ‘नीरज’ को बुलाया जाए

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے۔۔۔۔۔۔ گوپال داس نیرج

 

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے

جس میں انسان کو انسان بنایا جائے

.

جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر

پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے

.

آگ بہتی ہے یہاں گنگا میں جھیلم میں بھی

کوئی بتلائے کہاں جا کے نہایا جائے

.

پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کے لیے

ہر اندھیرے کو اجالے میں بلایا جائے

.

میرے دکھ درد کا تجھ پر ہو اثر کچھ ایسا

میں رہوں بھوکا تو تجھ سے بھی نہ کھایا جائے

.

جسم دو ہو کے بھی دل ایک ہوں اپنے ایسے

میرا آنسو تیری پلکوں سے اٹھایا جائے

.

گیت انمن ہے غزل چپ ہے رباعی ہے دکھی

ایسے ماحول میں نیرجؔ کو بلایا جائے

Posted by: Bagewafa | جولائی 19, 2018

Speeches of Barister Asaduddin Owaisy in Parliament of India:

Speeches of Barister Asaduddin Owaisy in Parliament of India:

 

 

Sanjay Singh Firing Speech After Inauguration of Foot Bridge in Delhi

 

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی۔۔۔۔۔پروین شاکر

 

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

سب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگا

عشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگا

میرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!

آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے

ایک اندیشۂ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگ امید کھلے گا کہ بکھر جائے گا

وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

خواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا

 

 

आज की शब तो किसी तौर गुज़र जाएगी…..परवीन शाकिर

आज की शब तो किसी तौर गुज़र जाएगी

रात गहरी है मगर चाँद चमकता है अभी

मेरे माथे पे तिरा प्यार दमकता है अभी

मेरी साँसों में तिरा लम्स महकता है अभी

मेरे सीने में तिरा नाम धड़कता है अभी

ज़ीस्त करने को मिरे पास बहुत कुछ है अभी

तेरी आवाज़ का जादू है अभी मेरे लिए

तेरे मल्बूस की ख़ुश्बू है अभी मेरे लिए

तेरी बाँहें तिरा पहलू है अभी मेरे लिए

सब से बढ़ कर मिरी जाँ तू है अभी मेरे लिए

ज़ीस्त करने को मिरे पास बहुत कुछ है अभी

आज की शब तो किसी तौर गुज़र जाएगी!

आज के ब’अद मगर रंग-ए-वफ़ा क्या होगा

इश्क़ हैराँ है सर-ए-शहर-ए-सबा क्या होगा

मेरे क़ातिल तिरा अंदाज़-ए-जफ़ा क्या होगा!

आज की शब तो बहुत कुछ है मगर कल के लिए

एक अंदेशा-ए-बेनाम है और कुछ भी नहीं

देखना ये है कि कल तुझ से मुलाक़ात के ब’अद

रंग-ए-उम्मीद खिलेगा कि बिखर जाएगा

वक़्त पर्वाज़ करेगा कि ठहर जाएगा

जीत हो जाएगी या खेल बिगड़ जाएगा

ख़्वाब का शहर रहेगा कि उजड़ जाएगा

अनकहा इतिहास : अंग्रेजों की सबसे पहली लड़ाई उलेमा-ए-किराम के साथ

By Pradesh Hindi August 16, 2016

यह लेख जंगे आजादी का आगाज और मुसलमान उलेमा-ए-किराम का अहम किरदार की दूसरी कड़ी है।

सोलहवीं शताब्दी के खत्म होते होते अंग्रेजी सौदागर हिन्दुस्तान में पहुंच चुके थे। 31 दिसम्बर 1600 में क्वीन एलिजाबेथ की इजाजत से 100 सौदागरों ने 30000 पाउंड की रकम लगाकर East India Company की शुरुआत किया। पश्चिम बंगाल को कंपनी ने अपना हेडक्वॉर्टर बनाया और 150 साल तक अपनी सारी तवज्जो व्यवसाय में लगाया।

लेकिन जब औरंगजेब और मोहम्मद आजम शाह के बाद मुग़ल सल्तनत की बुनियाद कमजोर पड़ गई तो कंपनी ने अपना मुखौटा उतार फेंका और हुकूमत के निजाम में दखल अंदाजी शुरू कर दी।

 1757 में नवाब सिराजुद्दौला के खिलाफ पलासी की जंग में अंग्रेज़ी सेना खुल्लमखुल्ला मैदान में उतर आए और गद्दार मिर्जाफर की मदद से नवाब सिराजुद्दौला पराजित किया और पूरे बंगाल पर अंग्रेजों ने कब्जा कर लिया। फिर 1764 में अंग्रेजों के खिलाफ नवाब शुजाउद्दौला को बक्सर में पराजय मिली और बिहार व बंगाल अंग्रेज के चपेट में चली गई। 1792 में टीपू सुल्तान के शहादत के बाद अंग्रेजों ने मैसूर पर कब्जा कर लिया। 1849 में पंजाब भी कंपनी के कब्जे में आ गया। इसतरह सिंध, आसाम, बर्मा, औध, रोहैलखन्ड, दक्षिणी भाग, अलीगढ़, उत्तरी भाग, मद्रास, पांडिचेरी, वगैरह अंग्रेजों के चपेट में आ गया और फिर वह वक्त भी आ गया जब दिल्ली पर भी कंपनी की हुकूमत कायम हो गई और मुग़ल बादशाह का सिर्फ़ नाम रह गया। इन इलाकों पर कब्जा जमाने के लिए अंग्रेजों ने क्या क्या तरकीबें अपनाया एनी बेसंत की जबानी सुनिए

