पालकी दर्द की लिये कहार से गुजरे…..मुहमदअली वफा

हालते जुनुं में जब बाजार से  गुजरे

पालकी  दर्द की लिये कहार से गुजरे

दामन तर न हुआ कोई भी खूश्बू  से

बरसों बरस हम इस बहार से गुजरे

दामन बच गया ये हमारी किस्मत थी

चमनमें जब गुजरे शजरे खार से  गुजरे

कीसी  बेगुनह को ही लटकते देखा

जब भी हम कोई दार से गुजरे

जिंदगी अजीब कशमकश  में रही ‘वफा’

गमे जानां की  कई  दरार से  गुजरे

پالکی درد کی لئے کہار سے گزرے۔۔۔۔۔محمد علی وفا

.

حالت جنوں میں جب بازار سے گزرے

پالکی درد کی لئےکہار سے گزرے

دامن تر نہ ہوا کوئی بھی خوشبو سے

کئ بار ہم تو  اس بہار سے گزرے

دامن بچ گیا یہ ہی ہماری قسمت تھی

چمن میں گزرے شجرے خار سے گزرے

کسی بیگناہ کو ہی لٹکتے دیکھا ہمنے

جب بھی  ہم کوئی دار سے گزرے

زندگی عجیب کشمکش میں رہی ‘وفا’

غمے جاناں کی کئی درار سے گزرے

 

 

ہمارا خون امانت ہے۔۔۔۔۔ساحر لدھیانوی 

 :

ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لیے

ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیںگے کبھی

کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے

تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں

جنوں کی ڈھال ہوئی ایٹمی بلاؤں سے

زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں

گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار

عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں

گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار

عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں

اسی خوف نے ساحر کو خواب بننے کے لیے مہمیز کیا:

آؤ کہ کوئی خواب بنیں، کل کے واسطے

ورنہ یہ رات، آج کے سنگین دور کی

ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل

تاعمر پھر نہ کوئی حسیں خواب بن سکیں

 

हमारा ख़ून अमानत है—-साहिर लुधियानवी

:

हमारा ख़ून अमानत है नस्ल-ए-नौ के लिए

हमारे ख़ून पे लश्कर ना पल सकेंगे कभी

कहो कि आज भी हम सब अगर खामोश रहे

तो इस दमकते हुए ख़ाक-दाँ की ख़ैर नहीं

जुनूँ की ढाल हुई ऐटमी बलाओं से

ज़मीं की ख़ैर नहीं, आसमां की ख़ैर नहीं

गुजिश्ता जंग में घर ही जले मगर इस बार

अजब नहीं कि ये तन्हाइयाँ भी जल जाएं

गुजिश्ता जंग में पैकर जले मगर इस बार

अजब नहीं कि ये परछाईयां भी जल जाएं

इसी ख़ौफ़ ने साहिर को ख्वाब बनने के लिए मेहमिज़ किया:

आओ कि कोई ख़ाब बुनें, कल के वास्ते

वर्ना ये रात, आज के संगीन दौर की

डस लेगी जान-ओ-दिल को कुछ ऐसे कि जान-ओ-दिल

ता उम्र फिर ना कोई हसीं ख्वाब बन सकें

 

Posted by: Bagewafa | اگست 16, 2017

Ravish kumar in Gujarat

हिंदुस्तानमें दो दो हिंदुस्तान दिखाई देते हैं—–गुलझार

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رح۔

 

 انگریزی جج سے کہنے لگے مجھے پتہ ہے سزا موت ہوگی اسی لئے دیوبند سے کفن ساتھ لیکر آیا ہوں

 ایک مرتبہ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ پر غداری کا مقدمہ چلا اور فرنگی کی عدالت)جناح( ہال کراچی میں ان کی پیشی ہوئی، مولانا محمد علی جوہر اور بہت سارے دوسرے اکابرین بھی وہاں جمع تھے، فرنگی نے بلایا اور کہا کہ حسین احمد! یہ جو تم نے فتویٰ دیا ہے کہ انگریز کی فوج میں شامل ہونا حرام ہے،اس کی اجازت نہیں، تمہیں پتہ ہے کہ اسکا نتیجہ کیا ہو گا؟ حضرت نے فرمایا کہ ہاں مجھے پتہ ہے اس کا نتیجہ کیا ہے،

 اس نے پوچھا کہ کیا نتیجہ ہے؟

 حضرت کے کندھے پر ایک سفید چادر تھی، حضرت نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ اس کا نتیجہ ہے،

 فرنگی نے کہا کہ کیا مطلب؟

 فرمایا کہ کفن ہے، میں اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں تاکہ تم اگر مجھے پھانسی بھی دے دو گے تو کفن میرے پاس ہوگا،

 مولانا محمد علی جوہر نے حضرت کے پاؤں پکڑ لیے اور عرض کیا کہ حضرت! تھوڑا سا ذومعنی سا جواب دے دیں جس سے آپ بچ جائیں، کیونکہ ہمیں آپکی بڑی ضرورت ہے، آپ ہمارے سر کا تاج ہیں، آپ جیسے اکابر ہمیں پھر نہیں ملیں گے مگر حضرت مدنیؒ کی اس وقت عجیب شان تھی۔

 سبحان اللہ

 فرنگی کہنے لگا: حسین احمد! تمہیں کفن لانے کی کیا ضرورت تھی؟

 جس کو حکومت پھانسی دے اس کو کفن بھی حکومت دیتی ہے،

 حضرت مدنیؒ نے فرمایا: اگر چہ کفن حکومت دیتی ہے، لیکن میں اپنا کفن اس لیے لایا ہوں کہ فرنگی کے دیے ہوئے کفن میں مجھے اللہ کے حضور جاتے ہوئے شرم آتی ہے، میں قبر میں تمہارا کفن بھی لے کر جانا نہیں چاہتا

शैखुल इस्लाम मौलाना हुसेन अहमद मदनी (रह)

 

अंग्रेज़ी जज से कहने लगे मुझे पता है सज़ा मौत होगी इसी लिए देवबंद से कफ़न साथ लेकर आया हूँ

 एक मर्तबा हज़रत मौलाना हुसैन अहमद मदनीऒ पर ग़द्दारी का मुक़द्दमा चला और फ़रंगी की अदालत)जिनाह( हाल कराची में उनकी पेशी हुई, मौलाना मुहम्मद अली जोहर और बहुत सारे दूसरे अकाबिरीन भी वहां जमा थे, फिरंगी ने बुलाया और कहा कि हुसैन अहमद! ये जो तुमने फ़तवा दिया है कि अंग्रेज़ की फ़ौज में शामिल होना हराम है,इस की इजाज़त नहीं, तुम्हें पता है कि उसका नतीजा क्या होगा? हज़रत ने फ़रमाया कि हाँ मुझे पता है इस का नतीजा किया है,

उसने पूछा कि क्या नतीजा है?

हज़रत के कंधे पर एक सफ़ैद चादर थी, हज़रत ने इस की तरफ़ इशारा करके फ़रमाया कि ये उस का नतीजा है,

फ़रंगी ने कहा कि क्या मतलब?

फ़रमाया कि कफ़न है, में अपने साथ लेकर आया हूँ ताकि तुम अगर मुझे फांसी भी दे दोगे तो कफ़न मेरे पास होगा,

मौलाना मुहम्मद अली जोहर ने हज़रत के पांव पकड़ लिए और अर्ज़ किया कि हज़रत! थोड़ा सा ज़ूमानी सा जवाब दे दें जिससे आप बच जाएं, क्योंकि हमें आपकी बड़ी ज़रूरत है, आप हमारे सर का ताज हैं, आप जैसे अकाबिर हमें फिर नहीं मिलेंगे मगर हज़रत मदनीऒ की इस वक़्त अजीब शान थी।

 सुब्हान-अल्लाह

फ़रंगी कहने लगा: हुसैन अहमद! तुम्हें कफ़न लाने की क्या ज़रूरत थी?

जिसको हुकूमत फांसी दे उस को कफ़न भी हुकूमत देती है,

हज़रत मदनीऒ ने फ़रमाया: अगरचे कफ़न हुकूमत देती है, लेकिन में अपना कफ़न इसलिए लाया हूँ कि फिरंगी के दिए हुए कफ़न में मुझे अल्लाह के हुज़ूर जाते हुए शरम आती है, मैं क़ब्र में तुम्हारा कफ़न भी लेकर जाना नहीं चाहता

 

(Courtesy:Shabbir Mitchla)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

وہ قتل بھی کرتیں ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔اکبر اِلہ ابادی

चर्चा नहीं होता—अकबर ईलाहाबादी

.

गमझह नहीं होता के इशारा नहीं होता

आंख उनसे जो मिलती हैतो क्या क्या नहीं होता

.

जलवाह न हो मानीका तो सुरत का असर क्या

बुल बुल गुले तस्वीरका शेअदा नहीं होता

.

अल्लाह बचाए मरज़े ईश्क़ से दिलको

सुनते हैं कि ये आरज़ा अच्छा नहीं होता

.

तशबीह तेरे चहेरेको क्या दुं गुले तरसे

होता है शगुफ्ता मगर इतना नहीं होता

.

में नज़अ में हुं आएं तो एहसान है उनका

लेकिन ये समज़ ले के तमाशा नहीं होता

.

हम आह भी करतें हैं तो हो ज़ाते हैं बदनाम

वओ क़त्ल भी करतें झै तो चर्चा नहीं होता

دیکھتا رہا۔۔۔۔ محمد علی وفا

.

نفرت کدے کے بام کو دیکھتا رہا

زہر  بھرے یہ جام کو دیکھتا رہا

 .

دن بھی گزارا ہے  تیری ظلمتیں لئے

میں الجھنوں کی شام کو دیکھتا رہا۔

 .

جب بھی ذکرہوا ٹوٹے ہوئے دل کا

ایک تیرے ہی نام کو دیکھتا رہا

 .

خریدے کہاں سے یہ غریب دل

تیرے لگائے دام کو دیکھتا رہا

.

دسرونکی طرف وفا کبھی نظریں نہیں اٹھی

میں اپنے ہی کام کو دیکھتا رہا

 

देखता रहा….मुहम्मदअली वफा

.

नफरत कदेके बाम को देखता रहा

जहर भरे ये जामको देखता रहा

.

दिनभी  गुजारा   है तेरी जुलमतें लिये

में उलझनोंकी शामको देखता रहा

.

जब भी  जिकरा हुआ तूटे हुए दिलका

 तेरे ही एक नामको देखता रहा

.

खरीदे कहांसे  ये गरीब दिल

तेरे लगाये दाम को देखता रहा

.

गेरोंकी तरफ वफा कभी नजरें नहीं उठी

में अपनेही बस कामको  देखता रहा

 

Posted by: Bagewafa | جولائی 26, 2017

محبت کرنے والے۔۔۔۔۔حفیظ ہوشیارپوری

محبت کرنے والے۔۔۔۔۔حفیظ ہوشیارپوری

 

امام بخاریؒ چند امتیازی خصوصیات  ….مفتی محمد مجیب الرحمن دیودرگی

         

   .

 

دینی مدارس سے ہر سال لاکھوں فضلا فارغ التحصیل ہوتے ہیں، ان تمام طلبہٴ کرام نے آخری سال امام بخاریانکی صحیح بخاری شریف پڑھی، احادیث مبارکہ کے ورد کے ساتھ، سند پر، متن پر کلام کو سماعت فرمایا، ہزاروں دفعہ امام بخاریکا تذکرہ آیا، ان کے اقوال، ان کے ابواب پر بحث ومباحثہ کو سنا، مناسب محسوس ہوا کہ امام بخاریکی کچھ خصوصیات کا تذکرہ کیا جائے، تاکہ فارغین مدارس ان کے ان قابل تقلید پہلووٴں کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔جس کتاب کو ہم نے سال بھر پڑھا، اس سے مستقل لگاوٴ رکھا، اس کتاب کے مصنفکی زندگی بھی ہمارے سامنے رہے ، تاکہ خارجی زندگی میں انہیں اپنائیں، اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔

 

حرام مال سے پرہیز

امام بخاری (متوفی 256ھ)کے زمانے میں احادیث مبارکہ کی سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں، کئی مصنفین ومحدثین کا اس زمانے میں دور دورہ تھا، ایک ایک محدث کے سینکڑوں شاگرد ہوا کرتے تھے، ان سب کے باوجود جو قبولیت اللہ تعالیٰ نے امام بخاریاور ان کی کتاب کو نصیب فرمائی وہ دوسروں کے حصے میں نہیں آئی، اس کے اسباب ووجوہات پر نظر کرتے ہوئے علماء نے ارشاد فرمایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے والد بزرگوار نے اپنے بچے کے لیے حلال اور پاکیزہ غذا کا اہتمام کیا تھا او رحرام اور مشتبہ مال سے اپنے اہل وعیال کی حفاظت فرمائی تھی، جس حلال کی برکت اتنے بڑے علمی کارنامے کے ذریعہ ظاہر ہوئی، بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ (قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب) کا درجہ حاصل ہوا ہے، انسان کے اس کارنامے کو یہ درجہ حاصل ہونا کوئی معمولی بات نہیں، علماء نے ارشاد فرمایا کہ اس درجے کے حاصل ہونے میں ان کے والد کا کھانے کے سلسلہ میں کمال احتیاط کو بڑا دخل ہے، جب کہ ان کے والدنے انتقال کے موقعہ پر اپنے کثیر مال کے تعلق سے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لاأعلم من مالي درہما من حرام، ولا درہما من شبہة“(فتح الباری1/479) میرے مال میں کوئی درہم حرام تو درکنار شبہ کا بھی نہیں ہے، اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک اپنی آمدنی کے ذرائع پر نظر رکھے، پاکیزہ اور طیب کی تلاش میں رہے اور حرام وناپاک مال سے اجتناب کرے۔