"कंपनी वालों की लड़ाई सिपाहियों की लड़ाई न थी बल्कि सौदागरों की लड़ाई थी। हिन्दुस्तान को इंग्लिस्तान ने अपने तलवार से फतेह न किया बल्कि खुद हिन्दुस्तानियों के तलवार से और रिश्वतखोरी व साजिश, पाखंडता और दोरुखी पालिसी पर अमल कर के एक दूसरे से लड़ाकर उसने यह मुल्क हासिल किया है। "

(हिन्दुस्तान की कोशिश आजादी के लिए : 56)

मुल्क में ईस्ट इंडिया कंपनी के फैलती हुई जाल और बढ़ती हुई प्रभाव को सबसे पहले अगर किसी ने महसूस किया तो वह हजरत मौलाना शाह वलियूल्लाह देहलवी थें जिन्होंने देश के नागरिकों के मौलिक अधिकारों को छीनने वाली हुकूमत को दरहम बरहम करने का खुफिया मिशन तैयार किया। उनके बनाए हुए मिशन के मुताबिक उनके बड़े बेटे मौलाना शाह अब्दुल अजीज देहलवी ने अंग्रेजी हुकूमत के खिलाफ बगावत का मुनज्जम आगाज किया और अंग्रेजों के खिलाफ जिहाद फर्ज़ होने का फतवा जारी किया। यह फतवा मुल्क के कोने-कोने में जंगल के आग की तरह फैल गया।

1818 में जनता के तैयार करने के लिए मौलाना सैयद अहमद शहीद, मौलाना इस्माइल देहलवी, और मौलाना अब्दुल हई बुढानवी के परामर्श में एक दल गठित किया गया जिसने देश के विभिन्न क्षेत्रों में पहुंचकर लोगों को धार्मिक और राजनीतिक तौर पर जागरूक की, फिर अंग्रेजों से जिहाद के लिए 1820 / में मौलाना सैयद अहमद शहीद राय बरेलवी के नेतृत्व में मुजाहिदीन को रवाना किया गया, उन्होंने युद्ध की विशेषताओं के आधार पर जिहाद का केंद्र सूबा सरहद को बनाया, उद्देश्य अंग्रेजों से जिहाद था लेकिन पंजाब के राजा अंग्रेजों के वफादार थे, जिहाद के विरोधी थे और उसे विफल करने के उपाय कर रहे थे इसलिए पहले हजरत सैयद अहमद शहीद ने उन्हें संदेश भेजा कि "तुम हमारा साथ दो, दुश्मन (अंग्रेजों) के खिलाफ युद्ध करके हम देश तुम्हारे हवाले कर देंगे, हम देश व माल के तलबगार नहीं”। लेकिन राजा ने अंग्रेज की वफादारी न छोड़ें तो उससे भी जिहाद किया गया। 1831 / में बालाकोट के क्षेत्र में हज़रत मौलाना सैयद अहमद राय बरेलवी ने जाम शहादत को नोश किया, मगर उनके अनुयायियों ने हिम्मत नहीं हारी बल्कि देश के विभिन्न पक्षों में अंग्रेज के खिलाफ गुरिल्ला युद्ध जारी रखा। 1857 /के युद्ध के लिए सैयद साहब के अनुयायियों ने फिजा प्रशस्त करने और फौज तैयार करने में महत्वपूर्ण भूमिका निभाई।