 

غیبت سے اجتناب

حدیث مبارک میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کی جو تعریف کی ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ وزبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(مشکوة،ص:12) اس لحاظ سے دوسرے مسلمان کو ہاتھ سے اذیت پہنچانا تو دشوار ہے، لیکن زبان سے اذیت دی جاسکتی ہے اور اس سے بچنا نہایت دشوار کُن مرحلہ ہے، اس میں بھی غیبت سے بچنا بہت ہی مشکل ہے، نیز ایسے موقع پر جب کہ مخالفین کی جانب سے زبان وقلم کے نشتر چلائے جارہے ہوں اور مخالفین نیچا دکھانے کے لیے ہر جانب سے کوشاں ومساعی ہوں، اس کے باوجودحق پر زبان کی استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ آنا یہ امام بخاریکی کرامت سے بڑھ کر ہے، امام بخارینے فرمایا: ”ما ا غتبت أحدا منذ علمت أن الغیبة حرام، وفي روایة: لأرجو أں ألقی اللہ ولا یحاسبني أني اغتبت أحدا“ (فتح الباری1/480)جب سے مجھے غیبت کے حرام ہونے کا پتہ چلا تب سے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی، ایک اور روایت میں یوں ہے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حالت میں ملوں گا کہ اللہ تعالیٰ غیبت کے سلسلہ میں مجھ سے حساب نہیں لیں گے، کیوں کہ میں نے کسی کی غیبت نہیں کی۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مقبولیت کا یہ مقام ومرتبہ نصیب فرمایا، غیبت کے سلسلہ میں جس قدر سخت وعیدیں قرآن وسنت میں وارد ہوئی ہیں اسی قدر اس میں ابتلا بھی عام ہے، ایسے میں اپنی زبان پر قابو رکھنا اور مخالفین کے سلسلہ میں زبان کو ساکت رکھنا اور دوسروں کا تذکرہ برائی سے نہ کرنا، یہ ایسی خصوصیت ہے کہ جس کی آج ہر عام وخاص، عالم وجاہل سب کو ضرورت ہے ۔

 

علمی وقار کی حفاظت

ایک مرتبہ امام بخاریدریائی سفر کررہے تھے کہ ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں، ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاریکو اس پر اعتماد ہوگیا، اپنے احوال سے اس کو مطلع کیا، یہ بھی بتادیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں، ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا شروع کیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفی کی تھیلی غائب ہے، چناں چہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی، امام بخارینے موقعہ پاکر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی، تلاشی کے باوجود وہ تھیلی دست یاب نہ ہوسکی تو لوگوں نے اسی کی ملامت کی، سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاریسے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں؟ امام صاحب نے فرمایا: میں نے ان کو دریا میں ڈال دیا، کہنے لگا اتنی بڑی رقم کو آپ نے ضائع کردیا؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے، چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کرسکتا تھا؟!(مقدمہ کشف الباری، ص: 132 بحوالہ آفتاب بخارا118)

 

غور کیجیے! امام بخاریاپنے علمی وقار کی حفاظت کی خاطر اپنے کثیر مال کو ضائع کرنا پسند کیا، ثقاہت پر ادنیٰ آنچ آئے ان کی ثقاہت وبھروسہ پر حرف گیری کی جائے، اسے برداشت نہیں کیا، آج اللہ نے ہمیں بھی علم کی دولت سے نوازا ہے، علم کے نور سے منور فرمایا ہے، اسی علم کی دستار ہمارے سرپر لپیٹی گئی ہے، انہیں امام بخاریکی کتاب پڑھ کر ہم فارغ ہورہے ہیں تو مال کی خاطر، دولت کی لالچ میں علمی وقار کا سودا نہ کریں، فانی دولت کے لیے مال داروں کے سامنے اپنے آپ کو رسوا وذلیل نہ کریں، جس سے ہمارا علمی وقار مجروح ہوجائے۔

 

نیز طلبائے کرام کے ساتھ شفقت کا یہ عالم ہوتا کہ امام ابن حجر عسقلانیفرماتے ہیں: ”وکان قلیل الأکل جدا، کثیر الاحسان إلی الطلبة مفرط الکرم(فتح الباری 1/481) آپکی غذا بہت کم تھی اور طلبہ پر بہت زیادہ احسان وکرم فرماتے تھے۔ امام بخاریکی یہ خاص صفت بخاری پڑھے ہوئے اساتذہ کرام کو اپنانی چاہیے اور طلبہ کو اپنا غلام یا نوکر سمجھنے کی بجائے ان پر احسان وکرم کا معاملہ کرنا چاہیے، اس لیے یہ طلبہ اساتذہ کے لیے دو طرح سے محسن ہیں، ایک تو یہ کہ ا نہیں کی طفیل میں دنیا میں روزی ملتی ہے اور انہی کے ذریعہ آخرت کی سرخروئی ہے یہ طلبہ ہمارے علوم کے محافظ اور اس کے نشرکرنے والے بنیں گے، انہیں کے واسطے سے ہمارا فیض عالم میں پہنچے گا، طلبہ کے ساتھ ترش روئی ونازیبارویہ خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارلینے کے مترادف ہے، غور کیجیے! امیر الموٴمین فی الحدیث جب طلبہ کے ساتھ احسان وشفقت کا معاملہ کرسکتے ہیں جن کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے تو ہما شما کا کیا اعتبار؟

 

امام بخاریکی نماز

نماز بندہٴ مومن کی معرا ج ہے، اللہ تعالیٰ سے لینے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، صحابہ کرام کی حالت نماز میں ایسی ہوتی کہ گویا کہ وہ خشک لکڑی ہیں اور دو دو رکعت نماز کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرلیا کرتے، آپ صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے اتنا لگاوٴ تھا کہ عبادت کرتے ہوے پائے مبارک پر ورم آجاتے، کوئی ادنیٰ سا معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے، اسی نماز کے تعلق سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حدیث جبرئیل میں تعلیم دی کہ:”أن تعبد اللہ کأنک تراہ فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک (مشکوة، ص:11) نماز میں اتنا استحضار پیدا کرو کہ نماز میں یہ تصور قائم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو تم دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تصور تو قائم کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہے ہیں، اس سے تمہیں عبادتوں میں احسانی کیفیت حاصل ہوگی۔ امام بخاریکی نماز کیسی احسانی کیفیت سے معمور تھی، آپ اس واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ ایک دفعہ آپنماز پڑھ رہے تھے بھڑنے آپ کے جسم پر سترہ دفعہ کاٹ دیا، جب آپنے نماز پوری کی تو کہا کہ دیکھو! کونسی چیز ہے جس نے مجھے نماز میں تکلیف دی ہے؟ شاگردوں نے دیکھا تو بھڑ تھی جس کے کاٹنے سے ورم آگیا تھا، آپسے جلدی نماز ختم کرنے کی بابت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ میں جس سورت کی تلاوت کررہا تھا اس کے ختم کرنے سے قبل نماز ختم کرنا نہیں چاہ رہا تھا۔(فتح الباری 1/481)

 

امام بخاریکا مجاہدہ

شاعر کہتا ہے #

        بقدر الکد تکتسب المعالي       

        من طلب العلی سہر اللیالي

محنت کے بقدر بلند یاں نصیب ہوتی ہیں، نیز جو بلندیاں چاہے وہ راتوں کو جاگا کرے، محنت کی جو بھی شکل ہو امام بخاریاسے اپنانے سے ہرگز گریز نہیں کرتے تھے، علم کے لیے مجاہدہ کی بابت امام محمد بن ابی حاتم وراق بیان کرتے ہیں کہ بسا ا وقات، دوران سفر امام بخاریکے ساتھ ایک ہی کمرہ میں رات گذرتی تھی، میں دیکھتا ہوں کہ رات کو پندرہ بیس دفعہ اٹھتے ہیں، ہر دفعہ چراغ جلا کر حدیث پر نشان لگاتے ہیں، پھر نماز تہجد ادا کرتے ہیں اور مجھے کبھی نہیں اٹھاتے ، میں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، آپ مجھے اٹھالیا کریں، امام صاحبنے فرمایا: تم جوان آدمی ہو، میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا۔ (سیر اعلام النبلاء 12/404 بحوالہ آفتاب بخارا 120)

 

آپ کے طعام کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: ”وکان قلیل الأکل جدا“ آپانکی خوراک بہت ہی کم تھی، بہت زیادہ مجاہدہ کھانے کے اعتبار سے برداشت کرتے تھے، امام بخاریکا قارورہ جب معائنے کے لیے اطباء کے پاس پیش کیا گیا تو اطباء نے دیکھ کر کہا کہ یہ ان لوگوں کے قارورے کی طرح ہے جو سالن کا استعمال نہیں کرتے، امام بخارینے فرمایا: ہاں بات صحیح ہے، میں نے چالیس سال سے شوربا استعمال نہیں کیا، اس کے علاج کے بارے میں پوچھا گیا تو اطباء نے کہا کہ اس کا علاج شوربا استعمال کرنا ہے، امام بخارینے انکار کیا حتی کہ مشائخ واہل علم نے بہت ہی زیادہ التجا کی تو رو ٹی کے ساتھ شکر استعمال کرنے لگے۔(فتح الباری 1/481) یہی وہ مجاہدات ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے امام بخاریکو بلندیاں نصیب فرمائیں۔

 

امام بخاریکا رمضان

رمضان کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے،ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت کرتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر دن سحری تک قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین رات میں تلاوت کرتے ہوئے قرآن ختم فرماتے، نیز رمضان کے ہر دن میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم فرماتے اور ہر مرتبہ ختم کرتے ہوئے دعا کا اہتمام کرتے۔(فتح الباری 1/481) گویا رمضان کا مہینہ امام بخاریکے یہاں تلاوت کا مہینہ ہوا کرتا، صبح وشام رات بھر تلاوت کا خا ص شغف واہتمام ہوا کرتا۔

 

نیز ابتلا آزمائش، تکالیف، مصیبتیں، امتحانات، انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام کو زیادہ پیش آئے ہیں، پھر جو شخص ان کے زیادہ قریب ہوتا ہے اسے بھی ابتلا وآزمائش میں ڈالا جاتا ہے، کسی نے فرمایا: مجھے مصائب سے دوچار کیا گیا کہ اگر وہ مصائب دن پر ڈال دیے جائیں تو وہ رات ہوجائے، امام بخاریکو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے امتحانات میں ڈالا، کئی مرتبہ آپکو جلا وطنی کی زندگی گذارنی پڑی، معاصر علمائے کرام میں سے کئی ایک نے موقعہ بموقعہ آپپر اعتراضات اور آپ کے خلاف زبان درازی کا طویل سلسلہ جاری رکھا، امیروں اور حاکموں نے الگ طوفان کھڑا کیا، ان سب کے باوجود آپاپنی زبان پر شکایت کے حروف نہیں لائے، اخیر میں سمرقند جانے کا ارادہ کیا تو روک دیا گیا، خرتنگ نامی چھوٹی سی جگہ میں امیر الموٴمنین فی الحدیث ابدی نیند سوگئے، لیکن ان تکالیف ومصیبتوں کو جھیل کر کسی کی بھی غیبت میں اپنی زبان کو ملوث نہیں کیا ، علوم دینیہ کے حصول میں مشغول رہنے والوں کے لیے ایک بہترین سبق ہے کہ وہ امام بخاریکے تحمل کو، دیگر صفات کو ا پنی زندگی کا جزولا ینفک بنالیں، تب ہی جاکر کوئی بڑا علمی معرکہ سر کیا جاسکتا ہے، نیز ان صفات سے مزین ہو کر اپنی دنیوی واخروی زندگی کو سنواریں۔

 

(Courtsy:AlFarooq)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

शिकायत हो गई…..मुहम्मदअली वफा

 

۔

इस तरह भी बस हिफाजत हो गई

आपसे थोडी  रफाकत हो गई

۔

कुछ हमारे  दर्दके अवराक थे

आप को क्यूँ कर शिकायत हो गई

۔

कोन अब  उसको पढेगा  या खुदा

जिंदगी तो  एक  इबारत हो गई

۔۔

ये नकाबी चेहरा था इम्तेहां

नजर ऊठी तो कयामत हो गई

۔

झेल लेते तीर तुम्हारे वफा

आदतन  हमसे  मुदाफत हो गई

۔

गालगागा—गालगाग—गालगा

۔

फाइलातुन—फाइलातुन—फाइलुन

बहरे रमल…11अक्सरी

 


۔شِکایت ہو ہوگئ،،،محمدعلی وفا

 

۔

اِس ترہ بھی بس حفاظت ہو ہوگئ 

آپسے تھوڑی رفاقت ہو ہوگئ 

۔

کُچھ ہمارے درْدکے اوراک تھے 

آپ کو کْیُوں کر شِکایت ہو ہوگئ 

۔

کون اب اُسکو پڑھیگا یا خدا 

زِندگی تو ایک عبارت ہو ہوگئ 

۔

یے نقابی چہرا تھا اِمْتحاں 

نظر اُوٹھی تو قیامت ہو ہوگئ 

۔

جھیل لیتے تِیر تُمھارے وفاا 

آدتن ہمسے مُدافعت ہو ہوگئ

Sanjiv Bhatt

Trivia about what the Muslims did for the freedom of this country:

It was Emperor Aurangzeb who first asked the East India Company to quit India in 1686 in Surat!

The first war against the British was fought almost 200 years before independence The Battle of Plassey, wherein Nawab Sirajuddawla of Bengal was treacherously defeated by the British in 1757!

The first signs of victory against the British were seen in Mysore where Nawab Hyder Ali I waged war against the British in 1782. He was succeeded by his son, Tipu Sultan who again fought them in 1791 and was eventually treacherously defeated and killed in 1799. Tipu Sultan was the first General to use missiles in warfare!

The Mujahid Movement was active during 1824 and 1831 under the leadership of Syed Ahmad Shaheed and his two disciples and they were successful in liberating the North-west province from British authority. Syed Ahmad Shaheed was nominated Khalifa, but the freedom was short lived and he was killed in 1831!

The last Mughal Emperor, Bahadur Shah Zafar was to lead the War of Independence in 1857. A country-wide war was to begin simultaneously on the 31st of May 1857, but the Indians among the British army revolted before that on the 10th of May 1857!

A startling 5,00,000 Muslims were killed following the events of 1857, of which 5000 were the Ulema (religious scholars). It is said that there was not a single tree on the Grand Trunk Road from Delhi to Calcutta on which an alim’s body was not found hanging!

Indian Ulema called for Jihad against the British and declared India as Darul Harb (Territory under Enemy control). This call found resonance all over the country with Muslims rising up against the British!

To liberate the countrymen from the Cultural and Educational bondages of the colonial empire, towering centers of learning like the Aligarh Muslim University were established in the late 19th Century, which are still counted amongst the leading Universities of India.

The Reshmi Rumaal Tehreeq was launched in 1905 by Shaikhul Islam Maulana Mehmood Hasan and Maulana Ubaidullah Sindhi to unite all the Indian states against the British. Maulana Mehmood was imprisoned in Malta and Kalapani for the same where he breathed his last!

The Indian National Congress, from the time of its inception to independence has seen 9 Presidents who were Muslims!

Barrister M. K. Gandhi served in a law firm in South Africa owned by a Muslim, who on his own expenses brought Gandhiji to India in 1916. Here, he started his agitation under the Ali Biradran (Ali Brothers)!

The Mopla movement saw 3000 Muslims being killed in a single battle!

The Non-cooperation Movement and the Swadeshi Movement saw overwhelming Muslim participation. Janab Sabusiddiq who was the Sugar-king of that time gave up his business as a form of boycott. The Khoja and Memon communities owned the biggest business houses of that time and they parted with their treasured industries to support the boycott!

The 1942 Quit India movement was actually conceived by Maulana Abul Kalam Azad. He was imprisoned on the 8th of August and sent to Ahmadnagar, because of which Gandhiji had to lead the movement on the 9th of August!

Jyotiba Phule was sponsored by his neighbour, Usman Bagban, in his educational activities, so much so that the school in which he taught was owned by Mr. Usman. His daughter, Fatima was the first girl student there and joined as a teacher thereafter!

Muslim leaders always supported the Dalit cause. In the Round Table Conference held in London, Maulana Muhammad Ali Johar was lured into abandoning the Dalit cause in lieu of accepting all the other demands of the Muslims. But Maulana Johar refused to forsake the Dalits!

When Dr. B.R. Ambedkar could not win the 1946 Central Elections, the Bengal Muslim League vacated one of its own seats and offered it to Dr. Ambedkar, who won it in the bypoll. This gesture by the Muslim League paved the way for his entry into the Constituent Assembly and the rest as they say, is history!

Muslims freedom fighters were active in the field of journalism as well. Maulana Azad used his pen against the British despite being prevented by the colonial powers a number of times. In fact, the first journalist to be killed for the cause of India’s Freedom Struggle was also a Muslim – Maulana Baqar Ali.

 

 

امیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا یونس جونپوری رحمہ اللہ

یاسر ندیم الواجدی

 

دوسری صدی کے امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کی صحیح کو اس دور میں، پندرہویں صدی کے امیر المومنین فی الحدیث شیخ یونس جونپوری رحمہ اللہ سے زیادہ جاننے والا شاید ہی کوئی ہو۔ نابغہ روزگار شخصیات کی مقبولیت کا اصل اندازہ ان کے جنازوں سے ہوتا ہے۔ امام احمد بن حنبل (جن کی مسند کو حضرت شیخ نے ایک لفظ کی تلاش میں چار بار پڑھا تھا) نے کہا تھا کہ ہمارے اور ان کے درمیاں جنازے فیصلہ کریں گے۔ آج جب شیخ کا جنازہ اٹھا تو دنیا نے دیکھا کہ اہل علم کی قدر کسے کہتے ہیں۔ دلوں کے یہ بادشاہ اپنی وفات کے بعد بھی عظمت کی اونچائیوں پر فائز رہتے ہیں۔ دربار ان کے بھی سجتے ہیں لیکن امراء ووزراء کے لیے نہیں، بلکہ ان کے دربار میں وہ بوریہ نشین شہزادے حاضر باش رہتے ہیں جن کے سامنے نبی کی میراث سے اپنی زندگی کو منور کرلینا ہی مقصد ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ سادگی سے مرصع دربار میں مسند نشین شیخ کے ارد گرد گھنٹوں بیٹھےاس میراث پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔

 

حضرت شیخ جب سہارنپور پڑھنے کے لیے آئے تو بہت بیمار ہوگئے۔ اساتذہ نے مشورہ دیا کہ واپس اپنے گھر چلے جائیں۔ حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا، مگر وہ نہ مانے۔ حضرت شیخ زکریا نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ "پھر پڑا رہ یہیں”۔ شاگرد نے اس جملے پر ایسا عمل کیا کہ اپنے شیخ کے در پر زندگی گزاردی تا آنکہ بڑھاپے میں جنازہ ہی اٹھا۔ یہی وجہ تھی کہ استاذ کو بھی اپنے شاگرد پر ناز تھا۔ وہ کون استاذ ہے جو اپنے شاگرد کو لکھ کر دے کہ جب تم چالیس سال بعد اس تحریر کو پڑھوگے تو مجھ سے آگے نکل چکے ہوگے۔ اس سے بڑھ کر کسی طالب علم کے لیے شرف کی کیا بات ہوگی کہ استاذ اپنی کتاب میں اپنے شاگرد کا قول نقل کرے۔

 

میں اپنے کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے حضرت کی زیارت کا ہی نہیں بلکہ آپ سے اجازت حدیث کا بھی موقع ملا۔ سنہ 2001 میں دورہ حدیث کے سال ہم نے بھی دیوبند سے مسلسلات کے سبق میں حاضری کے لیے سہارنپور کا سفر کیا۔ اس سفر میں شیخ کا پہلی مرتبہ دیدار ہوا۔ اس زمانے میں شیخ باہر سے آنے والے طلبہ کو بھی عبارت پڑھنے کی اجازت دیتے تھے۔ اس مناسبت سے میرے نام کی پرچی حضرت کے سامنے موجود تھی۔ شیخ کی نازک مزاجی کے قصے خوب سنے تھے اور ہم مزاج سے بالکل ناواقف۔ اوپر سے یہ بھی معلوم تھا کہ شیخ قلندر صفت ہیں، کہیں اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے ہمارے دل کا حال نہ کہلوادے۔ اس پر مستزاد یہ کہ شیخ کے یہاں عبارت خوانی میں لحن جرم تھا جب کہ دیوبند میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔ خوف کے اس ماحول میں عبارت پڑھی اور اس امتحان میں الحمد للہ کامیاب رہے۔ دوران عبارت حضرت نے ایک جملہ بھی ارشاد فرمایا تھا جو بطور سند میرے سینے میں محفوظ ہے۔

 

دوران درس حضرت شیخ نے شاہ ولی اللہ کی کتاب الفضل المبین کے رجال پر اس تفصیل سے کلام کیا کہ گویا امام ذہبی یا ابن حجر کتب ستہ کے رجال پر کلام کررہے ہوں۔ اس عمر میں حضرت کی یادداشت نے بہت متاثر کیا۔

 

حضرت شیخ ایک ایسی شخصیت تھے جن کے نزدیک ان کی کتابیں ہی ان کا سب کچھ تھیں، دنیا کسے کہتے ہیں وہ جاننا نہیں چاہتے تھے۔ ان کے شاگرد اور مرید شیخ یعقوب دہلوی سابق امام مسجد قبا ومشرف قاضیان مدینہ نے مجھے یہ واقعہ سنایا کہ "مدینہ منورہ تشریف لانے پر عرب علما ان کے جوتے سیدھے کرنا اپنا شرف سمجھتے تھے۔ ایک سفر میں ان عرب شاگردوں نے اتنے ہدایا دیے کہ ریالوں سے دو تھیلے بھر گئے۔ مدینہ سے واپسی پر شیخ نے مجھے حکم دیا کہ سارے پیسے مدینہ منورہ میں ہی غربا میں تقسیم کردوں۔ مین نے با اصرار کہا کہ حضرت اپنی ضرورت کے بقدر رکھ لیں، لیکن وہ تیار نہیں ہوے اور ایک ایک ریال صدقہ کروادیا۔ جب ایرپورٹ پہنچے تو مجھ سے کہا کہ مجھے سو ریال اس شرط پر قرض دو کہ بعد میں واپس لوگے”۔ جس شخص کے یہاں دنیا کی یہ حیثیت ہو اللہ تعالیٰ اسی کو دلوں کی بادشاہت عطا فرماتے ہیں۔

 

آج عجم سے لیکر عرب تک سبھی حضرت شیخ یونس کی رحلت پر ماتم کناں ہیں کیونکہ جس بخاری، ابن حجر، ذہبی اور جس خلیل احمد اور زکریا کاندھلوی کے تذکرے ہم سنتے آئے ہیں وہ سب شیخ یونس رحمہ اللہ کی شکل میں ہمارے سامنے مجسم تھے۔ اب نگاہ اٹھاکر مشرق سے مغرب تک دیکھتے ہیں تو محدثین تو ملتے ہیں لیکن امیر المومنین فی الحدیث کوئ نہیں۔ اس لیے میں دنیا کے ہر مدرسے اور ہر دار الحدیث کو تعزیت پیش کرتا ہوں

 

(Courtesy:Facebook Yasir Nadeem alwajidi)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Posted by: Bagewafa | جولائی 4, 2017

Gau hatya…Cow slaughter

Posted by: Bagewafa | جولائی 3, 2017

فرینکفرٹ۔۔۔۔۔۔تسلیم اِلاہی زلفی

गाय औऱ हिंदुत्व : मिथक और वास्तविकता

 

अगर कोई झूठ और धोखाधड़ी में महारत हासिल करने के लिए किसी गुरुकुल या यूनिवर्सिटी की तलाश में है तो निश्चित ही आरएसएस से बेहतर कोई जगह नहीं हो सकती है। …

शम्सुल इस्लाम

June 16,2017 10:44

गाय औऱ हिंदुत्व : मिथक और वास्तविकता

शम्सुल इस्लाम

‘राम’, ‘लव जिहाद’ और ‘घर वापसी’ (मुसलमानों व ईसाइयों को ज़ोर-ज़बरदस्ती हिंदू बनाना) जैसे मुद्दों के बाद हिंदुत्ववादी ताकतों के हाथ में अब गो- रक्षा का हथियार है। पवित्र गाय को बचाने के नाम पर मुसलमानों व दलितों को हिंसक भीड़ द्वारा घेरकर मारने, उनके अंग भंग कर देने और उनके साथ लूटपाट करने की घटनाएं लगातार हो रही हैं। याद रहे कि ऐसी कई घटनाओं का तो पता ही नहीं चल पाता है।

डींग हांकने या अपनी बहादुरी दिखाने के लिए इन हिंसक तत्वों द्वारा सोशल मीडिया पर डाले गए वीडियो उस मारपीट तथा जुल्म व प्रताड़ना की तस्वीर दिखाते हैं, जिसे देख-सुन कर विभाजन के समय की क्रूरतापूर्ण हिंसक घटनाएं याद आ जाती हैं। इन्हें देख के साफ लगता है कि इन हिंसक व अराजक तत्वों को सरकार का वरदहस्त प्राप्त है तथा इन्हें कानून का कोई डर नहीं है।

यह शर्मनाक वीडियोज हमें दिखा रहे हैं कि कैसे यह हिंदूवादी हिंसक तत्व किसी को पीट-पीट कर मार डालने या उसे अधमरा कर देने पर खुशियां मनाते, उसका आनंद लेते हैं।