1857 / के स्वतंत्रता संग्राम में उलेमा-ए-किराम ने बाकायदा युद्ध में भाग लिया, यह उलेमा-ए-किराम हज़रत शाह वलीउल्लाह मुहद्दिस देहलवी, हजरत शाह अब्दुल अज़ीज़ मुहद्दिस देहलवी और हज़रत सैयद अहमद शहीद के स्वर्ण चेन के स्वर्ण कड़ी थे। इस युद्ध के लिए उलेमा-ए-किराम ने जनता को जिहाद के लिए प्रोत्साहन दिलाने के लिए देश के विभिन्न क्षेत्रों में वाज और भाषण का बाजार गर्म कर दिया और जिहाद पर उभारने का कर्तव्य अंजाम दिया तथा एक सर्वसम्मत फतवा जारी करके अंग्रेजों से जिहाद को फर्जे ऐन ठहराया । इस फतवे ने जलते पर तेल का काम किया और पूरे देश में स्वतंत्रता की आग भड़क उठी, अकाबिर उलेमा देवबंद ने शामली के क्षेत्र में युद्ध में खुद भाग लिया। हज़रत मौलाना कासिम नानोतवी हज़रत मौलाना रशीद अहमद गंगोही और हाफिज जामिन शहीद ने हज़रत  हाजी इमदाद उल्लाह मुहाजीर मक्की के हाथ पर बैअत जिहाद की , फिर तैयारी शुरू कर दी गई, हज़रत हाजी साहब को इमाम बनाया गया, मौलाना मुनीर नानोतवी को सेना के दायें हाथ का और हाफिज जामिन थानवी को बायें बाजु का अधिकारी नियुक्त किया गया। मुजाहिदीन ने पहला हमला शेर अली सड़क पर अंग्रेजी सेना पर किया और माल व असबाब लूट लिया, दूसरा हमला 14 / सितंबर 1857 / को शामली (जानिए शामली युद्ध के अनकहे सच) में किया और जीत हासिल की, जब खबर आई कि तोब खाना सहारनपुर से शामली को भेजा गया है तो हज़रत हाजी साहब ने मौलाना गंगोही को चालीस पचास मुजाहिदीन के साथ कर दिया, सड़क बगीचे के किनारे से गुज़रती थी, मुजाहिदीन बगीचे में छिपे थे जब पलटन वहाँ से गुज़री तो मुजाहिदीन ने एक साथ फायर कर दिया, पलटन घबरागई और तोपखाना छोड़कर भाग गई। इसी अभियान में हाफिज जामिन थानवी साहब  शहीद हुए, सैयद हसन अस्करी साहब को सहारनपुर लाकर अंग्रेजों ने गोली मार दी। मौलाना रशीद अहमद साहब गंगोही मुजफ्फरनगर जेल में डाल दिए गए और मौलाना मुहम्मद कासिम साहब नानूतवी आगामी रणनीति तय करने के लिए अंडरग्राउंड चले गए।

Posted by: Bagewafa | جولائی 11, 2018

زخم۔۔۔۔۔۔گوہر رضا

زخم۔۔۔۔۔۔گوہر رضا

جسم پر زخم ہیں

آنکھوں میں لہو اُترا ہے

 آج تو روح بھی لرزاں ہے میری

ذہن پتھر کی طرح

سخت و بے جان سا، مفلوج سا،

بے حس، بیکار

اس میں چیخوں کے سِوا

کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں

مجھ سے مت پوچھو میرا نام تو بہتر ہوگا

میں وہی ہوں کہ جسے

ساری بدمست بہاروں کو پرکھنا تھا ابھی

میں وہی ہوں کہ جسے

پھول سا کھلنا، مہکنا تھا ابھی

جھومتے گاتے ہوئے جھرنوں کی دھن کو سن کر

میرے پیروں کو تھرکنا تھا ابھی

درسگاہوں کی کُھلی باہوں میں جانا تھا مجھے

اور ایک شولے کی مانند دھدھکنا تھا ابھی

میں وہی ہوں جسے مندر کی حدوں کے اندر

تم نے جوتوں کے تلے روند دیا

میں وہی ہوں کہ جسے

سارے بھگوان کھڑے

چپ کی تصویر بنے

تکتے رہے، تکتے رہے، تکتے رہے

اور میرے جسم کا ہر قطرہِ خوں

تھپکیاں دے کے سُلانے کا جتن کرتا رہا

مجھ کو سمجھاتا رہا

اور کچھ در سِتم سہ لے میری ننھی پری

موت کے پار ہر ایک ظلم سمٹ جائے گا

تب کوئی ہاتھ تجھے چھو بھی نہیں پائے گا

میں وہی ہوں جو درندوں کے گھنے جنگل میں

بین کرتی رہی اِنصاف کے دروازے پر

مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ تمھیں

باپ کا سایا بھی سر پر میرے منظور نہیں

جسم پر زخم ہیں، گہرے ہیں،

بہت گہرے ہیں

مجھسے مت پوچھومیرا نام تو بہتر ہو گا

مادرِ ہند ہوں میں

وہ جو خاموش ہیں شامل ہیں زِنا میں میری

ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم ۔۔۔۔۔حبیب جالب

.

ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم

کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

.

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا

جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

.

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں

کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

.

ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں

بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم

.

.

.

हुजूम देख के रस्ता नहीं बदलते हम…हबीब जालिब

ہ.

हुजूम देख के रस्ता नहीं बदलते हम

किसी के डर से तक़ाज़ा नहीं बदलते हम

.

हज़ार ज़ेर-ए-क़दम रास्ता हो ख़ारों का

जो चल पड़ें तो इरादा नहीं बदलते हम

.

इसी लिए तो नहीं मो’तबर ज़माने में

कि रंग-ए-सूरत-ए-दुनिया नहीं बदलते हम

.

हवा को देख के ‘जालिब’ मिसाल-ए-हम-अस्राँ

बजा ये ज़ोम हमारा नहीं बदलते हम

SOHRABUDDIN ENCOUNTER–Shams

SOHRABUDDIN ENCOUNTER जिसने AMIT SHAH को पहुंचाया जेल..पूरी कहानी शम्स की ज़ुबानी | Crime Tak

मेरे वजूद का वाहेमा– मुहम्मदअली वफा میرے وجود کا واہمہ۔۔۔۔۔محمدعلی وفا

Older Posts »

زمرے