गो-रक्षा का धार्मिक कर्तव्य निभाने वाले यह आपराधिक तत्व सही मायनों में हत्यारे होने के साथ लुटेरे भी हैं। यह इससे सिद्ध हो जाता है,जब हम उन्हें प्रताड़ितों को घेरकर मारने से पहले उन की पूँजी और सामान की लूटमार करते देखते हैं।

आरएसएस के वरिष्ठ स्वयंसेवक और नीतिकार, हमारे प्रधानमंत्री द्वारा अगस्त 2016 में गो माता के इन अराजक व हिंसक भक्तों को असामाजिक तत्व ठहरा दिए जाने के बावजूद इनका हिंसक तांडव जारी है।

प्रधामंत्री ने कहा था –

    ‘यह देख मुझे बहुत गुस्सा आता है कि लोग गो रक्षा के नाम पर दुकानें चला रहे हैं… कुछ लोग रात के समय अनैतिक कार्यों में लिप्त रहते हैं और दिन में वह गो र क्षकों का आवरण ओढ़ लेते हैं।’

प्रधानमंत्री द्वारा की गई इस सख्त टिप्पणी को लगभग एक साल होने को आया लेकिन गाय के नाम पर की जाने वाली हिंसा इस अरसे में और बढ़ गई तथा देश के बड़े हिस्से में फैल गई है। यह ज्यादा भीषण हो गई और अनियंत्रित भी। इसके दो कारण हो सकते हैं। पहला यह कि प्रधानमंत्री ने दिखावे के लिए यह बातें बोली हों, ताकि इन आपराधिक कृत्यों के खिलाफ समाज में पनप रहा गुस्सा कम किया जा सके। दूसरा यह कि उक्त गो रक्षक असामाजिक तत्व नहीं हैं, बल्कि वास्तविक गो-रक्षक हैं जिन्हें प्रधान-मंत्री का आशीर्वाद प्राप्त है। परंतु इसमें कोई शक नहीं कि इन गैंगस्टर्स को आरएसएस तथा प्रशासन का वरदहस्त प्राप्त है।

दुर्भाग्य से न्याय पालिका, जिसके बारे में माना जाता है कि वह देश के शासकों को विधि सम्मत रूप से शासन करने पर बाध्य करेगी, कई बार उसने जनहित के मुद्दों पर प्रभावशाली काम किए भी, लेकिन पता नहीं क्यों इस बार वह इन आपराधिक तत्वों के आगे चुप है। बल्कि राजस्थान हाईकोर्ट के एक जज ने ‘गो- भक्तों’ द्वारा किए गए अपराधों की पड़ताल करने के बजाय (गो-रक्षा के नाम पर की जाने वाली हिंसा में राजस्थान प्रथम स्थान पर है। कुछ समय पहले ही वहां इन गो रक्षकों ने पहलू खान को बर्बरता-पूर्वक तरीक़े से मार डाला। इस घटना का पूरा वीडियो भी अपलोड किया गया था।) गाय को राष्ट्रीय पशु घोषित करने तथा उसकी हत्या करने वाले को मृत्यु दंड देने के निर्देश जारी किए।

भारत के गृह-मंत्री राजनाथ सिंह ने तो, जो आरएसएस के महत्वपूर्ण विचारक भी हैं, गाय की पवित्रता पर एक नई ‘ वैज्ञानिक’ खोज तक का हवाला दे डाला। आरएसएस पदाधिकारियों के एक कार्यक्रम को संबोधित करते हुए उन्होंने अमेरिका के कृषि विभाग द्वारा जारी एक रिपोर्ट का जिक्र किया और कहा कि "गाय में 80 प्रतिशत जींस ऐसे पाए गए हैं, जो इंसानों में भी मौजूद हैं।” साथ ही उन्होंने भारतीय नागरिकों से "गाय की रक्षा और उसकी पूजा करने” का आह्वान भी किया।

इसमें कोई आश्चर्य नहीं कि आरएसएस के यह स्वयंसेवक, राजनाथ सिंह इस मामले में न केवल अध्-कचरी सोच वाले बल्कि पक्षपाती और गलत भी थे। विश्वस्तरीय प्रतिष्ठित पत्रिकासाइंस की खोज के आधार पर भारत के एक प्रमुख अंगरेजी दैनिक ने यह स्पष्ट किया है कि अन्य कई पशुओं के जींस, गाय के जींस से ज्यादा मानव जींस से मिलते हैं। चिंपांज़ी (गोरीले ), बिल्ली, चूहे व कुत्ते में क्रमशः 96, 90, 85 और 84 प्रतिशत जींस मानव जींस के समान मिलते हैं। केवल यह प्राणी ही नहीं, फलों में भी यही स्थिति है, जैसे केले में 60 प्रतिशत जींस मानव जींस के समान होते हैं। अब देखना यह है कि राजनाथ सिंह कब इन्हें भी पवित्र घोषित करते हैं। हमें उनसे यह जानने की भी जरूरत है कि अल्पसंख्यक और दलित इंसान हैं या नहीं, उनमें भी गौ-माता के जींस हैं या नहीं, और उनकी जानें हिंसक भीड़ से बचाई जाना जरूरी है कि नहीं।

गो-रक्षकों के ताजा शिकार आईआईटी-एम (चैन्ने स्थित) के बीफ खाने वाले लोग हुवे हैं। संस्थान के केंपस में आरएसएस के विद्यार्थी संगठन (abvp अभाविप) के कार्यकर्ताओं ने इन पर प्राणघातक हमला किया। हिंदुत्ववादी कार्यकर्ताओं द्वारा गाय के नाम पर लगातार किए जा रहे इन हिंसक हमलों से एक बात तो पूरी तरह स्पष्ट है कि यह फासीवादी तत्व हमारे आज के भारत के बारे में कुछ नहीं जानते तथा भारतीय इतिहास के मामले में भी निरे जाहिल हैं। खासतौर से भारत के वेदिक इतिहास से तो यह पूरी तरह अनभिग्य हैं, जिसे यह स्वर्ण काल के रूप में निरूपित करते हैं।

अगर कोई झूठ और धोखाधड़ी में महारत हासिल करने के लिए किसी गुरुकुल या यूनिवर्सिटी की तलाश में है तो निश्चित ही आरएसएस से बेहतर कोई जगह नहीं हो सकती है। इस क्षेत्र में उनकी दक्षता से किसी की कोई तुलना नहीं की जा सकती। भारत के हिंदुओं द्वारा बीफ ग्रहण करने के बारे में वे वास्तविकताओं को झुठला कर जिस प्रकार की बातें करते हैं, उनसे एक बार फिर उनकी यह विशेषग्यता सिद्ध हो रही है। वे ऐतिहासिक तथ्यों को आपराधिक रूप से तोड़-मरोड़ कर प्रस्तुत करते हुए यह दावा करते हैं कि भारत में बीफ खाने का चलन मुस्लमान/ईसाई शासकों के आगमन के बाद से शुरू हुआ तथा इन शासकों ने हिंदुओं और उनकी पवित्र धार्मिक मान्यताओं का निरादर करने के लिए भारत में बीफ खाने पर जोर दिया।

एक प्रश्न कि “हमारे देश (भारत) में गो वध कैसे प्रारंभ हुआ?” के उत्तर में पूरी तरह झूट बोलते बेशर्मी से, आरएसएस के महान गुरु, गोलवालकर ने कहा: “इसका प्रारंभ हमारे देश में विदेशी आक्रांताओं के आगमन के साथ हुआ। लोगों को गुलामी के लिए तैयार करने के लिए उन्होंने सोचा कि हिंदुओं के आत्म सम्मान से जुड़ी हर चीज का निरादर करो…इसी सोच के चलते गो-वध भी शुरू किया गया।”

यहाँ यह जानना रोचक होगा कि आरएसएस ने अपनी स्थापना (1925 ) से लेकर भारत की आज़ादी तक, अंग्रेजी राज में कभी भी गौ-वध बंद करने के लिए किसी भी तरह का आंदोलन नहीं चलाया।

इस तरह के दुष्प्रचार ने बीफ खाने या इसका व्यवसाय करने वाली देश के दो अलप-संख्याक समुदायों और दलितों को आतंकित करने में महती भूमिका निभाई। यहां इसका भी ध्यान रखा जाना चाहिए कि हिन्दुत्वादी राजनीति के उत्थान के साथ ही गाय ऐसा संवेदनशील मुद्दा बना दिया गया, जिसने देश में मुसलमानों व दलितों के खिलाफ हिंसा भड़काने के ज्यादातर मामलों में केंद्रीय भूमिका निभाई।

नाज़ी दुष्प्रचारक पॉल जोसेफ गोएबल्स के भारतीय उत्तराधिकारियों के लिए, जो यह दावा करते हैं कि भारत में बीफ खाना मुसलमानों/ईसाइयों के आगमन के साथ शुरू हुआ, भारतीय इतिहास के वैदिक काल का हिंदू लेखकों द्वारा किया गया वर्णन निरर्थक ही था।

आरएसएस द्वारा हिंदुत्ववादी विचारक के रूप में प्रतिष्ठित स्वामी विवेकानंद ने प्साडेना, कैलिफोर्निया (अमेरिका) के शेक्सपीयर क्लब में 2 फरवरी 1900 को ‘बुद्धिस्ट इंडिया’ के विषय पर अपने संबोधन में कहाः

    “आप अचंभित रह जाएंगे यदि प्राचीन वर्णनों के आधार पर मैं कहूं कि वह अच्छा हिंदू नहीं है, जो बीफ नहीं खाता है। महत्वपूर्ण अवसरों पर उसे आवश्यक रूप से बैल की बलि देना व उसे खाना चाहिए।”

अच्छे दिन : जनसंख्या सफाये के लिए इससे बेहतर राजकाज और राजधर्म नहीं हो सकता

इस कथन को वेदिक काल के इतिहास व संस्कृति विशेषग्य सी कुन्हन राजा की बात से बल मिलता है। महत्वपूर्ण यह है कि राजा ने यह शोध कार्य विवेकानंद द्वारा स्थापित रामकृष्ण मिशन के अंतर्गत किया है। इसमें उन्होंने कहा हैः

    “वेदिक आर्यंस, जिनमें ब्राह्मण भी शामिल थे, मछली, मांस, यहां तक कि बीफ भी खाते थे। एक सम्मानित अतिथि के आतिथ्य सत्कार में बीफ परोसा जाता था। हालांकि वेदिक आर्यंस बीफ खाते थे लेकिन उसके लिए दुधारू गायों का वध नहीं किया जाता था। ऐसी गायों के लिए अग्नय (जिन्हें मारना नहीं है) का शब्द इस्तेमाल किया जाता था। लेकिन एक अतिथि गोघना (जिसके लिए गो-वध किया जाना है) माना जाता था। उस समय केवल बैल, बांझ गाय और बछड़ों का वध किया जाता था।”

गोरक्षा आंदोलन बन गया है, फिर बंटवारे का सबब #Beefgate #Dadri

भारतीय राजनीति, धर्म और संस्कृति के विशेषज्ञ व अद्भुत शोधकर्ता, डॉ अम्बेडकर ने इस विषय पर ‘क्या हिंदुओं ने कभी बीफ नहीं खाया?’ शीर्षक से उत्कृष्ट लेख लिखा है। वे लोग जो वास्तव में प्राचीन भारत को जानना-समझना तथा अल्पसंख्यकों को किनारे कर उनका सफाया करने के लिए गढ़े जाने वाले मिथकों की असलियत जानना चाहते हैं, उन्हें डॉ. अम्बेडकर का यह ऐतिहासिक आलेख जरूर पढ़ना चाहिए।

अनेकानेक वेदिक काल और उत्तर-वैदिक काल की हिंदू पांडुलिपियों का अध्ययन करने के बाद डॉ. अम्बेडकर इस निष्कर्ष पर पहुंचे कि “जब भी पढ़े-लिखे ब्राह्मण इस पर बहस करें कि हिंदुओं ने कभी बीफ नहीं खाया और वे तो गाय को पवित्र मानते हैं तथा उन्होंने सदा ही गो-वध का विरोध किया है तो उनकी बात को स्वीकार करना असंभव है।”

हे राम! यह सैन्य राष्ट्र में कारपोरेट नरबलि का समय !

दिलचस्प बात यह है कि आं अम्बेडकर के अनुसार गायों की बलि इसलिए दी जाती थी, उनका मांस इसलिए खाया जाता था, कि वे पवित्र थीं। उन्होंने लिखा: “ऐसा नहीं था कि वेदिक काल में गाय को पवित्र नहीं माना जाता था, बल्कि उसके पवित्र होने के चलते ही वाजस्नेयी संहिता में यह निर्देश दिए गए हैं कि बीफ खाना चाहिए।” (धर्म शास्त्र विचार इन मराठी, पृ. 180)। यह कि ऋग्वेद के आर्यंस आहार के लिए गायों का वध करते थे और उनका बीफ खाना ऋग्वेद से ही सिद्ध होता है। ऋग्वेद (x. 86.14) में इंद्रा कहती हैः ‘उन्होंने एक बार 20 बैलों का वध किया’। ऋग्वेद (x.91.14) में है कि अग्नि के लिए घोड़ों, बैलों, बांझ गायों और भेड़ों की बलि दी गई। ऋग्वेद से ही यह भी पता चलता है कि गायों का वध तलवार या कुल्हाड़ी से किया जाता था।”

अपने लेख का समापन आंबेडकर ने इन शब्दों पर किया हैः

“इन सब सबूतों के रहते किसी को संदेह नहीं हो सकता कि एक समय था जब हिंदू, चाहे वे ब्राह्मण हों या अन्य न सिर्फ मांसभक्षी थे बल्कि वे बीफ भी खाते थे।”

अंतिम फैसला : महेशचंद्र शर्मा जी, मोदी मार्का विकास में गो-वंश की नहीं, गो-वध की ही जगह है

हिंदुत्ववादियों द्वारा भारत के कमजोर वर्गों के विरुद्ध की जा रही हिंसा आरएसएस के दोग़लेपन को ही उजागर करती है, जो उसकी रीति-नीति का अभिन्न अंग है। वास्तव में तो, किसी भी मुद्दे पर दो-तीन तरह की बातें करना तो आरएसएस के लिए बहुत कम ही माना जायेगा। हिंदुत्ववादी संगठन, खास कर आरएसएस से जुड़े, साधारण इन्साफ पसंद भारतीयों की, बेधड़क हत्याएं कर रहे हैं, न केवल गो-वध के लिए बल्कि इन पशुओं के परिवहन करने पर भी। हद तो यह है कि उन दलितों को भी मौत के घाट उतरा जा रहा है, जो क़ानूनी तौर पर मुर्दा गायों की खाल उतर रहे थे। इसी के समानांतर आरएसएस/भाजपा की सत्ता वाले राज्य गोवा, मिजोरम, मेघालय, नागालैंड, अरुणाचल प्रदेश और मणिपुर हैं, जहां गो वध वैद्य है और बीफ वहां के मुख्य आहार में शामिल है। आरएसएस का तरीका कुछ ऐसा है कि कुछ क्षेत्रों में गो-वध की बात तो दूर रही, गऊ के साथ पाए जाने पर आपको ‘नर्क’ भेजा जा सकता है और कुछ क्षेत्रों में इस से जुड़े लोग गो-वध कराते हुवे राज कर रहे हैं। याद रहे हमारे देश में केरल जैसे राज्य भी हैं जहाँ बीफ़ ‘सेक्युलर’ खाना है!

यह सरकार भारत विरोध में खड़ी है

इस बात के दस्तावेजी सबूत मौजूद हैं कि गाय के धंधे और बीफ पर रोक ने, पहले से ही आर्थिक कठिनाइयों में घिरे, अपने अस्तित्व के लिए जूझते किसानों के लिए और मुसीबतें पैदा कर दी हैं। मोदी सरकार के सत्ता में आने के बाद किसानों की आत्महत्या दर 30 प्रतिशत बढ़ गई। ऐसे में गाय के विक्रय पर रोक लगाना किसानों को कुएं में धक्के देना जैसा है।

मोदी जी, गाय बचाओगे या देश : कहीं देश बाँटने का हथियार न बन जाए गाय

बतौर किसान नेता राजनीति में पदार्पण करने वाले चर्चित राजनीतिज्ञ, शरद पवार गौ-सेवा के बारे में एक अद्भुत प्रस्ताव लाए हैं। उनका कहना है कि आरएसएस के निर्देश पर मोदी सरकार गायों के क्रय-विक्रय व गो-वध पर रोक लगा रही है। इससे प्रभावित होने वाले किसानों को चाहिए कि वे अपने यहां की बांझ या बेकार गायें आरएसएस को सौंप दें, ताकि वह भी गौमाता की अच्छे-से सेवा करने के पवित्र काम में हिस्सेदारी सके। आरएसएस को इससे कोई समस्या भी नहीं होगी, क्यों कि भारत सरकार के बाद सब से ज़्यादा ज़मीनें इसी के पास हैं।

मोरों ने किया सामूहिक आत्महत्या करने का फैसला

पवार ने यह मांग भी की है कि आरएसएस को नागपुर के रेशम बाग स्थित अपना मुख्यालय, एक गोशाला में तब्दील कर लेना चाहिए, जिससे गरीब किसानों पर इन गायों का पेट भरने का बोझ न पड़े तथा आरएसएस को गायों की सेवा का पुण्य मिलता रहे।

इस पवित्र युद्ध का एक स्पष्ट एजेंडा मांस के कारोबार से जुड़े कुरैशियों (मुस्लमान), खटीक (हिन्दू ) और चमड़े के कारोबार से जुड़े दलितों की आर्थिक व्यवस्था ध्वस्त करना भी है। इससे फुटकर व्यापार की तरह होने वाला यह असंगठित उद्योग मर जाएगा। जिस का नतीजा यह होगा कि भारत जैसी बड़ी मंडी विश्व की उन बड़ी मांस कम्पनिओं के हवाले कर दी जाएगी जो प्रोसेस्ड मांस कारोबार पर एकाधिकार रखते हैं।

मांस के लिए मवेशी व्यापार पर रोक का हिंदुत्ववादी एजेंडा

आरएसएस अनेक मुँहों से बोलते हुए, अनेक गुप्त एजेंडों पर काम करने के फ़ासीवादी संस्कृति को निभाने में माहिर है। देशवासियों को विभाजित करने वाला कोई एक एजेंडा जब अपना प्रभाव खोने लगता है या ज्यादा विवादित होने लगता है, तब वे थैले से कोई दूसरा एजेंडा निकाल लेता है। ‘राम मंदिर’, ‘घर वापसी’, ‘लव जिहाद’ और अब बारी है गाय के नाम पर देश को बांटने की। गाय का मुद्दा देश का एकमात्र मुद्दा बन गया है। यह मुद्दा असल में ध्यान भटकाने के लिए छलावा मात्र है। गरीबी, बेरोजगारी, दंगे, अल्पसंख्यकों, दलितों और महिलाओं के खिलाफ हिंसा के मामलों से ध्यान भटकाने का। आरएसएस-भाजपा से जुड़ा शासक वर्ग समझता है कि वे सब लोगों को हर समय मूर्ख बनाते रहेंगे। निश्चि ही वे गलत सिद्ध होंगे। लेकिन जब तक इन का पर्दाफ़ाश होगा, तब तक तो लोकतांत्रिक-धर्म निरपेक्ष भारत और इसके लोगों का बुरा हाल हो चुका होगा।

[अंग्रेज़ी से अनुवाद: जावेद आलम, इंदौर]

Prime time Ravish 5jun17 ; सरकार द्वारा NDTV को डराने की कोशिश ?? | NDTV CBI Raid

 دیکھتا رہا۔۔۔۔ محمد علی وفا

.

نفرت قدے کے بام کو دیکھتا رہا

زہر سے بھرے  جام کو دیکھتا رہا

 .

دن بھی گزارا تیری ظلمتیں لئے

میں الجھنوں کی شام کو دیکھتا رہا۔

 .

جب ہوا ذکر ٹوٹے ہوئے دل کا

 تیرے ہی نام کو دیکھتا رہا

.

اب خریدے کہاں سے یہ غریب دل

تیرے لگائے دام کو دیکھتا رہا

 .

دسرونکی طرف وفا نظریں نہیں اٹھی

میں میرے ہی کام کو دیکھتا رہا

देखता रहा—मुहम्मदअली वफा

.

नफरतकदे के बाम को देखता रहा

ज़हरसे भरे   जाम को देखता रहा

 .

दिन भी गुजारा तेरी जुल्म्तें लिये

में उल्झनों की शाम को देखता रहा.

 .

जब हुआ जिकर तूटे हुए दिल का

एक  तेरे ही नाम को देखता रहा

.

अब खरीदे कहां से ये गरीब दिल

तेरे लगाये   दाम को देखता रहा

 .

दुसरोंकी तरफ वफा नजरें नहीं उठी

में  मेरे ही काम को देखता रहा

برسوں کے بعد بھی۔۔۔۔۔محمدعلی وفا

बरसों के बाद भी- मुहम्मद अली वफा

.

जालिम रहा है आसमां बरसों के बाद भी

अदावत भरा है ये झमां बरसों के बाद भी

.

पानी बने बहता रहा  दरिया  ये खूनका

फिर भी नही कोइ आशनां बरसों के बाद भी

 .

बेठे रहे तुम हाथ बांधे आती शरम नहीं

कुछ भी नहीं तुमको अयां बरसों के बाद भी

 .

अबभी सहर को ढुंढते हो वो भी रातको

तुम पर  हसेगी ये शमां बरसों के बाद भी

 .

मोहिद बने रहना यहां  होता गूनाह कया

जारी अभी तक ईमतेहां  बरसों के बाद भी

 .

हमतो बने  बारिश कदे  जंगल जरा देखो

कटते रहे हमतो यहां बरसों के बाद भी

 .

मांगा पसीना तो हमारा खूने जिगर  दिया

फिरभी बने हम ही निशां बरसों के बाद भी

 .

घर भी गये लूटे यहां  असमत भी लूट गइ

मिलता नहीं कोइ पासबां बरसों के बाद भी

 .

आई कभी खद्दर कभी तो  रंगे जाफरां

दुश्मन बने बूढे जवां बरसों के बाद भी

 .

खंजर रहे  कातिल के हमही  पर घूमते

बन कर रहे मझलुम यहां  बरसों के बाद भी

 .

महरुम था ये चमन  बहारों की फसल से

छाई रही हमपर खिझां बरसों के बाद भी

दिलके फफोले ‘वफा’ खोलुं अब जा कर कहां

हसते रहे सब  सुन बयां बरसों के बाद भी

جینے کے بہانے سبھی رسوا یہاں ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔محمد علی وفا

This Ghazal was read on Mehman tv Mushayera by SSTV ,Toronto on 25 May 2017.It will be aired from SSTV Toronto on rogrs cable 851 on Eid dy

जलने दे मेरे दोस्त_मोहंमदअली’वफा’

 

चलताहुं  जीस तरह में चलने दे मेरे दोस्त
जलता हुं तेरी यादमें जलने दे मेरे दोस्त.

.

वल्लाह पुछ्ना नही मंझिल का भी पता
मेरे कदमको युंही मचलने दे मेरे दोस्त.

.

होता हुं तुलुअ में मगर मेरी अदासे

तारिक्यां छानेको है ढलने दे मेरे दोस्त.

.

हो जाए खूश्क ही न तेरे अश्ककी तरह
दरियाओंको इन आंखसे बहने दे मेरे दोस्त

.

ईसरार से रुकता नहीं खुशियोंका काफला
गमके बादलोंको भी घिरने दे मेरे दोस्त.

.

जीनेके बहाने तो सभी रुस्वा यहां हुए
ईज्जत के साथ मोत से मरने दे मेरे दोस्त.

ऊर्दु मुशायेरा– 25 th May 2017 Toronto,Canada اردو مشایرا

c

ا

(Courtesy:Urdu daily Inquilab,Mumbai)

لبل کو کیا خبر ہے کٹیگی زباں کہاں ۔۔۔۔ شکیل قادری

 .

محفوظ ہے چمن میں کوئی آشیاں کہاں

بلبل کو کیا خبر ہے کٹیگی زباں کہاں

 .

شامل تھے کارواں میں گئے وہ جواں کہاں

چلتی ہے زندہ لاشیں کسی میں ہے جاں کہاں

 .

ہے لامکاں تو پھر تجھے سجدہ کرں کدھر

موجود ہے تو آ تجھے ڑھونڑھوں کہاں کہاں

 .

بچوں کے اس سوال کا دو گے جواب کیا

کھو آئے ہو بزرگوں کے سارے نشاں کہاں

.

مرتے ہوئے کسانوں کی آنکھوں میں جھانک کر

میں ڑھونڈھتا ہوں ہے میرا ہندوستاں کہاں

 .

ہونے کو قتل بارہا پہنچا میں اس کے گھر

لیکن میرا رفیق ہوا مہرباں کہاں

 .

رنگے جوانی میں نے بھی دیکھیں بہت حسیں

غالب کی طرح کر سکا لیکن بیاں کہاں

 .

دل میں نہ رکھو اس کو محبت کی آگ ہے

ہو جائیگی عیاں یہ رہیگی نہاں کہاں

ایرانی رنگ، بو عرب، ہندوی بدن

آخر غزل تمہاری ہوئی ہے جواں کہاں

 .

قدموں کے ہوں نشاں تو انہیں جا کے دیکھ لوں

لیکن تیری نظر کے میں ڑھوں ڑھوں نشاں کہاں

.

ہر آدمی کا جسم یہاں پتھروں کا ہے

کھولی ‘شکیل’ کانچ کی تم نے دکاں کہاں

 

बुलबुल को क्या ख़बर है कटेगी ज़ुबाँ कहाँ—–शकील क़ादरी

.

महेफ़ूज़  है  चमन  में   कोई  आशियाँ  कहाँ

बुलबुल को क्या ख़बर है कटेगी ज़ुबाँ  कहाँ

 .

शामिल  थे  कारवाँ  में  गये  वो  जवाँ कहाँ

चलती  है  ज़िंदा  लाशें किसी में है जाँ कहाँ

 .

है लामकाँ तो फिर तुझे सजदा करुँ किधर

मोजूद  है  तो  आ   तुझे  ढ़ूँढ़ूं  कहाँ  कहाँ

 .

बच्चों के इस सवाल का दोगे जवाब क्या

खो  आये  हो  बुज़ुर्गों के सारे निशाँ कहाँ

 .

मरते हुए किसानों की आँखों में झाँक कर

मैं   ढ़ूँढता  हूँ   है   मेरा  हिन्दोस्ताँ  कहाँ

 .

होने को क़त्ल बारहा पहुँचा मैं उस के घर

लेकिन  मेरा  रफ़ीक़  हुआ  महरबाँ  कहाँ

 .

रंगे   जवानी   मैं   ने  भी   देखें   बहुत  हंसी

ग़ालिब की तरह कर सका लेकिन बयाँ कहाँ

 .

दिल में न रक्खो इस को मुहब्बत की आग है

हो   जायेगी   अयाँ   ये  रहेगी   निहाँ  कहाँ

.

ईरानी   रंग,    बू-ए-अरब,    हिन्दवी   बदन

आख़िर  गज़ल  तुम्हारी  हुई  है  जवाँ  कहाँ

 .

क़दमों  के  हों  निशाँ  तो उन्हें जा के देखलूँ

लेकिन  तेरी  नज़र  के  मैं  ढ़ूँढ़ूं  निशाँ कहाँ

.

हर  आदमी का  जिस्म  यहाँ पत्थरों का है

खोली  ‘शकील’  काँच की तुमने दुकाँ कहाँ

हम ना होंगे जब महफिल में –संदीप करोसिया

 .

 

जीते जी आराम कहाँ है ।।

 मरकर भी विश्राम कहाँ है ।।

 

हमने प्यार किया हम दोषी ।।

 आपके सर इल्जाम कहाँ है ।।

.

रूके रूके हैं सारे पुर्जे ।।

 जाने चक्का जाम कहाँ है ।।

.

शहर नहीं सारी दुनिया में ।।

 हम जैसे बदनाम कहाँ है ।।

.

हमको क्यों बुलाएंगे वो ।।

 अभी हमारा नाम कहाँ है ।।

.

हम ना होंगे जब महफिल में ।।

 सब पूछेंगे श्याम कहाँ है ।।

(Courtesy:Face book Dr.Aziz Burney)

 

شرم آنکھوں میں رہے اور خطا ہوجائے…..ڈاکٹر نزہت انجم

 

جام ایسا تری آنکھوں سے عطا ہوجائے
ہوش موجود رہے اور نشہ ہوجائے

اس طرح میری طرف میرا مسیحا دیکھے
درد دل ہی میں رہے اور دوا ہوجائے

زندگانی کو ملے کوئی ہُنر ایسا بھی
سب میں موجود بھی ہو اور فنا ہوجائے

معجزہ کاش دیکھا دیں یہ نگاہیں میری
لفظ خاموش رہے، بات ادا ہوجائے

اس طرح جرم کے احساس کو بیدار کرو
جسم آزاد رہے اور سزا ہوجائے

اُس کو میں دیکھوں تو اِس طرح سے دیکھوں نزہت
شرم آنکھوں میں رہے اور خطا ہوجائے

 

शर्म आँखों में रहे और ख़ता हो जाए—– डाक्टर नुज़हत अंजुम

 

जाम ऐसा तरी आँखों से अता हो जाए
होश मौजूद रहे और नशा हो जाए

इस तरह मेरी तरफ़ मेरा मसीहा देखे
दर्द-ए-दिल ही में रहे और दवा हो जाए

ज़िंदगानी को मिले कोई हुनर ऐसा भी
सब में मौजूद भी हो और फ़ना हो जाए

मोजिज़ा काश देखा दें ये निगाहें मेरी
लफ़्ज़ ख़ामोश रहे, बात अदा हो जाए

इस तरह जुर्म के एहसास को बेदार करो
जिस्म आज़ाद रहे और सज़ा हो जाए

इस को मैं देखूं तो इस तरह से देखूं नुज़हत
शर्म आँखों में रहे और ख़ता हो जाए

سوجاتے ہے ٖفٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر—- منور رانا

.

ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے

بچے ہے تو کیو شوق سے مٹھی نہیں کھاتے

.

تجھ سے نہیں ملنے کا ارادہ تو ہے لیکن

تجھ سے نہ ملیں گے یہ قسم بھیں نہی کھاتے

.

سو جاتے ہے فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہی کھاتے

.

بچے بھی غریبی کو سمجھنے لگے شاید
اب جاگ بھی جاتے ہے تو سحری نہیں کھاتے

.

دعوت تو بڑی چیز ہے ہم جیسے قلندر

ہر ایک کے پیسے کی دوا بھی نہیں کھاتے

.

اللہ غریبوں کا مددگار ہے ‘رانا’

ہم لوگو کے بچے کبھی سردی نہیں کھاتے

सो जाते है फुटपाथ पे अखबार बिछाकर—मुनव्वर राना

.

हसते हुए माँ-बाप की गाली नहीं खाते
बच्चे है तो क्यो शौक से मिट्ठी नहीं खाते

.

तुझ से नहीं मिलने का इरादा तो है लेकिन

तुझसे न मिलेंगे ये कसम भीं नही खाते

.

सो जाते है फुटपाथ पे अखबार बिछाकर
मजदूर कभी नींद की गोली नही खाते

.

बच्चे भी गरीबी को समझने लगे शायद
अब जाग भी जाते है तो सहरी नहीं खाते

.

दावत तो बड़ी चीज़ है हम जैसे कलंदर
हर एक के पैसे की दवा भी नहीं खाते

.

अल्लाह गरीबो का मददगार है ‘राना’
हम लोगो के बच्चे कभी सर्दी नहीं खाते

Posted by: Bagewafa | اپریل 29, 2017

اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔۔ظفر آغا

 

>تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وسیم بریلوی

 

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

اسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے

محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے
یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے

جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا
انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے

خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا
برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے

بساتے عشق پہ بڑھنا کسے نہیں آتا
یہ اور بات که بچنے کے گھر نہیں آتے

وسیم ذہن بناتے ہیں تو وہی اخبار
جو لیکے ایک بھی اچھی خبر نہیں آتے

तुम्हारी राह में मिट्टी के घर नहीं आते– वसीम बरेलवी

 

तुम्हारी राह में मिट्टी के घर नहीं आते
इसीलिए तो तुम्हें हम नज़र नहीं आते

मुहब्बतों के दिनों की यही ख़राबी है
ये रूठ जाएँ तो फिर लौटकर नहीं आते

जिन्हें सलीका है तहज़ीब-ए-ग़म समझने का
उन्हीं के रोने में आँसू नज़र नहीं आते

ख़ुशी की आँख में आँसू की भी जगह रखना
बुरे ज़माने कभी पूछकर नहीं आते

बिसाते-इश्क पे बढ़ना किसे नहीं आता
यह और बात कि बचने के घर नहीं आते

वसीम जहन बनाते हैं तो वही अख़बार
जो लेके एक भी अच्छी ख़बर नहीं आते

غم عاشقی تیرا شکریہ…….عرش ملسیانی

.

کبھی اس مکاں سے گزر گیا

کبھی اس مکاں سے گزر گیا

.

تیرے آستان کی تلاش میں

میں ہر آستاں سے گزر گیا

.

جسے لوگ کہتے ہیں، زندگی

وہ تو حادثوں کا ہجوم ہے

.

یہ تو کہیے میرا ہی کام تھا

کہ میں درمیاں سے گزر گیا

.

یہ تو میرا ذوق کمال ہے

مگر اس کو دیکھ میرے خدا

.

تو نے روکا مجھ کو جہاں جہاں

میں وہاں وہاں سے گزر گیا

.

کبھی تیرا در کبھی دربدر

کبھی عرش پر کبھی فرش پر

.

غم عاشقی تیرا شکریہ

میں کہاں کہاں سے گزر گیا

.

کبھی اس مکاں سے گزر گیا

کبھی اس مکاں سے گزر گیا

गमे आशिकी तेरा शुक्रिया…..अर्श मलसियानी

 .

कभी इस मकां से गुज़र गया

 कभी इस मकां से गुज़र गया

 .

 तेरे आस्तां की तलाश में

 मैं हर आस्तां से गुज़र गया

 .

 जिसे लोग कहते हैं, ज़िंदगी

 वो तो हादिसों का हुजूम है

 .

 ये तो कहीए मेरा ही काम था

 कि मैं दरमियां से गुज़र गया

 .

 ये तो मेरा ज़ौक़ कमाल है

 मगर उस को देख मेरे ख़ुदा

 तो ने रोका मुझको जहां-जहां

 मैं वहां वहां से गुज़र गया

.

 कभी तेरा दर कभी दरबदर

 कभी अर्श पर कभी फ़र्श पर

 .

 गुम-ए-आशिक़ी तेरा शुक्रिया

 मैं कहां कहां से गुज़र गया

 .

 कभी इस मकां से गुज़र गया

 कभी इस मकां से गुज़र गया

یاد آتی ہے رات بھر۔۔۔۔۔۔۔فیض احمد فیض۔۔مخدم

(Courtesy:Urdu daily..Rabta Times 8 April2017)

Azamgarh Express
6 hrs ·

गौ भक्तों की असलियत तो देखते जाए
गाये के नाम पर दोसरो को मारने वाले इसपर जवाब कौन देगा !

जिनको इंसान से प्रेम नही हो सकता वो जानवर से किया प्रेम करेंगे

 دل ہی دُکھانے کے لئے آ—-۔ احمد فراز

.

رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

.

کچھ تو مرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ

تُو بھی تَو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ

.

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تَو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کیلئے آ

.

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تَو زمانے کے لئے آ

.

اک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ

.

اب تک دلِ خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

.

مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جتانے کے لیے آ

.

جیسے تمہیں آتے ہیں نہ آنے کے بہانے

ایسے ہی کسی روز نہ جانے کے لیے آ

 

दिल ही दु:खानेके लिए आ – अहमद फ़राज

 .

रंजिश ही सही दिल ही दुखाने के लिए आ

आ फिर से मुझे छोड़ के जाने के लिए आ

 .

कुछ तो मिरे पिंदार-ए-मोहब्बत का भरम रख

तू भी तो कभी मुझ को मनाने के लिए आ

.

पहले से मरासिम न सही फिर भी कभी तो

रस्म-ओ-रह-ए-दुनिया ही निभाने के लिए आ

 .

किस किस को बताएँगे जुदाई का सबब हम

तू मुझ से ख़फ़ा है तो ज़माने के लिए आ

 .

इक उम्र से हूँ लज़्ज़त-ए-गिर्या से भी महरूम

ऐ राहत-ए-जाँ मुझ को रुलाने के लिए आ

 .

अब तक दिल-ए-ख़ुश-फ़हम को तुझ से हैं उम्मीदें

ये  आखरी  शमआ बुझानेके  लिए  आ

.

New Challenges Before the Indian Nation
— Abhay Kumar Dubey (Recorded) Courtesy:Ali Sorab

मौजूदा सियासी हालात और आम आदमी की राय!
Farrah Sakeb,नवेद चौधरी,Anwar Khan,Ali Zakir,Nisar Sahab,इस्माइल साहब,Shaan Gahlot,Gulzar Sahab,Asif Rn !!

ربِ کونین میرے دل کی دعائیں سُن

 

ربِ کونین میرے دل کی دعائیں سُن لے

میں ہوں بے چین میرے دل کی صدائیں سُن لے

شان اعلٰی ہے تیری مالک و مُختار ہے تُو

مجھ کو معلو م ہے دنیا کا مدد گار ہے تُو

میں ہوں محتاج مجھے علم کی دولت دے دے

اپنے انمول خزانے سے انعمت دے دے

میں ہوں کمزور مجھے دولتِ ایماں دے دے

ناتواں بندے سے بھی دین کی خدمت لے لے

جلوہءِ حق سے میرے دل کو فِروزاں کر دے

نور اسلام کا چہرے پہ نمایا ں کر دے

ربِ کونین میرے دل کی دعائیں سُن لے

میں ہوں بے چین میرے دل کی صدائیں سُن لے

میں پریشان ہوں سرمایہ ِ راحت دے دے

اپنے محبوب کی سچی محبت دے دے

جس کے صدقے میں دو عالم کو بنایا تُو نے

میرے محبوب جسے کہہ کر بلایا تُو نے

واسطہ اُس کا گناہ گار کی بخشش کر دے

اپنے اس بندہِ نادل پہ نوازش کر دے

نور اسلام کا چہرے پہ منور کر دے

آمین

रब-ए-कौनैन मेरे दिल की दुआएं सुन ले

 

 

 रब-ए-कौनैन मेरे दिल की दुआएं सुन ले

 मैं हूँ बेचैन मेरे दिल की सदाएँ सुन ले

 शान आला है तेरी मालिक-ओ-मुख़तार है तू

 मुझको मालूम है दुनिया का मददगार है तू

 मैं हूँ मुहताज मुझे इलम की दौलत दे दे

 अपने अनमोल खज़ाने से अनामत दे दे

 मैं हूँ कमज़ोर मुझे दौलत-ए-ईमां दे दे

 नातवां बंदे से भी दीन की ख़िदमत ले-ले

जिलौ हुइ हक़ से मेरे दिल को फ़रोज़ां कर दे

 नूर इस्लाम का चेहरे पे नुमायां कर दे

 रब-ए-कौनैन मेरे दिल की दुआएं सुन ले

 मैं हूँ बेचैन मेरे दिल की सदाएँ सुन ले

 मैं परेशान हूँ सरमायाॱएॱ राहत दे दे

 अपने महबूब की सच्ची मुहब्बत दे दे

 जिसके सदक़े में दो-आलम को बनाया तू ने

 मेरे महबूब जिसे कह कर बुलाया तू ने

 वास्ता उस का गुनाहगार की बख़शिश कर दे

 अपने इस बंदा-ए-ना दिल पे नवाज़िश कर दे

 नूर इस्लाम का चेहरे पे मुनव्वर कर दे

Posted by: Bagewafa | مارچ 18, 2017

बारिश, हां वही बारिश

बारिश, हां वही बारिश 

बारिश, हां वही बारिश

बारिश, हां वही बारिश, वही बारिश जो आसमान से आती थी,
बूंदों में गाती थी, पहाड़ों से फिसलती थी, नदियों में चलती थी,नहरों में मचलती थी, बारिश…
हां, हां वही बारिश, जो आजकल कहीं खो गई है, या फिर थककर सो गई है,
शायद ऐसा भी हो सकता है, बिना आंसू बादल रो सकता है
हमने भी कितने पेड़ तोड़ दिए, संसद की कुर्सियों में जोड़ दिए,
हमने कुएं बुझा दिए, नदियां सूखा दीं, विकास की ताकत से कुदरत झुका दी।
शुक्र है, अब बच्चे शर्म से नहीं मरेंगे, चुल्लू भर पानी के लिए जरूर दुआ करेंगे,
हम शेख चिल्ली नहीं, हम कहां साख पर बैठे हैं,
हम सब अपने शहरों में गांव की राख पर बैठे हैं,
शहर में आज भी पानी कम नहीं, मगर पता नहीं क्यों हमारी आंखें नम नहीं,
जवान देश की मिट्टी के लिए, किसान खेत की मिट्टी के लिए परेशान है,जाग रहा है पता नहीं शहरों की भीड़ में ,कौन किसके लिए जाग रहा है, किसके लिए भाग रहा है।
किसान की समस्या खत्म नहीं होती, पैकेज तो हर साल अस्सी है,
एक भी काम नहीं आता, छुटकारे के लिए बस, एक रस्सी है,
परेशान दोनों हैं, हम सास बहू के रिश्तों में, और किसान लोन की किश्तों में।
बैंक, बीमार, पेस्टीसाइड, दहेज, मंत्रालय, किसान कहां-कहां भटक सकता है,
इंसानों से अच्छा तो आज सूखा पेड़ है, कम से कम उससे लटक तो सकता है।
लेकिन कब तक, कब तक हाथों पर हाथ धरे बारिश का इंतजार करें?
मेंढक की शादी से दिल बहलाएं, नंदी बैल की हां में हां मिलाएं कब तक?
सुना था राजस्थाना में एक जुहरे वाला बाबा है..सहरा से पानी लेककर आया है,राजिंद्रसिंह नाम है दुनिया में छाया है..हमारी बीच भी कोई होगा न..बारिश वाला बाबा.

फिल्मों में बहुत देखे हैं, हां वही, वो आ गया है, सस्ती, सुंदर, टिकाऊ बारिशवाला,
वो फिल्मी नहीं है, हमने कहां उसे ठीक से जाना है, कोई भगवान नहीं, कोई बाबा नहीं, बस हमारा नाना है।
अब हम जान नहीं देंगे, जान लगा देंगे, बारिश को बुलाने के काम में, हमारे अपने नाम में,
उम्मीद है गांव को देख आपकी भीगी आंखें सरकार ही नहीं, भगवान को भी जगा देंगी
अगले साल सस्ती सुंदर टिकाऊ बारिश हम सबको भिगा देगी, हम सबको भिगा देगी

2-बारिश !

हां मेरे दोस्त वही बारिश.
वही बारिश जो आसमान से आती है
बूंदों मैं गाती है
पहाड़ों से फिसलती है
नदियों मैं चलती है
नहरों मैं मचलती है
कुंए पोखर से मिलती है
खप्रेलो पर गिरती है
गलियों मैं फिरती है
मोड़ पर संभालती है
फिर आगे निकलती है व
ही बारिश
ये बारिश अक्सर गीली होती है
इसे पानी भी कहते हैं उर्दू में
आप मराठी में पानी
तमिळ में कन्नी कन्नड़ में नीर
बंगला में… जोल केह्ते हैं
संस्‍कृत में जिसे वारि
नीर जीवन पै अमृत पै अम्बु भी केह्ते हैं
ग्रीक में इसे aqua pura
अंग्रेजी में इसे water फ्रें
च में औ’ और केमिस्ट्री में H2O केह्ते हैं
ये पानी आंखों से ढलता है तो आंसू कहलता है
लेकिन चेहरे पर चढ़ जाये तो रुबाब बन जाता है
हां…कोई शर्म से पानी पानी हो जाता है
और कभी कभी यह पानी सरकारी फाइलों में अपने कुंए समेत चोरी हो जाता है
पानी तो पानी है
पानी जिन्दगानी है
इसलिए जब रूह की नदी सूखी हो
और मन का हिरण प्यासा हो
दीमाग में लगी हो आग
और प्यार की घागर खाली हो
तब मैं….हमेशा ये बारिश नाम का गीला पानी लेने की राय देता हूं
मेरी मानिए तो
ये बारिश खरीदिये
सस्ती सुन्दर टिकाऊ बारिश
सिर्फ 5 हज़ार रुपये में
इस्से कम में दे कोई तो चोर की सज़ा वो मेरी
आपकी जूती सिर पर मेरी
मेरी बारिश खरीदये
सस्ती सुन्दर टिकाऊ बारिश

 

قیامت کبھی کبھی ۔۔۔۔۔۔ ناصر کاظمی

.

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

.

اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب

ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی

تیرے کرم سے اے اَلمِ حسن آفریں

دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی

جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ

اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی

.

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا

گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

.

کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا

یوں بھی گزر گئ شبِ فرقت کبھی کبھی

.

اے دوست ہم نے ترکِ محبّت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

.

क़यामत कभी कभी —-नासिर काज़मी

 .

होती है तेरे नाम से वहशत कभी कभी

बरहम हुई है यूँ भी तबीअत कभी कभी

.

ऐ दिल किसे नसीब ये तौफ़ीक़-ए-इज़्तिराब

मिलती है ज़िंदगी में ये राहत कभी कभी

.

तेरे करम से ऐ अलम-ए-हुस्न-आफ़रीं

दिल बन गया है दोस्त की ख़ल्वत कभी कभी

.

जोश-ए-जुनूँ में दर्द की तुग़्यानियों के साथ

अश्कों में ढल गई तिरी सूरत कभी कभी

.

तेरे क़रीब रह के भी दिल मुतमइन न था

गुज़री है मुझ पे ये कयामत  कभी कभी

.

कुछ अपना होश था न तुम्हारा ख़याल था

यूँ भी गुज़र गई शब-ए-फ़ुर्क़त कभी कभी

.

ऐ दोस्त हम ने तर्क-ए-मोहब्बत के बावजूद

महसूस की है तेरी ज़रूरत कभी कभी

طشتری میں باپ نے پایا جواں بیٹے کا سر۔۔۔۔۔۔ شکیل قادری

 

چھین کر ہونٹوں سے پریوں کی کہانی لے گئی

مفلسی معصوم بچوں کی نشانی لے گئی

.

طشتری میں باپ نے پایا جواں بیٹے کا سر

چھین کر جب بدنصیبی راجدھانی لے گئی

.

چھین لی ہے چاندنی نے تیرے چہرے کی چمک

اور گھنے بالوں کی خوشبو رات رانی لے گئی

.

گاؤں سے اس شہر میں پنہاری کل جو آئی تھی

اپنے قوزے میں وہ میری خاندانی لے گئی

.

اس کو کر دے گا بڈھاپا ہی مکمل اب ‘شکیل’

نا مکمل جو کہانی نوجوانی لے گئی

 .

 

 

 .

तश्तरी में बापने पाया जवाँ बेटे का सर…शकील क़ादरी

छीन कर होंटों से परियों की कहानी ले गई

मुफ़्लिसी मासूम बच्चों की निशानी ले गई

 .

तश्तरी में बापने पाया जवाँ बेटे का सर

छीन कर जब बदनसीबी राजधानी ले गई

 .

छीन ली है चाँदनीने तेरे चह्रे की चमक

और घने बालों की ख़ुश्बू रातरानी ले गई

.

गाँव से इस शह्र में पनिहारी कल जो आई थी

अपने क़ूज़े में वो मेरी ख़ानदानी ले गई

.

उस को कर देगा बुढापा ही मुकम्मिल अब ‘शकील’

नामुकम्मिल जो कहानी नौजवानी ले गई

میرے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔راجیش ریڈی

.

.

 

زندگی تو نے لہو لے کے دیا کچھ بھی نہیں

تیرے دامن میں میرے واسطے کیا کچھ بھی نہیں

.

میرے اِن ہاتھوں کی چاہو تو تلاشی لے لو

میرے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں

 .

یا خدا اب کے یہ کس رنگ سے آئی ہے بہار

زرد ہی زرد ہے پیڑوں پہ ، ہرا کچھ بھی نہیں

.

دل بھی اک ضد پہ اڑا ہے کسی بچے کی طرح

یا تو سب کچھ ہی اِسے چاہئے یا کچھ بھی نہیں

मेरे हाथों में लकीरों के सिवा कुछ भी नहीं—– राजेश रेड्डी

 .

.

ज़िन्दगी तूने लहू ले के दिया कुछ भी नहीं|

तेरे दामन में मेरे वास्ते क्या कुछ भी नहीं|

 .

मेरे इन हाथों की चाहो तो तलाशि ले लो,

मेरे हाथों में लकीरों के सिवा कुछ भी नहीं|

 .

या ख़ुदा अब के ये किस रंग से आई है बहार,

ज़र्द ही ज़र्द है पेड़ों पे हरा कुछ भी नहीं|

.

दिल भी इक ज़िद पे अड़ा है किसी बच्चे की तरह,

या तो सब कुछ ही इसे चाहिये या कुछ भी नहीं|

Syed Shahabuddin: the most misunderstood politician

 Original_syed-shahabuddin

The misunderstood leader, politician, intellectual, activist.

Syed Shahabuddin happens to be one of the most misunderstood politicians and is probably the worst victim of hostile media. Given his contribution and services to the Indian Muslims he does not deserve the ungratefulness as being so ignorantly displayed by some of us.

With a gold medal from Patna University and successful diplomatic career, had he compromised on his principles he would surely have become president or at least vice president of India and would now be living a peaceful and comfortable life earning praises from everyone, including media network.

After being nominated as a Janata Dal MP in the Rajya Sabha he articulated Muslims’ grievances, asked questions and kept an open eye on all the ills pestering Indian Muslims. Undeterred by the hostility of the media as well as his own party he kept on speaking and writing on Muslim issues and paid the price by never being able to return to the parliament. In this respect (being in a secular party and still articulating Muslims’ issues), except Maulana Hifzurrehman Saheb, he has no match in post-independent India. It was him who, in the 80s assembled Muslim MPs, from all the parties, and met the then Prime Minister Mrs Indira Gandhi to highlight the problems being faced by Muslims in India. I still remember an editorial in the Times of India headed, “Playing with fire” in which Shahabuddin Saheb was viciously vilified.

No Muslim or non-Muslim politician has written so much on Muslim issues as Shahabuddin. One of his most outstanding contributions to the Muslim community is the Muslim India, a journal of research and documentation that no research scholar working on Indian Muslims can afford to ignore.

There is not a single thing, either in his writings or speeches that would put him in the category of either a communalist or a fundamentalist. A communalist! What an absurd idea? Only because he stood to protect Muslim personal law – a right enshrined in the constitution of India he was branded so. Because in the wake of Moradabad riots, 1980, his was the most courageous speech in the parliament. Because he spoke against the Hindutva fascists. And when he demanded ban on Salman (Shaitan) Rushdi’s novel, he was even called a fundamentalist (sic).

Four years ago a friend of mine, Dr Hilal Ahmed, during his PhD at the the School of Oriental and African Studies (SOAS), London, wrote a well-researched paper, based on Shahabuddin’s editorials published in Muslim India. When he showed it to his supervisor, a leading expert on Indian politics the gentleman remarked that so far his impression of Shahabuddin Saheb was based on media reports and that was the first time he had actually read his writings. “From this he comes out to be a brilliant political thinker”, the expert told my friend.

But such is the ungrateful nature of our community that a professor from the Department of Political Science of AMU met Hilal Saheb at a seminar and himself requested him to contribute to his journal. Hilal Saheb abridged the aforementioned paper and sent it to the learned Professor. However, the Professor refused to publish the paper saying that in his view neither Shahabuddin was an intellectual nor an activist.

(courtesy: Milli Gazette)

गर्मी-ए-हसरत-ए-नाकाम से जल जाते हैं —-क़तील शिफ़ाई

.

.

 

गर्मी-ए-हसरत-ए-नाकाम से जल जाते हैं

हम चराग़ों की तरह शाम से जल जाते हैं

.

बच निकलते हैं अगर आतिह-ए-सय्याद से हम

शोला-ए-आतिश-ए-गुलफ़ाम से जल जाते हैं

.

ख़ुदनुमाई तो नहीं शेवा-ए-अरबाब-ए-वफ़ा

जिन को जलना हो वो आराअम से जल जाते हैं

.

शमा जिस आग में जलती है नुमाइश के लिये

हम उसी आग में गुमनाम से जल जाते हैं

.

जब भी आता है मेरा नाम तेरे नाम के साथ

जाने क्यूँ लोग मेरे नाम से जल जाते हैं

.

रब्ता बाहम पे हमें क्या न कहेंगे दुश्मन

आशना जब तेरे पैग़ाम से जल जाते हैं

.

.

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں – قتیل شفائی

 .

.

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

.

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

 .

خود نمائی تو نہیں شیوہء اربابِ وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

.

بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم

شعلہء عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں

 .

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

 .

رابتہ باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن

آشنا جب تیرے پیغام سے جل جاتے ہیں

नजीब की मांकी फरियाद…….इमरान प्रतापगढी

 

 .

सुना था कि बेहद सुनहरी है दिल्ली,

समंदर सी ख़ामोश गहरी है दिल्ली

.

मगर एक मॉं की सदा सुन ना पाये,

तो लगता है गूँगी है बहरी है दिल्ली

.

वो ऑंखों में अश्कों का दरिया समेटे,

वो उम्मीद का इक नज़रिया समेटे

.

यहॉं कह रही है वहॉं कह रही है,

तडप करके ये एक मॉं कह रही है

कोई पूँछता ही नहीं हाल मेरा…..!

कोई ला के दे दे मुझे लाल मेरा

 .

उसे ले के वापस चली जाऊँगी मैं,

पलट कर कभी फिर नहीं आऊँगी मैं

.

बुढापे का मेरे सहारा वही है,

वो बिछडा तो ज़िन्दा ही मर जाऊँगी मैं

.

वो छ: दिन से है लापता ले के आये,

कोई जा के उसका पता ले के आये

 .

वही है मेरी ज़िन्दगी का कमाई,

वही तो है सदियों का आमाल मेरा

.

कोई ला के दे दे मुझे लाल मेरा!

 .

ये चैनल के एंकर कहॉं मर गये हैं,

ये गॉंधी के बंदर कहॉं मर गये हैं

.

मेरी चीख़ और मेरी फ़रियाद कहना,

ये मोदी से इक मॉं की रूदाद कहना

 .

कहीं झूठ की शख़्सियत बह ना जाये,

ये नफ़रत की दीवार छत बह ना जाये

.

है इक मॉं के अश्कों का सैलाब साहब,

कहीं आपकी सल्तनत बह ना जाये

 .

उजड सा गया है गुलिस्तॉं वतन का

नहीं तो था भारत से ख़ुशहाल मेरा

 .

कोई ला के दे दे मुझे लाल मेरा।

نجیب کی ماں کی فریاد۔۔۔۔عمران پرتاپ گھڑی

 

سنا تھا که بیحد سنہری ہے دہلی،

سمندر سی خاموش گہری ہے دہلی

 .

مگر ایک ماں کی صدا سن نہ پائے،

تو لگتا ہے گونگی ہے بحری ہے دہلی

 .

وہ آنکھوں میں اشکوں کا دریا سمیٹے،

وہ امید کا اک نظریہ سمیٹے

 .

یہاں کہہ رہی ہے وہاں کہہ رہی ہے،

تڑپ کرکے یہ ایک ماں کہہ رہی ہے

 .

کوئی پوچھتا ہی نہیں حال میرا…۔۔!

کوئی لا کے دے دے مجھے لال میرا

.

اسے لے کے واپس چلی جاؤنگی میں،

پلٹ کر کبھی پھر نہیں آؤنگی میں

 .

بڈھاپے کا میرے سہارا وہی ہے،

وہ بچھڑا تو زندہ ہی مر جاؤنگی میں

 .

وہ کئ: دن سے ہے لاپتہ لے کے آئے،

کوئی جا کے اسکا پتہ لے کے آئے

 .

وہی ہے میری زندگی کا کمائی،

وہی تو ہے صدیوں کا اعمال میرا

 .

کوئی لا کے دے دے مجھے لال میرا!

 .

یہ چینل کے اینکر کہاں مر گئے ہیں،

یہ گاندھی کے بندر کہاں مر گئے ہیں

.

میری چیخ اور میری فریاد کہنا،

یہ مودی سے اک ماں کی روداد کہنا

 .

کہیں جھوٹھ کی شخصیت بہہ نہ جائے،

یہ نفرت کی دیوار چھت بہہ نہ جائے

 .

ہے اک ماں کے اشکوں کا سیلاب صاحب،

کہیں آپکی سلطنت بہہ نہ جائے

 .

اجڑ سا گیا ہے گل ستاں وطن کا

نہیں تو تھا بھارت سے خوشحال میرا

 .

کوئی لا کے دے دے مجھے لال میرا۔

.

تھا کتنا دل خراش اداسی کا قہقہہ۔۔۔۔۔کفیل اعظم امروہوی

۔

تنہائی کی گلی میں ہواوٴں کا شور تھا

آنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہوا

۔

سینے میں جیسے تیر سا پیوست ہو گیا

تھا کتنا دل خراش اداسی کا قہقہہ

۔

یوں بھی ہوا که شہر کی سڑکوں پہ بار ہا

ہر شخص سے میں اپنا پتہ پوچھتا پھرا

۔

برسوں سے چل رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ

ہے کون شخص اس سے میں اک بار پوچھتا

۔

دل میں اتر کے بجھ گئی یادوں کی چاندنی

آنکھوں میں انتظار کا سورج پگھل گیا

۔

چھوڑی ہے ان کی چاہ تو اب لگ رہا ہے یوں

جیسے میں اتنے روز اندھیروں میں قید تھا

۔

میں نے ذرا سی بات کہی تھی مذاق میں

تم نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھا لیا

۔

کمرے میں پھیلتا رہا سگریٹ کا دھواں

میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا

۔

‘اعظم یہ کس کی سمت بڑھے جا رہے ہیں لوگ

اس شہر میں تو میرے سوا کوئی بھی نہ تھا

۔

था कितना दिल-ख़राश उदासी का क़हक़हा—–कफील आजम अमरोहवी

तन्हाई की गली में हवाओं का शोर था

आँखों में सो रहा था अँधेरा थका हुआ

.

सीने में जैसे तीर सा पैवस्त हो गया

था कितना दिल-ख़राश उदासी का क़हक़हा

.

यूँ भी हुआ कि शहर की सड़कों पे बार-हा

हर शख़्स से मैं अपना पता पूछता फिरा

.

बरसों से चल रहा है कोई मेरे साथ साथ

है कौन शख़्स उस से मैं इक बार पूछता

.

दिल में उतर के बुझ गई यादों की चाँदनी

आँखों में इंतिज़ार का सूरज पिघल गया

.

छोड़ी है उन की चाह तो अब लग रहा है यूँ

जैसे मैं इतने रोज़ अँधेरों में क़ैद था

.

मैं ने ज़रा सी बात कही थी मज़ाक़ में

तुम ने ज़रा सी बात को इतना बढ़ा लिया

.

कमरे में फैलता रहा सिगरेट का धुआँ

मैं बंद खिड़कियों की तरफ़ देखता रहा

.

‘आज़र’ ये किस की सम्त बढ़े जा रहे हैं लोग

इस शहर में तो मेरे सिवा कोई भी न था

کیفی اعظمی اچھے شاعر ،بڑے اِنسان۔۔۔۔محمد وصی اللہ حسینی

k1k2k3kaifi4(Courtesy:Daily Shahafat Urdu daily)

ہواوں کو بلایا ہے دیوں کی پیروی کرنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تسلیم اِلاہی زلفی

0045-0046-gh-deay-aamadah-bethay-gif002


علم سولی پہ چڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحر لدھیانوی

 

  علم سولی پہ چڑھا تب کہیں تخمینہ بنا

زہر صدیوں نے پیا تب کہیں نوشینہ بنا

سینکڑوں پاؤںکٹے تب کہیں اک زینہ بنا

۰۰۰مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والے

یہاں بہار نہیں آتشیں بگولے میں

دھنک کے رنگ نہیں سرمئی فضاؤں میں

افق سے تا بہ افق پھانسیوں کے جھولے ہیں

۰۰۰بنام امن ہیں جنگ و جدل کے منصوبے

بہ شور عدل، تفاوت کے کارخانے ہیں


इलम सूली पे चढ़ा।——साहिर लुधियानवी

 

इलम सूली पे चढ़ा तब कहीं तख़मीना बना

ज़हर सदीयों ने पिया तब कहीं नौशीना बना

सैंकड़ों पांव कटे तब कहीं इक ज़ीना बना

०००मरे जहां में समन-ज़ार ढ़ूढ़ने वाले

यहां बहार नहीं आतिशीं बगोले में

धनक के रंग नहीं सुरमई फ़िज़ाओं में

उफक़ से ता ब उफक़ फांसीयों के झूले हैं

०००बनाम अमन हैं जंग-ओ-जदल के मंसूबे

ये शोर अदल, तफ़ावत के कारख़ाने हैं

 

 

 

 

अगर ‘बलात्कार’ शब्द से आपका खून खौलता है, तो पढ़िए वीरांगना फूलन देवी पर लिखी ये कविता…

 

 

 

जब मैं बुड्ढा हो जाऊँगा—–धर्मवीर यादव ‘गगन’

जब मैं बुड्ढा हो जाऊँगा

तब मेरा बेटा मेरी गोद में बैठकर

मेरी जवानी के किस्से पूछेगा

मैं आंसू बहाते हुए

बस यही कह पाऊंगा

मेरे बच्चे

मेरी जवानी में कोई ‘वीरांगना फूलन’ नहीं थीं

इसलिए वो दरिंदे

किसी की भी गर्दन काटकर

रस्सी में बाँध

पेड़ से लटका देते

किसी जवान लड़की का

रेप कर उसे जिन्दा जला देते

या उसकी हत्या कर

उसे पेड़ से लटका देते

हम सब उस समय उस टँगी हुई

लाश के चारो ओर बैठकर विलखते रहते

जब बच्चा पूछेगा

कि बाबा आप लोग

‘बुआ फूलन’ क्यों नहीं बन गए ?

हम कुछ नहीं बोल पाएंगे

तब भी बैठे – बैठे हम आंसू बहाएंगे.

मेरा बच्चा मेरी गोंद से उठकर

मेरी आँखों में आँखें डालकर

घूरते हुए फूलन बन, वहां जाएगा

जहाँ कोई निहत्था लड़ रहा होगा

तलवार बाज हाथों से;

उस निहत्थे हाथ को मजबूत करेगा —

मनुष्यता के लिए

समानता के लिए

बंधुता के लिए l

—–धर्मवीर यादव ‘गगन’

(courtesy:National जनमत)

خاموش ہے۔۔۔محمد علی وف

۔.

 

تیر بھی خاموش ہے، تلاوار بھی خاموش ہے

خنجروں کی وہ چمکتی دھار بھی خاموش ہے

.

لوٹ رہا تھا اس چمن کے ماتھے کا سیندور جب

خون سے رنگا ہوہوا بازار بھی خاموش ہے

.

قفل کیسے لگ گیا انسانیت کے ہونٹ پر

انکے در خاموش ہے ، دیوار بھی خاموش ہے

 .

آنکھیں رہی  اپنی، اور زبان لٹکی ہوئ ادھ خلی

دیکھنا ہے سبھی ۔ دیدار بھی خاموش ہے

 .

فصلیں  اب ہمارے سامنے کٹ رہی ہے سر کی

باغباں دیکھا کیا، بیدار بھی خاموش ہے

 .

میں وفا  یہ دیکھ کر سر تھام  کر روتا رہا

اس شہر کے حق نوا کردار بھی خاموش ہے

 

 

 

 


ख़ामोश है।।।मुहम्मद अली वफ़ा

 

.

 तीर भी ख़ामोश है, तलावार भी ख़ामोश है

 ख़ंजरों की वो चमकती धार भी ख़ामोश है

.

 लूट रहा था इस चमन के माथे का सींदूर जब

 ख़ून से रंगा हुवा बाज़ार भी ख़ामोश है

 .

क़ुफल कैसे लग गया इन्सानियत के होंट पर

 उनके दर ख़ामोश है , दीवार भी ख़ामोश है

 .

 अध,खुली आँखें रही, और ज़बान लटकी हुई

 देखना है सभी । दीदार भी ख़ामोश है

 .

कटा रही  है सरकी फस्लें अब हमारे सामने

 बाग़बाँ देखा क्या, बेदार भी ख़ामोश है

 .

 मैं वफ़ा ये देखकर सर थाम कर रोता रहा

 इस शहर के हक़ नवा किरदार भी ख़ामोश है

Older Posts »

زمرے